آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دو دن کی بارش کراچی شہر کو لے ڈوبی، کہیں کہیں تو کمر تک پانی تھا تو کہیں گردن تک۔ بارش اتنی زیادہ تو نہیں تھی ہاں پانی کو نکاسی کے ذرائع میسر نہیں تھے۔ اس شہر کی بدقسمتی یہ ہے کہ اختیار کسی کا ہے اقتدار کسی کا ہے، جلتی پر تیل ڈالنے والے کوئی اور ہیں اقتدار و اختیار کی رسہ کشی نے کراچی کا بیڑا غرق کر دیا ہے اوپر سے کریلا نیم چڑھا مرکز اپنا پورا زور لگا رہا ہے کسی طرح سندھ کی جان پیپلز پارٹی سے چھڑائی جائے۔ مرکزی حکومت کے ارکان سندھ اسمبلی کی پوری کوشش ہے کہ وہ کراچی کےحالات بد سے بدتر کس طرح کریں تاکہ پیپلز پارٹی تنگ آمد بجنگ آمد خود مرکز سے درخواست کرے کہ کراچی میں گورنر راج نافذ کردیا جائے۔

یہ وہی شہر تھا جسے جماعت اسلامی کے مئیر جناب نعمت اللہ خان نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے چار چاند لگادیے تھے، کراچی کو ایک مثالی شہر بنا دیا گیا تھا۔ اُن کے بعد آنے والے مئیر مصطفیٰ کمال جن کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا، یہ جماعت اس وقت اپنے عروج میں ہر قسم کی بدنامی میں ملوث تھی، اس کے باوجود شہر میں ہر طرف بھرپور ترقیاتی کام ہوئے، مصطفیٰ کمال کو دنیا کا بہترین مئیر ہونے کے بین الاقوامی اعزاز سے نوازا گیا۔ مصطفیٰ کمال کے بعد ان چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ ان کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت تو آئی لیکن بلدیاتی نظام ایم کیو ایم کے ہاتھ رہا ایمُ کیو ایم کو چونکہ اقتدار میں حصہ نہیں مل سکا اس لئے ان میں رسہ کشی شروع ہو گئی، نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے والا رویہ اپنا لیا۔ اس کے جواب میں پیپلز پارٹی نے بھی اپنا رویہ سخت کرلیا اور ایم کیو ایم کے بلدیاتی کاموں کے رستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے اُسے ناکارہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی۔ پونے تین کروڑ آبادی کے شہر کو اقتدار کی کشمکش نے کچرا کنڈی بنا دیا، اقتدار اور انتظام کی انتقامی جنگ نے کراچی کا حشر نشر کر دیا ہے۔ دراصل سارا مسئلہ فنڈ کا ہے، مئیر کے قول کے مطابق جو فنڈ حکومتِ سندھ دیتی ہے اُس سے ملازمین کی تنخواہیں بھی پوری نہیں ہوتیں تو ترقیاتی کام کہاں سے ہوں جبکہ سندھ کے وزیر بلدیات اور وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ بلدیہ کی ضرورت کے مطابق فنڈ مہیا کئے جاتے ہیں مئیر کام کرناہی نہیں چاہتے۔

کراچی کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں سندھ حکومت اپنے مینڈیٹ پر پورا نہیں اُتر سکی اس لئے مجبوراً کراچی میں فوج نے صفائی ستھرائی کا کام سنبھال لیا۔ بڑے پیمانے پر نالوں کی صفائی کا آغاز این ڈی ایم اے کی زیر نگرانی شروع کیا جا چکا ہے، ساتھ ہی افواجِ پاکستان کی زیر نگرانی ایف ڈبلیو او کی مشینری کی مدد سے کام شروع کر دیا گیا ہے، نارتھ ناظم آباد اور گجر نالوں کی صفائی کا کام جاری ہو چکا ہے، ایف ڈبلیو او کی پچاس سے زیادہ کرینیں ڈمپر فوج اور رینجرز کی نگرانی میں کام کررہی ہیں۔ پہلا موقع ہے کہ کراچی کے نالوں کی اس طرح منظم طریقہ سے صفائی کی جارہی ہے۔ بارش سے نمٹنے کے لئے بڑے پیمانے پر کام شروع ہو چکا ہے، امید ہے کہ آنے والے دنوں میں ہونے والی بارش سے اس قدر نقصانات نہیں ہونگے، جس قد رنقصان گزشتہ چند روزہ بارش سے ہوا۔

چیئر مین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمدافضل کاکہناہے کہ شہر کے بڑے نالے ایف ڈبلیو او کے سپرد کردیے گئے ہیں۔ آنے والی مون سون بارشوں سے بروقت نمٹنے کےلئے بڑے پیمانے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کےلئے وفاق اور صوبائی حکومت کوایک ساتھ بیٹھنا ہوگا تاکہ کوئی دیر پا حل نکل سکے کیونکہ فوری اقدام سے وقتی ریلیف تو عوام کو ملے گا مگر مسائل جوں کےتوں رہیں گے۔ کراچی میں نالوں پر قائم تجاوزات نے تین سو فٹ چوڑے نالوں کو سکیڑ کر کہیں کہیں تین میٹر تک کردیا ہے، اس لئے ضروری ہے کہ نالے اپنی اصلی چوڑائی میں بحال کئے جائیں تاکہ آئندہ بارش کی تباہ کاری سے محفوظ رہا جا سکے۔ کراچی کے اصل مسائل کو حل کرنے کے لئے ضروری ہے ان پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور انہیں سمجھا جائے ایک دوسرے کے کندھوں پر ڈال کر بری الزمہ نہیں ہوا جا سکتا۔ کراچی جس کی آبادی تقریباً پونے تین کروڑ کے لگ بھگ ہے یہاں روزانہ بیس ٹن کچرا بنتا ہے جسے روز کے روز ٹھکانے لگانا بہت ضروری ہے، ورنہ ہر دن کے ساتھ کچرے کےڈھیر لگتے چلے جائیں گے۔ کراچی کے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا کوئی معقول بندوبست نہیں ہے۔ عام طور پر گھریلو کوڑا کرکٹ زیادہ تر قریبی ندی نالوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ نالے جو پہلے ہی تجاوزات کیوجہ سےاپنی استعداد کھو چکے ہیں، کچرے نے انہیں اور محدود کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے جو نالے بارش کے پانی کو برداشت نہیں کر سکے اور شہر کے ڈوبنے کا سبب بنے۔ اللہ کرے افواج پاکستان کے زیر نگرانی ہونے والے انتظام و کام سے کراچی کو بچایا جا سکے۔