آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
تحریر:وقار ملک ۔۔کوونٹری
آخر کب تک ہمیں جھوٹ اور بدنیتی پر جینا ہو گا، رحمن اور رحیم کا قانون کب نافذ ہو گا، کب تک ہم مفادات کی سیاست کرتے کرتے پاکستان کو لوٹتے رہیں گے ،قول و فعل میں تضادات کی سیاست پر ہم کب تک عوام کو بے و قوف بناتے رہیں گے ۔اوورسیز پاکستانیوں کے نام پر اور معصوم کشمیریوں کے نام پر سیاست کریں گے ۔اوورسیز کے نام کو استعمال کر کے مشیر بنیں گے اور پھر ان کی تضحیک کرتے رہیں گے، آج کے سیاست دان کل کے سیاست دانوں کی بے عزتی کرتے کرتے پروٹوکول انجوائے کرتے رہیں گے اور اپنی کل کی پالیسیوں اور بیانات کو بھول جائیں گے۔ گزشتہ دنوں حکومت کے غیر منتخب مشیروں اور معاونین خصوصی کے اثاثوں اور ان کی دہری شہریت کا معاملہ منظرعام پر آیا۔ وزیراعظم عمران خان خود بھی اس امر کے متقاضی رہے ہیں کہ دہری شہریت رکھنے والے کسی شخص کو پاکستان کے کسی منصب پر فائز ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں۔ اس لئے بجائے اس کے کہ بیکار بحث میں اس معاملہ کو اُلجھانے کی کوشش کی جائے ، سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں اور مروجہ آئین و قانون کے متعین کردہ پیرا میٹرز کی بنیاد پر دہری شہریت کے حامل مشیروں اور معاونین خصوصی کے بارے میں ٹھوس فیصلہ کر لیا جائے۔ اس سے ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عمل داری کا تصور ہی

پختہ ہو گا۔ سابقہ پنجاب حکومت نے اوورسیز کمیشن بنایا تو اسے چلانے کے لیے کمشنر کی تعنیاتی انتہائی سوچ سمجھ کر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے کی گئی، اخبارات میں اشتہارات کے ساتھ ساتھ پنجاب اسمبلی اور صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد کمشنر تعینات کیا گیا۔ جنہوں نے اوورسیز کمیشن کو اوورسیز پاکستانیوں کی امنگوں اور خواہشات کے مطابق چلایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک کامیاب ادارہ بنا دیا اوورسیز کمیشن ایک آئیڈیل ادارہ بن گیا جس کی مثال آج بھی دی جاتی ہے لیکن افسوس کسی بدبخت کی نظر لگ گئی اور شریف النفس شخص کوسابق چیف جسٹس کی عدالت میں پیش ہونا پڑا جہاں حکومت کو مختلف القابات سے نوازا گیا اور اوورسیز کمشنر کی تضحیک کی گئی ۔پی ٹی آئی کے عہدے داران نے خوب مذاق اڑایا اور خوب برسے اور اوورسیز کو عہدے دئیے جانے پر واویلا کرتے رہے ،امریکہ سے عارضہ قلب کے علاج کے لیے لائےگئے ایک ڈاکٹر کی تضحیک کی گئی انھیں بھی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا جنھوں نے پاکستان کی خدمت کے لیے امریکہ کو خیرآباد کہہ دیا تھا بالکل اسی طرح کمشنر اوورسیز کو نہ صرف برطرف کیا گیا بلکہ ای سی ایل میں نام بھی ڈال دیا گیا تاکہ پاکستان سے باہر نہ نکل سکیں ۔انہوں نے اپنا برطانیہ کا کاروبار چھوڑا بچوں کو پاکستان شفٹ کیا اور انتہائی محبت خلوص سے پاکستان اور اوورسیز کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا لیکن نیب اور پاکستان کی عدالت نے انھیں ان کی خدمات کے عوض بھاری جرمانہ عائد کر دیا جو ادا کرنے کے بعد ہی انھیں ملک سے نکلنے کے اجازت دی گئی ،اسی عدالت کے پاس جب ایک معاون خصوصی کا کیس آیا تو فیصلہ کچھ اور تھا۔سابق کمشنر اوورسیز اورامریکہ سےپاکستان گئے ڈاکٹر کی سزا اور تضحیک کے بعد اوورسیز پاکستانی کس طرح پاکستان میں خدمت کرنے کا خواب پورا کر سکتاے ہیں ۔ ہمارے اوورسیز پاکستانی اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی یہ خواہش ختم ہو گئی آج کی حکومت نے پچھلی حکومت کی پالیسیوں پر تابڑ توڑ حملے کیے اور آج مشیر ان کی فوج ظفر موج بھرتی کر لی جو ایک تضاد ہے آخر کب تک ہم اس پالیسی پر گامزن رہیں گے میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو لیکن ہمیں ایسے مشیران سے بھی اجتناب برتنا ہو گا جو بھارت سے دوائیاں ذاتی کاروبار کے لیے منگواتے ہیں ،ریاست کے معاملات بہرصورت آئین اور قانون کے مطابق ہی چلتے ہیں اور ریاست کے ہر شہری کو اپنے حقوق و ذمہ داریوں کے معاملہ میں آئین و قانون کا پابند ہونا ہوتا ہے۔ آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری ہی ترجیح ہونی چاہیے۔ کچھ حلقے ناک بھوں بھی چڑھاتے ہیں اور آئین کی بھد بھی اڑاتے ہیں مگر ہم نے بہرصورت آئین کے تابع رہنا ہے ورنہ ہم ریاست مدینہ کا خواب تو کیا شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھیں گے‘ جنگل کا معاشرہ ہم پر ضرور غالب آجائےگا ۔ہمیں اپنے ملک کو سنوارنے اور خوشحال بنانے کے لیے کردار ادا کرنا ہے، اس کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے اوورسیز پاکستانی جو اپنے ملک پاکستان کے لیے مر مٹنے کی خواہش رکھتے ہیں انھیں کیسے اپنی دھرتی سے دور کیا جا سکتا ہے ہمیں اور ہمارے ملک پاکستان کوایسی شخصیات کی ہمیشہ ضرورت رہے گی جو ذاتی مفادات کو بالائےطاق رکھ کر خدمات سرانجام دیتے ہیں اور پھر ملک کے اداروں کی عزت ہی کی خاطر سر تسلیم خم کرتے ہیں جو اپنا کاروبار چھوڑ کر پاکستان جاتے ہیں دن رات ایک کر کے ملک اور عوام کی خدمت کرتے ہیں اور پھر جرمانہ ادا کر کے جان چھڑاتے ہیں اور پھر عزت سے اپنے ملک سے باہر نکلنے کا راستہ مانگتے ہیں آخر کب تک ہم ا پنوں کے ساتھ زیادتیاں کرتے رہے گے آخر کب تک ہم دوسروں کے اشارے پر ناچتے رہیں گے کب تک غلط فیصلوں سے دوسروں کی تضحیک کرتے رہیں گے لیکن ایسی شخصیات پیدا ہوتی رہیں گی جو ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں ،انھیں کوئی مٹا نہیں سکتا ایسی شخصیات کے دل ہمیشہ جوان ہوتے ہیں لیکن ہمیں اس سسٹم کو تبدیل کرنا ہو گا جس سسٹم کے ذریعے حالات اور معاملات کو خراب کیا جاتا ہے۔

یورپ سے سے مزید