آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج سات اگست ہے اور تحریک پاکستان کا ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے میرے ذہن میں سات اگست 1947ء کی یادوں کے پھول کھل رہے ہیں۔جی چاہتا ہے کہ موجودہ بے وقار سیاست کی تنگنائے سے نکل کر اپنے قارئین کو تاریخ کے عظیم ایام کی یاد دلائوں کیونکہ تاریخ قوم کا حافظہ ہوتی ہے اور جو قوم اپنی تاریخ فراموش کر دیتی ہے گویا اپنے حافظے سے محروم ہو جاتی ہے ۔ہماری قومی بدنصیبی ہے کہ نوجوان نسلیں تحریک پاکستان، قومی جدوجہد اور قائداعظم کی قیادت اور کارناموں سے آگاہ نہیں۔ ان کی اس ’’بے خبری ‘‘کا فائدہ اٹھا کر کئی مورخین انہیں گمراہ اور بدظن کرنے میں مصروف ہیں۔ ذکر ہو رہا تھا کہ سات اگست ہماری تاریخ کا ایک اہم دن ہے کیونکہ سات اگست 1947ء کو قائداعظم آزاد پاکستان کی علامت بن کر بحیثیت نامزد گورنر جنرل دہلی سے کراچی تشریف لائے تھے۔ ان کے ساتھ محترمہ فاطمہ جناح کے علاوہ دو اے ڈی سی بھی تھے جنہیں تاریخ فضائیہ کے اے ڈی سی عطا ربانی اورنیول اے ڈی سی ایس ایم احسن کے اسمائے گرامی سے یاد کرتی ہے ۔سات اگست کی شام جب ان کا طیارہ ماڑی پور ہوائی اڈے پر اترا تو وہاں ہزاروں لوگ اپنے قائد کے استقبال کے لئے جمع تھے ۔سب سے پہلے لیاقت علی خان نے انہیں خوش آمدید کہا اور پھر اس کے بعد قائداعظم نے سندھ کے وزراء، اعلیٰ افسران اور کراچی کے میئر سے مصافحہ کیا۔

3جون کو تقسیم ہند کا اعلان ہوا اور اسی روز آل انڈیا ریڈیو سے مائونٹ بیٹن، محمد علی جناح اور پنڈت جواہر لال نہرو نے عوام سے خطاب کیا۔اس سے قبل جب وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے ہندوستانی رہنمائوں کے سامنے تقسیم ہند کا منصوبہ رکھا اور اس کی منظوری چاہی تو قائداعظم کا جواب تھا کہ وہ مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کی اجازت کے بغیر منظوری نہیں دے سکتے۔ تاریخ کے مطابق مائونٹ بیٹن نے دھمکی دی کہ اس صورت میں آپ اپنے پاکستان سے محروم ہو سکتے ہیں۔قائداعظم نے وائسرائے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا(WHAT MUST BE MUST BE) ۔ اس امید پہ منظوری لے لی گئی کہ مسلم لیگ بہرحال تقسیم ہند کے منصوبے کو قبول کرلےگی۔اسی رات مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس نے ان تجاویز کو مشروط طور پر قبول کر لیا ۔قائداعظم نے رات گیارہ بجے وائسرائے کو اطلاع دی کہ مسلم لیگ نے تجاویز پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ 3جون کو کانگریس اور سکھ رہنما نے بھی منظوری کا اعلان کر دیا۔3جون 1947ء اس حوالے سے بھی ایک تاریخی دن ہے کہ اس روز آل انڈیا ریڈیو سے تقریر کے بعد قائد اعظم نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور اس طرح سرکاری ریڈیو سے پہلی بار پاکستان کا نام سنا گیا۔

جون1947ء کا ذکر ہوتا ہے تو میرے ذہن میں چند ایک واقعات ابھرنے لگتے ہیں جن پر چند برس قبل بحث و تمحیص کا میدان گرم ہوا تھا۔مسلم لیگ میں کونسل کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔9جون 1947ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کونسل کا آخری اجلاس ہوا جس میں تقسیم ہند اور قیام پاکستان پر بحث ہوئی۔ امپیریل ہوٹل نیودہلی کے وسیع ہال میں 475میں سے 425کونسلر اس میٹنگ میں شریک ہوئے۔ جب قائداعظم تشریف لائے تو فضا پاکستان زندہ باد اور قائداعظم زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ایک طرف سے کچھ جوشیلے حضرات نے شہنشاہ پاکستان کا نعرہ بلند کر دیا جس پر قائداعظم نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں پاکستان کا محض ایک سپاہی ہوں شہنشاہ نہیں کونسل نے بھاری اکثریت سے تقسیم کا منصوبہ قبول کر لیا۔ مولانا حسرت موہانی اور زیڈایچ لودھی نے منصوبے کے بعض پہلوئوں پر تنقید کی۔ بقول اصفہانی صاحب ’’قائداعظم کا جواب تھا کہ اگرچہ پاکستان کو زخمی کرکے اس کی قطع وبرید کر دی گئی تھی مگر اس کے علاقوں میں رہ کر آزادی سے لطف اندوز ہونا ایک متحدہ ہندوستان میں جہاں ہندوئوں کی حکومت ہو اور مسلمان غلاموں کی مانند مصائب برداشت کریں، رہنے سے بہتر ہے (میرکارواں از میاں محمد افضل جلد دوم ص1123)

اسی میٹنگ میں قائداعظم نے کہا کہ جب فیلڈ مارشل اپنی فوج کو فتح سے ہمکنار کر دے تو اسے منظر سے ہٹ جانا چاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرا مشن مکمل ہوگیا ہے۔پاکستان بن گیا ہے اب قوم کو چاہئے کہ وہ اپنے معاملات سنبھالے۔ یہ اشارہ تھا اس خواہش کا کہ میں نے قوم کو منزل پر پہنچا دیا ہے۔میں اب خاموشی سے زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ قائداعظم کے ارادے کو بھانپتے ہوئے کونسلروں نے جواباً کہا کہ ایسا ممکن نہیں ۔اب آپ نے ہی پاکستان کو مضبوط بنانا اور کامیاب کرنا ہے۔ اس پس منظر میں جب مائونٹ بیٹن نے ہندوستان و پاکستان کا مشترکہ گورنر جنرل بننے کی خواہش کا اظہار کیا تو پہلے پہل قائد اعظم خاموش رہے۔جب حکومت برطانیہ کی جانب سے گورنر جنرل کی نامزدگی کا مرحلہ قریب آیا تو مسلم لیگی قائدین نے قائداعظم پر گورنر جنرل بننے کےلئے زور دینا شروع کر دیا۔ قائداعظم نے اس مسئلے پر گہرا غوروخوض کرنے کے بعد مائونٹ بیٹن کو جولائی کے آغاز میں بتا دیا کہ مسلم لیگ کے فیصلے کے مطابق وہ پاکستان کے گورنر جنرل ہوںگے۔دس جولائی کو برطانوی وزیر اعظم مسٹر ایٹلی نے ہائوس آف کامنز میں اعلان کر دیا کہ محمد علی جناح پاکستان کے گورنر جنرل ہوں گے ۔ اس دوران قائداعظم نے 10 اورنگزیب روڈ نیو دہلی اپنا گھر سیٹھ رام کرشنا ڈالمیا کو فروخت کر دیا لیکن بمبئی والا گھر جو انہوں نے تعمیر کروایا تھا اسے اپنے پاس رکھا۔قیام پاکستان کے بعد بھی وہ بمبئی کے گھر میں دلچسپی لیتے رہے اور ایک خط میں اس خواہش کا دبے لفظوں میں اظہار بھی کیا کہ شاید کبھی سیاست سے ریٹائر ہوکروہ زندگی کے آخری ایام اس شہر میں گزارنا چاہیں جہاں سے انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا اور جس کے گلی کوچوں بازاروں سڑکوں کے ساتھ ان کی ان گنت یادیں وابستہ تھیں۔ حالانکہ وہ بمبئی والے گھر سے قیمتی قالین اور اشیاء منتقل کر چکےتھے۔ سات اگست کو دلی سے جب ان کا طیارہ اڑا تو کھڑکی سے جھانکتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ آخری بار ہندوستان کو دیکھ رہے ہیں۔گویا انہیں احساس تھا کہ وہ آئندہ ہندوستان کبھی نہیں آسکیں گے۔

قدرت کا فیصلہ یہی تھا کہ جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اسی شہر میں ان کا مقبرہ بنے جہاں دنیا بھر سے لوگ انہیں خراج تحسین ادا کرنے حاضر ہوتے رہیں۔