آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دُنیا کے بدلتے حالات پر گزشتہ کالم میں جو روشنی ڈالی گئی تھی، اِس کالم میں بدلتے حالات کے پاکستان کے لیے اہم مضمرات پہ قارئین کی توجہ چاہوں گا۔ جیسا کہ کہا گیا تھا کہ ایک نئی سرد جنگ شروع ہو چکی ہے اور امریکہ اور چین کے مابین تجارتی جنگ جاری رہے گی۔

کورونا کے ہاتھوں سبھی معیشتوں کو بڑا دھچکا لگا ہے اور ترقی یافتہ ممالک کی معیشتیں گہرے مالیاتی و پیداواری بحران کی لپیٹ میں ہیں، لیکن چین نے تیزی سے نہ صرف کورونا پہ قابو پا لیا، بلکہ اُس کی معیشت کا پہیہ پھر سے رفتار پکڑ رہا ہے۔ ساری صورتِ حال کا نچوڑ یہ ہے کہ دُنیا اب یک قطبی یعنی سنگل سپرپاور کے زیرِ اثر نہیں رہی اور ایک کثیرالقطبی دُنیا تیزی سے نمودار ہو رہی ہے۔

گو کہ ترک عالمگیریت سے امریکہ نے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے، لیکن گلوبلائزیشن کی صفیں لپیٹنا ممکن نہیں، نہ ہی یہ کثیرالقومی کارپوریشنز کے مفاد میں ہے۔ باہم انحصاری اتنی ہی بڑھ گئی ہے کہ عالمی سپلائی چینز اور ہر منڈی کی اپنی ضرورتوں اور عالمی تقاضوں اور بندھنوں کو توڑنا مشکل ہے۔

امریکی صدر کم از کم دو بار چین کے خلاف پابندیاں لگا کر خفت اُٹھانے پہ مجبور ہو گئے، اس لیے کہ ایک طرف امریکہ کا پرچون کا کاروبار چینی درآمدات سے جڑا ہوا ہے تو دوسری طرف اس کی فنانشل اور کیپٹل مارکیٹ چینی سرمائے پہ پابندی برداشت نہ کر پائے گی۔ اسی لیے چینی بھی نہ صرف ڈٹ گئے ہیں بلکہ اب وہ عالمی منڈی میں جارحانہ طور پر کودتے نظر آ رہے ہیں جس کی اُن کی برآمدی صنعت کو بہت ضرورت ہے۔

چین چونکہ اب دُنیا کی سب سے بڑی سپلائی چین ہے، لہٰذا خود چین اور عالمی منڈی اس کے بریک ڈائون کو برداشت نہیں کر پائے گی تاآنکہ متبادل سپلائی لائنز معرضِ وجود میں آجائیں، جس کے لیے خاصا وقت درکار ہوگا۔ ایسے میں امریکہ چین کشیدگی سے ایک طرف یک قطبی دُنیا کا زوال ہو رہا ہے تو دوسری طرف طاقت کے دوسرے مراکز سر اُٹھا رہے ہیں۔

لیکن عالمگیریت کے تقاضے قومی سرحدوں کو تحلیل کرتے رہیں گے۔ جھگڑا اس پر ہے کہ امریکہ دُنیا کا واحد اجارہ دار بنا رہے یا پھر متبادل عالمی مراکز بھی اپنے پائوں پھیلا پائیں۔ یہ کشمکش یقیناً ترقی پذیر ممالک کے مفاد میں ہے لیکن عالمی امن و تعاون کے لیے خطرہ۔

اسٹرٹیجک نقطہ نظر سے عالمی صف بندی کا بڑا خطہ بحرِ ہند و بحرالکاہل بننے جا رہا ہے۔ اور خاص کر جنوبی بحرِ چین میں یہ کشمکش بڑھنے جا رہی ہے۔

ہندوستان اور چین کے مابین لائن آف ایکچوول کنٹرول پر حالیہ جھڑپوں کے بعد بھارت کے عسکریت پسند حلقے آسٹریلیا، امریکہ اور جاپان کے ساتھ مل کر چار طاقتی فوجی اتحاد کو بڑھاوا دینے پہ اصرار کر رہے ہیں۔ حالانکہ بھارتی وزیرِ خارجہ نے ’’یہ کبھی نہیں‘‘ کہہ کر اسے ٹال دیا۔ لیکن مالابار میں ان چار طاقتوں کی بحری مشقوں کی منصوبہ بندی بھی ہو رہی ہے۔

امریکی بھی اب اس گروپنگ کا زیادہ تر بوجھ جاپان، آسٹریلیا اور بھارت پہ ڈالنا چاہیں گے، جبکہ آج کل سبھی کے دانے کم پڑ گئے ہیں۔ چین اور روس اس عمل کو ایک اَور نیٹو سے مماثل قرار دے کر اس کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ بھارت شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن، برکس (برازیل+ روس+ انڈیا+ چائنا+ سائوتھ افریقہ) اور روس انڈیا چائنا گروپس میں بھی شامل ہے۔ چین کے مفاد میں نہیں کہ وہ بھارت کو امریکہ کی جھولی میں دھکیلے، جبکہ بھارت امریکہ کی چین کے گرد گھیرا ڈالنے کی حکمتِ عملی سے فائدہ تو اُٹھائے گا، لیکن وہ چین کا ہم پلہ بننے سے رہا۔

پاکستان اور چین کے مابین ہمہ جہت تعلق تیزی سے بڑھے گا۔ پاکستان پر بھارت کا دبائو کم پڑ جائے گا اور سی پیک سے اب ایران، افغانستان بھی جڑ جائیں گے۔

افواجِ پاکستان اور چین کے درمیان گہرے رشتے ہیں جو سی پیک کے کامیاب آغاز سے وسیع تر ہو گئے ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ پہل قدمی کے یورو ایشین منصوبے میں سی پیک کا ایک کامیاب ماڈل بننا ایک ضروری تقاضا ہے۔

پاک چین تعلقات، حکومتوں سے قطع نظر، دو ریاستوں کے مابین پائیدار رشتے کے مرہونِ منت ہیں۔ اور چینی کمیونسٹ پارٹی کا مرکزی ریاستی ڈھانچہ اور پاک افواج کا آہنی ڈھانچہ اس تعلق کی مضبوط اساس فراہم کرتا ہے۔ اس چینی فوجی سنگم میں جمہوریت ایک غیرمتعلقہ عنصر ہے۔

اگر ان ہی دو عناصر نے مستقبل کی سمت طے کرنی ہے تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا ان دو عناصر کے ملنے سے چینی ترقی کا ریاستی سرمایہ دارانہ اور عوامی ترقی کا ماڈل پاکستان میں چل پائے گا؟ یا پھر پاکستان ایک گیریژن ریاست ہی رہے گی جس میں جمہوریت نہ سہی، کسی قسم کی کوئی ترقی تو ہوگی یا پھر ہمارے مقدر میں جمہوریت ہوگی نہ ترقی؟ ہم سماج وادی اور جمہوریت پسند اسے بھلے کیسی ہی ناقدانہ نگاہ سے دیکھیں۔ نتائج کے علی الرغم معروضی حالات اُسی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔

ہماری ناقدانہ رائے جو بھی ہو، پاکستان کی ریاست اور اس کے فولادی ڈھانچے اسی سمت لپکیں گے۔ اور اس کے لیے پہلے ہی منتخب ادارے زیر ہو چکے ہیں اور بی بی جمہوریت کے لیے کوئی لڑنے والا میدان میں نہیں رہا۔

کیا ریاستِ پاکستان اس عالمی و علاقائی صورتِ حال سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سی پیک اور اس کو ہمہ جہت وسعت دے کر پاکستان کو کمیاب ارتکازِ سرمایہ، کمیاب روزگار، گہنائی ہوئی ترقی اور دست نگری کے چنگل سے آزاد کروانے کے لیے پیش قدمی کر سکے گی؟

کیا واقعی ہمہ جہت معاشی سلامتی و ترقی کے لیے خصوصی معاشی زونز، مواصلات خاص طور پہ ریلوے اور اطلاعاتی ہائی ویز، سائنسی و تکنیکی انقلاب، ایران پاکستان چین گیس پائپ لائن، زراعت کی کسان دوست کایا پلٹ، غریبی کے خاتمے اور ترقی کے عوامی ماڈل کو اختیار کرتے ہوئے روزگار تعلیم و صحت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے دُور رس پالیسیاں ترتیب دی جا سکیں گی اور اُن پر عملدرآمد کی ٹھوس منصوبہ بندی کی جاسکے گی؟

اس کا تمام تر دارومدار عوام الناس، خاص طور پہ علاقائی اکائیوں کی بھرپور شرکت اور ہماری انتظامی و ماہرانہ صلاحیتوں پہ ہے۔ جن کے بغیر ترقی کا یہ ماڈل عوام دوست ہو سکے گا، نہ پائیدار۔