آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چھوٹے تاجروں کی امداد کے 1.5بلین پونڈ واپس خزانے میں جانے کا امکان

لندن (پی اے ) حکومت کی جانب سے17مارچ کو کورونا وائرس سے متاثرہ چھوٹے تاجروں کی امداد کیلئے اسمال بزنس گرانٹس کے فنڈز سے 10,000پونڈ اور ریٹیل ہاسپٹلٹی اورلیژر گرانٹ فنڈ سے 25,000پونڈ دینے کااعلان کیاتھا اور اس مقصد کیلئے 12بلین پونڈ کونسل کو فراہم کئے گئے تھے جس میں سے کم وبیش 1.5بلین پونڈ اب بھی کونسل کے اکائونٹس میں موجود ہیں اور اب تک اس کیلئے کسی جانب سے کلیم نہیں کیاگیاہے ،کلیم موصول نہ ہونے کی صورت میں یہ رقم اس مہینے کے آخر میں خزانے میں واپس چلی جائے گی، 4ماہ قبل حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈائون کے سبب متاثر ہونے والے چھوٹے تاجروں کی امدا کیلئے کونسل کو 12 بلین پونڈ فراہم کئے تھے کونسل نے اس دوران تاجروں کو ان کی جانب سے دی گئی درخواستوںپر انھیں امداد فراہم کی لیکن اطلاعات کے مطابق کونسل کے اکائونٹ میں اب بھی 1.5بلین پونڈ موجود ہیں ،چھوٹے تاجروں کی فیڈریشن نے کہاہے کہ یہ رقم کونسل کے بینک اکائونٹس میں موجود ہے جبکہ حکومت کاکہناہے کہ وہ امداد کے مستحق تاجروں تک پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ کونسل کے ذریعے 3اگست تک اطلاعات کے مطابق کم وبیش 900,000تاجروں کو مجموعی طورپر 10.8 بلین پونڈ فراہم کئے جاچکے ہیں جبکہ اس ماہ کے آخر تک کم وبیش 80,000 مستحق اداروں کو 1.5 بلین پونڈ فراہم کرنا ہیں،اعدادوشمار کے مطابق

ویلڈن ،سائوتھ لیک لینڈ اورسائوتھ سمر سیٹ کے 20فیصد سے زیادہ تاجروں نے رقم کاکلیم نہیں کیا۔انگلینڈ کی 314کونسلز یہ رقم تقسیم کررہی تھی جن میں سے کم وبیش 291 کونسلوں میں کم از کم ایک تاجر ایسا ضرور ہے جو سپورٹ کامستحق تھا لیکن اسے امداد نہیں دی گئی،اعدادوشمار سے یہ بھی ظاہرہواہے کہ 24 اتھارٹیز نے مختص رقم سے زیادہ تقسیم کردی،ان میں سے ویسٹ منسٹر سٹی کونسل نے مختص شدہ رقم سے 17ملین پونڈ زیادہ تقسیم کردی،چھوٹے تاجروں کی فیڈریشن کے چیئرمین مائیک چیری نے فرمز پر زور دیاہے کہ امداد کیلئے درخواست دیں لیکن اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پوری رقم تقسیم نہ ہونے کی صورت میں بھی بقیہ رقم خزانے کو واپس نہ کی جائے۔وائرل کونسل کے بینک میں جولائی کے آخر تک تقسیم نہ کئے جاسکنے والے 14.7 ملین پونڈ موجود تھے کونسلر یان لیوس کا کہناہے کہ میری ویلے سے کے تاجروں اوردکانداروں سے بات ہوئی ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ بعض لوگ یہ نہیں جانتے کہ یہ قرض نہیں بلکہ گرانٹ ہے جو واپس نہیں کرنا ،انھوں نے کہا کہ یہ ایک المیہ ہوگا کہ رقم کیلئے درخواست نہ دینے کی وجہ سے دکانیں بند رہیں اور ملازمتیں چلی جائیں، انگلینڈ میں موجود چھوٹے تاجر جن کے پاس کاروبار کی جگہ ہو امداد کے مسحق ہیں، اسی طرح ریٹیل،ہاسپٹلٹی اور لیژر کی گرانٹ کیلئے اس کاروبار کیلئے جگہ کاہونا ضروری ہے ،بعض چیریٹیز بھی اس کیلئے درخواست دے سکتی ہیں۔ لندن کی برینٹ کونسل کاکہناہے کہ وہ تاجروں کوبتارہی ہے کہ وہ امداد کیلئے درخواست دیں کیونکہ کونسل بچے ہوئے 4.5 ملین خزانے کو واپس کرنانہیں چاہتی۔ کونسلر شمع ٹاٹلر نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ تمام مستحق تاجروں سے رابطہ کئے بغیر ہی حکومت کی نگاہیں اسکیم ختم کرنے اور رقم واپس طلب کرنے پر لگی ہوئی ہیں ،انھوں نے کہا کہ اب ہم نے لوگوں کی ایک ایسی ٹیم بنائی ہے جو لوگوں کو گھر گھر جاکر انھیں اسکیم کی مدت ختم ہونے سے قبل امداد کی درخواست دینے کی ترغیب دے رہے ہیں، بزنس انرجی اور انڈسٹریل اسٹریٹجی کے محکمے کے ایک ترجمان نے کہا کہ ہم تمام مستحق چھوٹے تاجروں تک فنڈ کی فراہمی یقینی بنانے کیلئےلوکل کونسلوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق تاجروں کو امدا فراہم کی جاسکے۔انھوں نے کہا کہ جن تاجروں کو ابھی تک امداد نہیں ملی ہے انھیں جلد از جلد اپنی کونسلوں سے رابطہ کرنا چاہئے۔

یورپ سے سے مزید