آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج ہم مزاح اور فلمی مزاح کے ارتقائی پس منظر پر بات کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحریری مزاح اور پرفارمنگ مزاح کے حوالے سے امر ہوجانے والے کرداروں پر روشنی ڈالیں گے۔ تحریری مزاح اور پرفارمنگ مزاح کا موازنہ کیا جائے تو یہ بھی پتا چلے گا کہ تحریری مزاح کا اسلوب اور فلمی مزاح کا آہنگ الگ الگ ہے۔ اسی لیے دونوں قسم کے مزاح کے انداز پذیرائی اور پرستار بھی الگ ہیں۔ 

تحریری مزاح کو تو ادب کا حصہ مانا جاتا ہے، جب کہ ڈراموں اور فلموں کے مزاح کو ادب میں وہ حیثیت حاصل نہیں ہے، حالاں کہ دونوں ہی میں تخلیق کا عمل کارفرما ہوتا ہے اور دونوں کا مقصد لوگوں کو ہنسانا اور انہیں تفریح فراہم کرنا ہوتا ہے۔کہاوت مشہور ہے ناچنا، گانا کسے نہیں آتا۔ مور ناچتا ہے، کوئل گاتی ہے، مگر میرے رب کی مخلوق میں حضرت انسان کو ہی یہ شرف حاصل ہے کہ وہ ہنسے، مسکرائے اور قہقہے لگائے۔ ابتدا ہی سے انسان ہنستا، بولتا اور گاتا آیا ہے، لیکن انسانی معاشرے کی تشکیل کے بعد ہنسنا اور گانا زندگی کا لازمی جزو بن گیا اور معاشرے کی ترقی کے ساتھ ساتھ زندگی کے ان پہلوئوں میں بھی ترقی ہوتی چلی گئی۔ 

شروع شروع میں لوگ چوپالوں اور چوراہوں پر کہانیاں اور لطیفے سناتے اور گیت گاتے تھے، جن سے لوگ محظوظ ہوتے اور انہیں داد دیتے تھے، اس طرح ان کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ آہستہ آہستہ یہ ہی کہانیاں اور مزاح اسٹیج پر پیش کیا جانے لگا اور لوگوں کی پذیرائی نے انہیں ایک مستقل حیثیت دے دی۔ دوسری طرف درباروں اور محل سرائوں میں مسخرے اپنی مزاحیہ باتوں اور اوٹ پٹانگ حرکتوں سے بادشاہوں اور شہزادوں کو ہنساتے اور محظوظ کرتے تھے۔ 

اس طرح لوگوں کو پرفارم کرکے ہنسانے کا بھی ایک فن گیا۔ یہ مسخرے یا جوکر درباروں سے منسلک ہوتے تھے، اس لیے عام آدمی کی وہاں تک رسائی ممکن نہیں تھی، لہٰذا عوامی سطح پر پتلی تماشا ہونے لگا۔ اس پتلی تماشے کے ابتدائی کردار وہی مسخرے ہوتے تھے، مگر لکڑی کے بنے ہوئے ان کرداروں کو کٹھ پتلی کہا جانے لگا۔ یہ اپنے دور کا کھیل تماشا ہوا کرتا تھا، جسے لوگ بڑے شوق سے دیکھا کرتے تھے۔ یہ پتلی تماشا آسان نہیں تھا، اس کا پیش کار ایک نہایت مشاق فن کار ہوتا تھا، جو اپنے ہاتھ میں ڈوریوں سے پتلیوں کو حرکت دیتا اور منہ سے ہر کردار کی مختلف آواز بھی اس طرح نکالتا کہ وہ لکڑی کی پتلیاں زندہ کرداروں کے انداز میں کہانی کا حصہ بن جاتی تھیں۔ ان کٹھ پتلیوں میں پاٹے خان کا کردار بہت مقبول ہوا۔ 

پھر فنی ارتقا کے عمل کی وجہ سے یہ فن آہستہ آہستہ معدوم ہوتا چلا گیا۔ آج بھی پتلی تماشا ہوتا ہے، مگر نئے انداز اور نئے آہنگ کے ساتھ! پی ٹی وی پر فاروق قیصر، انکل سرگم کے نام سے بچوں کا پروگرام کرتے تھے۔ اس میں پتلی تماشا دکھایا جاتا تھا اور یہ اپنے وقت کا مقبول ترین پروگرام تھا۔ پتلی تماشا کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بھارت میں بننے والی فلم ’’چوری چوری‘‘ میں نرگس اور راج کپور پر ایک گانا فلمایا گیا، جس کے بول تھے۔’’جہاں میں جاتی ہوں وہیں چلے آتےہو، چوری چوری میرے دل میں سماتے ہو‘‘

اس گانے کا پورا فارمیٹ پتلی تماشے پر مشتمل تھا۔ ادھر پاکستان میں فلم ’’شکار‘‘ میں شاہد اور ممتاز پر بھی ایک گانا فلمایا گیا۔ وہ بھی اسی فارمیٹ پر تھا اور اس کے بول تھے۔ ’’دل لے کر مکر گیا ہائے، سجن بے ایمان نکلا‘‘

ان فلموں کے علاوہ بھی بے شمار فلموں میں اسی پتلی تماشے کو پیش کیا گیا۔ اس سے اس کھیل کی عوامی پذیرائی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مزاح کے اس طرح مقبول عام ہونے یہ وجہ تھی کہ مزاح لکھا جانے لگا، مگر یہ کوئی آسان کام نہ تھا، چناں چہ کم لوگ ہی ہوتے تھے جو یہ کام کرتے تھے۔ پھر جب تحریری مزاح سامنے آنا شروع ہوا، تو مزاحیہ کردار بھی تخلیق ہونا شروع ہوگئے۔ ادھر سے کچھ کردار فارسی اور عربی ادب سے بھی لیے گئے۔ اکبر بادشاہ کے نو رتنوں میں کوئی مسخرہ شامل نہیں تھا مگر پھر لکھنے والوں نے ’’مُلا دوپیازہ‘‘ کا کردار تخلیق کرلیا اور بیربل جو کہ اکبر کے نو رتنوں میں شامل تھا، کو ملا کر مدمقابل بنا دیا۔ 

اس طرح ملا دو پیازہ، اکبر کے دربار میں دسواں رتن شمار ہونے لگا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ملا کا کردار حقیقی تھا۔ اس طرح تحریروں میں مزاحیہ کردار سامنے آتے چلے گئے، جن میں ملا نصرالدین، شیخ چلی، لال بجھکڑ اور چچا چھکن وغیرہ بے حد مقبول ہوئے۔ ان کرداروں پر مشتمل کہانیاں لوگ بڑی دل چسپی سے پڑھتے تھے۔ برصغیر میں جب باقاعدہ ادب تخلیق ہونا شروع ہوا تو مزاح کو اس کی اہم صنف کے طور پر لیا گیا، بعد میں اس میں طنز بھی شامل ہوگیا ، جس سے اس کی اہمیت اور حیثیت دونوں بڑھتی چلی گئی۔ 

طنزومزاح سے بھرپور ادب کی یہ شاخ دن دونی اور رات چوگنی ترقی کرتی چلی گئی۔ عوامی مقبولیت کی وجہ سے اس کے لکھنے والے بھی مشہور ہوتے چلے گئے۔ پھر انہی تحریروں سے فلمی مزاح اور مزاحیہ ڈراموں نے جنم لیا۔ طنزو مزاح کو غور سے پڑھا جانے تو آپ کو اس میں فرق محسوس ہونے لگے گا۔ طنز میں جملے بڑی اہمیت رکھتے ہیں، جب کہ مزاح میں سیچویشن اور کردار اہم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مزاح کے اور بھی تقاضے ہوتے ہیں جو طنز میں ضروری نہیں ہوتے۔

ہمارے شعراء نے اپنی شاعری میں، اپنے انداز میں طنز و مزاح کو پیش کیا ہے، جس سے نہ صرف طنزیہ شاعری کو جلا ملی ،بلکہ ان کے اشعار نے معاشرے کی گھٹن کو کم کرنے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ نثر نگاری میں مزاح کی بات کی جائے تو ہمیں ایک طویل فہرست مزاح نگاروں کی ملتی ہے۔ ان میں جو مزاح نگار نمایاں رہے، ان میں عظیم بیگ چغتائی، پطرس بخاری، امتیاز علی تاج، کرنل محمد خان، شوکت تھانوی، ابن انشا، مجید لاہوری، ابراہیم جلیس، مجتبیٰ حسین رضوی اور مشتاق احمد یوسفی کے نام شامل ہیں۔ عظیم بیگ چغتائی کی کتاب سے ایک مضمون ’’سویرے جو کل آنکھ میری کھلی‘‘ عرصے تک نصاب کا حصہ رہا۔ انہوں نے بھارت میں ’’گرم ہوا‘‘ کے نام سے ایک فلم بھی بنائی تھی۔ پطرس بخاری کے لکھے ہوئے ہلکے پھلکے مزاحیہ مضامین آج بھی دل چسپی سے پڑھے جاتے ہیں۔

امتیاز علی تاج ایک مشہور مزاح نگار اور افسانہ نگار رہے ہیں۔ ان کا تخلیق کردہ کردار چچا چھکن، ان کے مزاح کا بہت مشہور کردار تھا۔ اس کے علاوہ ان کی وجہ شہرت وہ مشہور افسانہ ’’انار کلی‘‘ تھا، جس سے متاثر ہوکر ہندوستان میں ’’مغل اعظم‘‘ اور پاکستان میں ’’انارکلیٔ‘‘ کے نام سے فلمیں بنیں۔ کرنل محمد خان کی کتاب ’’بجنگ آمد‘‘ کو کون بھول سکتا ہے۔ ہلکے پھلکے مزاح پر مشتمل یہ آپ بیتی لوگوں میں بہت مقبول ہوئی۔ شوکت تھانوی نے ناول نگاری میں نام بنایا۔ ان کے لکھے ہوئے ناول ’’عورت راج‘‘  ’’سسرالی‘‘ ’’سودیشی ریل‘‘ اور ’’بکواس‘‘ مزاح پر مشتمل کہانیاں ہیں۔ ان میں ’’عورت راج‘‘ اور ’’سسرال‘‘ کی تھیم کو لے کر ایک بالی وڈ اور لالی وڈ میں فلمیں بھی بنائی گئیں۔ 

تحریری مزاح کا اپنا ایک اسلوب و آہنگ ہوتا ہے۔ طنز ومزاح دونوں ہی احتیاط کے متقاضی ہوتے ہیں۔ طنز میں کسی کی توہین یا تحقیر کا پہلو نہ ہو، بلکہ بات اس طرح کی جائے کہ قاری کو برائی کا یا خامی کا پتا بھی چل جائے اور وہ لطف اندوز بھی ہو، جب کہ جس کے بارے میں طنز کیا گیا ہے، اسے اپنی توہین کا احساس بھی نہ ہو۔ اسی طرح مزاح میں بھی ولگریٹی اور پھکڑ پن سے بچنا لازم ہے۔

تحریر میں مزاح پیدا کرنا خاصا مشکل اور تخلیقی ہوتا ہے۔ جس طرح شاعر ہونا ایک خداداد صلاحیت ہے، بالکل اسی طرح مزاح نگار ہونا بھی خداداد صلاحیتوں پر منحصر ہے۔ بین الاقوامی سطح پر دیکھا جائے تو مزاح لکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے، لیکن ان میں شیکسپیئر اورمارک ٹوئن خاصے مشہور ہوئے۔ ان کی طنزیہ اور مزاحیہ تحریریں اور شیکسپیئر کے لکھے ہوئے مزاحیہ ڈراموں نے خاصی شہرت حاصل کی۔ 

شیکسپیئر کے لکھے ہوئے ایک ڈرامے Commedy of Erren سے ماخوذ ایک کہانی پر بالی وڈ میں ایک فلم ’’انگور‘‘ کے نام سے بنی، جس میں سنجے کمار نے مرکزی رول ادا کیا تھا۔ اس فلم میں مزاح کو ایک اچھوتے انداز میں پیش کیا گیا، جسے فلم بین باربار دیکھنے پر مجبور ہوجاتا تھا۔ مارک ٹوئن کا تحریر کردہ طنزو مزاح اپنے تمام ہم عصروں سے مختلف تھا۔ 

اس کے تحریر کردہ جملے عام گفتگو میں اسی طرح Qouatکیے جاتے ہیں، جس طرح ہم یوسفی صاحب کے جملوں کو Qouat کرتے ہیں۔ مذکورہ بالا تمام مزاح نگاروں یا طنزنگاروں کا ایک ہی مقصد تھا کہ اپنے دور کی برائیوں کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ایک صحت مند تفریح مہیا کی جائے تاکہ معاشرے کی گھٹن کم ہو۔ آج کل ہم جس قسم کے ماحول میں رہ رہے ہیں، اس میں اچھے مزاح نگاروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، کیوں کہ ہنسنا، مسکرانا، قہقہے لگانا، انسانی طبیعت کی ضرورت ہے۔ آج کی میڈیکل سائنس نہ صرف اس کو تسلیم کرتی ہے، بلکہ اس کو بہت سی بیماریوں کا علاج بھی قرار دیتی ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید