آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عوام، خصوصاً کاروباری حلقوں کے لئے وفاقی حکومت کا یہ اعلان یقیناً اطمینان بخش ہے کہ پیر سے کورونا وائرس کی خون آشام وبا سے نمٹنے کے لئے عائد تمام پابندیاں منسوخ اور سمارٹ لاک ڈائون ختم کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں کورونا کے شکار افراد کے کیسز، اموات اور تشویشناک مریضوں کی کم ہوتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ممکن ہوا ہے جو نہ صرف عام آدمی خصوصاً تاجر طبقے کی مشکلات کے خاتمے میں مدد دے گا بلکہ اس سے ملکی معیشت پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے جو پچھلے چھ سات ماہ سے سخت دبائو کا شکار ہے۔ اعلان کےتحت پیر سے ملک بھر میں ریستوران، ہوٹلز، جمز، تھیٹرز، سینما گھر، شاپنگ مالز، بیوٹی پارلرز اور مزارات کھل گئے ہیں اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ رواں دواں ہو گئی ہے البتہ شادی ہالز، اسکول اور کالج بدستور بند رہیں گے جو 15ستمبر سے کھولے جا سکیں گے۔ سیاحتی مقامات 8اگست سے کھل چکے ہیں اور اطلاعات یہ ہیں کہ کورونا کی سختیوں اور گرمی کے ستائے ہوئے ہزاروں سیاح سیر و تفریح کے لئے ان مقامات کا رخ کر چکے ہیں۔ حکومت نے لاک ڈائون کے تحت عائد شدہ پابندیاں تو ختم کر دی ہیں مگر یہ بھی کہا ہے کہ عوام کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ معاشی و سماجی سرگرمیوں کی اجازت ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ کورونا کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر محرم الحرام کے دوران ایس او پیز پرعمل کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام پرزور دیا کہ ماسک پہننا خود پر لازم کر لیں۔ وزیراعظم کے اس صائب مشورے پر عمل کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اگرچہ پاکستان میں کورونا کیسز تیزی سے کم ہو رہے ہیں مگر عالمی صورتحال کے تناظر میں دیکھا اور ماہرین کی پیش گوئیوں سے صرف نظر نہ کیا جائے تو کورونا وائرس کی ایک نئی لہر کے خدشے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس وائرس کی ویکسین ابھی تک تیار نہیں کی جا سکی جو لمحہ فکریہ ہے۔ برطانیہ میں کورونا کے پرانے مریضوں کے وارڈ خالی ہو گئے ہیں لیکن نئے مریضوں کی آمد میں اضافہ ہو گیا ہے صرف امریکہ اور برازیل میں کورونا تقریباً پونے تین لاکھ افراد کی جان لے چکا ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں کورونا سے مرنے والوں کی مصدقہ تعداد 45ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں کورونا کے دو کروڑ مریض زیر علاج ہیں۔ ان میں سے 50لاکھ صرف امریکہ میں ہیں۔ مجموعی طور پر ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ ان حقائق اور اعداد و شمار کی روشنی میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اس وبا پر قابو پانا 2021سے قبل ممکن نہیں، پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ملک ہے کہ یہاں صرف 6ہزار 94افراد اب تک اس مرض سے جاں بحق ہوئے ہیں لیکن احتیاطی اقدامات نہ کئے گئے تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ خدانخواستہ دنیا کے دوسرے ملکوں سے شروع ہونے والی کورونا کی نئی لہر پاکستان کا رخ بھی نہ کر لے۔ اسی لئے میڈیا مبصرین کہہ رہے ہیں کہ کورونا کنٹرول ہونے کے ساتھ کاروبار مرحلہ وار کھولنا چاہیئے تھا۔ تاہم حکومت نے جب اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے توسوچ سمجھ کر ہی کیا ہو گا۔ اندیشہ ہائے دور دراز اپنی جگہ، مگر یہ فیصلہ عام آدمی کے حق میں ہے اور معیشت کے مفاد میں بھی۔ ایس او پیز پر عمل کورونا سے خلاصی کا مجرب نسخہ ہے۔ اس حوالے سے لوگ کم از کم اگر ماسک پہننا ہی اپنی عادت بنا لیں تو نہ صرف کورونا بلکہ کئی دوسری بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکیں گے۔ یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ کورونا سے صحتیاب ہونے والوں میں بھی کئی طرح کی اعصابی بیماریوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ مثلاً ان کے سونگھنے اور یادداشت کی صلاحیت میں کمی دیکھی گئی ہے۔