آپ آف لائن ہیں
پیر3؍صفر المظفّر 1442ھ 21؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آج ہم اپنے پیارے وطن پاکستان کے قیام کے 73سال مکمل ہونے کا جشن منارہے ہیں۔ انگریز سامراج اور کانگریس کے گٹھ جوڑ کے پیشِ نظر، مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست کا حصول آسان ہرگز نہ تھا، ایک ایسی ریاست جس کا خواب شاعرِ مشرق علامہ اقبال ؒ نے دیکھا اور اس خواب کو عملی جاما بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے پہنایا۔

ایک علیحدہ اور آزاد ریاست کے خواب سے لے کر اسے حاصل کرنے تک کے درمیان ایک طویل اور کٹھن جدوجہد کارفرما ہے۔

آج وطنِ عزیز کی آزادی کے 73سال مکمل ہونے پر جشن منانے کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں کہ برصغیر کے مسلمان قائدین نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیوں کیا تھا۔ مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ا س کی سیاسی، سماجی، دینی اور معاشی وجوہات تھیں۔

مسلمانوں کے ممتاز رہنماؤں، جن میں قائداعظم محمد علی جناح بھی شامل تھے، نے پہلے مرحلے پر ہندوستان کے اتحاد اور مسلم ہندو یگانگت پر زور دیا اور ہندوستان کی وحدت کی بقا کے لیے آواز اٹھائی لیکن مسلسل تجربات کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ کانگریس کی قیادت مسلمانوں کو ان کے بنیادی حقوق دینے پر آمادہ نہیں تھی۔ یہاں تک کہ جہاں مسلمان اکثریت میں تھے، متحدہ ہندوستان کے آخری انتخابات کے بعد حکومتوں کی تشکیل میں کانگریس نے وہاں بھی مسلمانوں کو اقتدار سے محروم رکھنے کے لیے سو طرح کے جتن کیے۔

یہی وہ اہم اور بنیادی وجوہات تھیں، جس کے بعد مسلمان رہنماؤں نے آخر کار الگ مسلم ریاست کی تجویز پیش کی۔ یہ تجویز ایک آزاد خود مختار ریاست کا تصور اختیار کرتے کرتے مختلف مراحل سے گزرتی رہی۔ اس سے پہلے اکثریتی صوبوں میں مسلمانوں کی داخلی خود مختاری کی تجویز بھی زیر غور رہی۔ تاہم جب23مارچ 1940ء کو قراردادِ پاکستان منظورہوئی تو برصغیر کے ہرمسلمان نے اسے اپنے دل کی آواز سمجھا۔

یوں تو تحریکِ آزادی (1857ء سے 14اگست 1947ء تک) کا ہر دن اور ہر لحظہ ہی ہماری تاریخی جدوجہد کا یادگار باب ہے مگر 23مارچ 1940ء، 3جون 1947ء اور 14اگست 1947ء ایسے ایام ہیں جو ہماری قومی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں اور ان کا پسِ منظر قوم کے بچے بچے کے ذہن میں ہونا چاہیے۔ یہی وہ لمحات تھے، جب برصغیر کی تاریخ ایک اہم ترین موڑ پر پہنچی اور تحریک پاکستان کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہو ئی اور فضا میں سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ قرارداد پاکستان 23مارچ 1940ء کو منظور ہوئی تھی، اس دن سے 3جون 1947ء اور 14اگست1947ء تک کا عرصہ قیام پاکستان کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

3جون 1947ء وہ تاریخ ساز دن ہے جب مسلمانانِ برصغیر کی جدو جہد رنگ لائی اور برطانیہ کے تعینات کردہ آخری وائسرائے ہند(نائب السلطنت) ایڈمرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہندکی تاریخ (یعنی 14اگست 1947ء) کا باقاعدہ اعلان کیا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے آل انڈیا ریڈیو پر تقسیم ہند کے باقاعدہ اعلان کے بعد قائداعظم محمد علی جناح نے ریڈیو پر تقریر کی اور آخر میں بے پناہ جذبے اور ولولے سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا یا جو مسلمانان برصغیر کے دل کی آواز بن گیا اور فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھی۔

برطانیہ کے شاہی خاندان کا فرد لارڈ ماؤنٹ بیٹن جنگ عظیم دو م میں جنوب مشرقی ایشیا میں برطانوی افواج کا سپریم کمانڈر رہ چکا تھا۔ اس کا شمار دنیا کے بہترین جرنیلوں میں ہوتا تھا۔ اسے برطانیہ کی طرف سے آخری وائسرائے ہند کی حیثیت سے 22مارچ 1947ء کو ہندوستان میں تعینات کیا گیا۔اس نے آتے ہی ہندوستان کی سیاسی قیادت سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا، وہ کانگریس کو بہت اہمیت دیتا تھا۔ اس نے پہلے پہل صرف کانگریس کی قیادت سے ملاقاتیں کیں جبکہ قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ اس نے تقریباً دو ہفتے بعد ملاقات کی۔در اصل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا منصوبہ تحریک پاکستان کوسبوتاژ کرنا تھا۔ 

اسے اپنی کامیابی کا مکمل یقین تھا لیکن محمد علی جناح سے ملاقات کے بعد اس کی یہ غلط فہمی دور ہو گئی اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ محمد علی جناح جیسے قائد کے ہوتے ہوئے کوئی بھی پاکستان کو معرضِ وجود میں آنے سے نہیں روک سکتا۔کئی برس بعد اس نے اس بات کا اقرار بھی کیا تھا کہ وہ متحدہ ہندوستان کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید تھا لیکن قائداعظم سے ملاقات کے بعد اس کا یقین متزلز ل ہوگیا۔

ماؤنٹ بیٹن کی آمد سے پیشتر کانگریس نے بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے حق میں قرارداد پاس کر لی تھی۔یہ وہ موقع تھا جب کانگریس رہنما تحریک پاکستان کے خلاف بڑھ چڑھ کر بیانات دے رہے تھے۔ جواہر لال نہرو اورکانگریس کے دیگر رہنما تواتر کے ساتھ ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا راگ الاپ رہے تھے اور ان کا مؤقف تھا کہ کانگریس کی تقسیمِ پنجاب اور بنگال کی قرارداد سے ہندوستان کی تقسیم کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔ جواہر لال نہرو کا کہنا تھاکہ تقسیم ہند کی تجویز برطانوی حکومت خود پیش کرے تو ہم اس کی حمایت کر سکتے ہیں لیکن اپنی زبان سے ہم کبھی بھی ایسا مطالبہ نہیں کریں گے۔

نہرو اورلارڈ ماؤنٹ بیٹن میں شملہ کے مقام پر طویل ملاقاتیں ہوئیں، جن سے قائد اعظم محمد علی جناح کو بے خبر رکھا گیا۔ شملہ میں نہرو خاندان کی موجودگی سے محمد علی جناح کو یقین ہوگیا تھا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن مکمل طورپر کانگریس کا ہمنوا ہوکر مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے لیکن لیکن آخر کار مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے مطالبے کے آگے یہ سب لوگ بے بس اور لاچار ہو گئے۔

ان حالات میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن مئی 1947میں برطانیہ گیا اور وزیراعظم لارڈ ایٹلی اور دوسرے برطانوی لیڈروں سے بات چیت کے بعد ہندوستان واپس آکر طویل مذاکرات کیے اور ہندوستان کے اہم رہنماؤں کی ایک اہم کانفرنس بلائی۔ اس کانفرنس کے شرکاء میں پنڈت جواہر لال نہرو، قائداعظم محمد علی جناح، سردار پٹیل، اچاریہ کرپلانی، لیاقت علی خان، سردار عبدالرب نشتر اور سردار بلدیو سنگھ قابل ذکر تھے۔ اسی کانفرنس میں ہندوستان کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا گیا، جس کا اعلان 3جون 1947کو کیا گیا۔ اس کے اہم نکات ذیل میں درج ہیں:

٭ برصغیر میں دو الگ الگ مملکتیں قائم کردی جائیں، جو شروع میں نوآبادیاتی حیثیت کی حامل ہوں گی۔

٭ پنجاب اور بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے گا اور حدبندی کمیشن بھی مقرر کیے جائیں گے۔

٭ سندھ اور آسام کے مستقبل کا فیصلہ ان صوبوں کی اسمبلیاں کریں گی۔

٭ صوبہ سرحد اور آسام کے ضلع میں استصواب رائے کرایا جائے گا، جس کے بعد یہ فیصلہ ہو گا کہ وہاں کے باشندے کس ملک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

٭ ریاستوں کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ ہر دو مملکتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرلیں۔

٭ برصغیر کی مسلح افواج اور مشترکہ اثاثوں کی تقسیم کر دی جائے گی۔

ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد، مسلم لیگ کی قیادت نے بالآخر تقسیم ہند کے اس منصوبے کو قبول کر لیا، جس کا اعلان آل انڈیا ریڈیو سے نشری تقریروں کے ذریعے کیا گیا۔ یوں پاکستان کے قیام کی راہ ہموار ہوئی اور 14اگست 1947کو اس کا وجود عمل میں آگیا۔