آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تعلیمی اخراجات پُورے کرنے کیلئے شوبز کی دُنیا میں قدم رکھا

ٹیلی ویژن انڈسٹری میں کام کرنے والی اداکارائیں اعلی تعلیم یافتہ، تربیت یافتہ اور فن کارانہ صلاحیتوں سے مالا مال ہونے کی بدولت ٹیلی ویژن کرداروں میں حقیقت کا رنگ بھر دیتی ہیں۔ ان ہی ادکارائوں کی وجہ سے فلم انڈسٹری کو بھی فائدہ پہنچا۔ ابتداء میں جب پاکستان میں ٹیلی ویژن نے اپنی نشریات کاآغاز کیا تو ریڈیو سے منسلک اعلی ادبی اور علمی شخصیات نے اسے اپنی کارکردگی کے حُسن سے عروج بخشا۔ 

آج کے ٹیلی ویژن ڈراموں میں کام کرنے والی فنکاراؤں کو دیکھیں، تو ان میں زیادہ تر وہ ہیں، جنہوں نے کالج اور یونی ورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شوبزنس کو بہ طور کیریئر اپنایا اور کچھ ایسی بھی ہیں، جنہوں نے اپنے تعلیمی اخراجات پُورے کرنے کے لیے دوران تعلیم ہی شوبزنس میں کام کرنا شروع کردیا۔ ایسی ہی پڑھی لکھی، ذہین اور باکمال فن کارہ ژالے سرحدی ہیں۔ انہوں نے دس بارہ برس قبل اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا اور فنون لطیفہ کی مختلف اصناف میں اپنی صلاحیتوں کا جادو جگایا۔

بہ حیثیت ماڈل اینکر گلوکارہ اور اداکارہ خود کو منوایا۔ 11؍ جون 1981ء کو کراچی میں جنم لینے والی ژالے سرحدی علمی، ادبی، ثقافتی اور فن کار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ ٹیلی ویژن کے نامور اداکار خیام سرحدی کی بھتیجی ہیں۔ ان کے دادا ضیاء سرحدی کو کون نہیں جانتا۔ ضیاء سرحدی نے ہندوستان میں بہ حیثیت فلم ساز، رائٹر اور ڈائریکٹر اپنی پہچان بنائی۔ ژالے کے نانا رفیق غزنوی کا شمار بھارت کے مقبول موسیقاروں میں ہوتا تھا۔ 

حُسن اور ذہانت کے خُوب صورت امتزاج کی حامل فن کارہ ژالے سرحدی نے درجنوں ٹی وی کمرشلز، ان گنت ڈراما سیریلز، فیشن شوز اور چند فلموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا، وہ خوش نصیب فن کارہ ہیں کہ انہیں ابتداء میں پاکستان فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار ندیم بیگ اور معروف لکھاری مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ ٹیلی ویژن شوز کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ 

ژالے کے مقبول ڈراموں میں مٹھی بھر مٹی، عکس، کتنی گرہیں باقی ہیں، کہی ان کہی، مدھم مدھم، ندامت، سبز پری لال کبوتر، اڑان، وہ رشتے ناطے، ہلکا نہ لو، حقیقت، ایک اور ستم اور قسمت کا لکھا سمیت دیگر ڈرامے شامل ہیں۔ انہوں نے چند فلموں میں اداکاری بھی کی۔ سب سے پہلے بھارتی اداکارہ نندیتا داس کےساتھ جیو کی فلم ’’رام چند پاکستانی‘‘ میں کام کیا، اس کے بعد فلم ’’جلیبی‘‘ اور ’’چلے تھے ساتھ‘‘ میں بھی عمدہ پرفارمنس دی۔ گزشتہ دنوں ہم نے ریڈیو، ٹیلی ویژن، تھیٹر اور فلم کی فن کارہ ژالے سرحدی سے بات چیت کی جس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔

س: شوبزنس کیریئرکا آغاز کس طرح کیا؟

ج: مجھے چمکتی دُنیا میں معروف ٹیلی ویژن آرٹسٹ ساجد حسن نے متعارف کروایا۔ اپنے شوبز کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا۔ ریڈیو کے مقبول ترین پروگرام ’’بزم طلبہ‘‘ میں کئی ماہ تک آواز کا جادو جگاتی رہی۔تعلیمی مراحل کے دوران ہی شوبزنس کی جانب آگئی تھی، کیوں کہ مجھے پڑھائی کا خرچہ پُورا کرنا تھا، لیکن کبھی سوچا نہیں تھا کہ شوبزنس کو فُل ٹائم اپنالوں گی۔ اپنے کیریئر کے ابتدا ہی سے اداکاری کو سنجیدہ کام سمجھا۔ فلم ’’جلیبی‘‘ میں آئٹم سونگ بھی کرنا پڑا،اس میں بھی پاکستانی تہذیب و ثقافت اور اقدار کا خاص خیال رکھا اور مشرقی روایتی لباس زیب تن کیا۔

س: کیریئر کے ابتداء ہی میں سینئر فن کاروں کے شوز کی میزبانی کا تجربہ کیسا تھا؟

ج: میں نے جیو سے ’’شادی آن لائن‘‘ کی میزبانی بھی کی۔ اس ریلیٹی شو میں ٹی وی اور ادب کی نامور شخصیت مستنصر حسین تارڑ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ان سے لفظ کی درست ادائیگی اور ادبی معلومات حاصل ہوئیں۔ اسی طرح ایک اور نجی ٹی وی سے پاکستان فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار ندیم بیگ کے ساتھ مل کر شو کی میزبانی کی۔ 

ندیم ہماری فلم انڈسٹری کا سرمایہ ہیں ، انہوں نے مجھے یہ احساس بالکل نہیں ہونے دیا کہ میں شوبزنس میں ابھی بالکل نئی ہوں۔ شو کے ابتداء میں ندیم بیگ نے مجھے کہا کہ ژالے جس طرح تم میزبانی کے شعبے میں نئی ہو، بالکل اسی طرح میں بھی پہلی بار میزبانی کے فرائض انجام دے رہا ہوں۔ندیم بیگ کا یہ انداز مجھے بہت اچھا لگا۔ ان دونوں شخصیات کے ساتھ ٹی وی شوز کی میزبانی کا تجربہ شان دار رہا۔

س:آپ نے گائیکی کے شعبے میں بھی خود کو آزمایا، اس کا کیا رسپانس ملا؟

ج: مجھے گلوکاری کا بھی بے حد شوق ہے ۔ جب بھی موقع ملتا ہے آواز کا جادو جگاتی ہوں۔ معروف نغمہ نگار صابر ظفر کا لکھا ہوا گیت ’’تجھ بن دنیا ہاری‘‘ کو میری آواز میں بے حد پذیرائی حاصل ہوئی، لیکن میری ساری توجہ اداکاری پر ہے۔

س: فلموں کے بارے میں کچھ بتائیں؟

ج: چند فلموں میں کام کیا ہے۔ جیو فلمز کی ’’رام چند پاکستانی‘‘ میں بھارتی اداکارہ نندیتا داس کے ساتھ کام کیا۔ نندیتا داس ایک منجھی ہوئی اداکارہ ہیں۔ ان کے ساتھ فلم میں کام کرنا اچھا لگا، لیکن فلم کی ڈائریکٹر مہرین جبار نے میرے کچھ سین کاٹ دیے تھے اس وجہ سے غصے میں میں نے یہ فلم نہیں دیکھی۔ 

اس کے بعد دانش تیمور کے ساتھ فلم ’’جلیبی‘‘ میں کام کیا۔ یہ ایک دل چسپ فلم تھی، مگر باکس آفس پر رنگ نہیں جماسکی۔ تھوڑے عرصے کےبعد پاکستان اور چین کےاشتراک سے بننے والی فلم ’’چلے تھے ساتھ‘‘ میں ایک مختلف کردار نبھایا۔ مجھے اس فلم میں کام کرکے بہت مزا آیا، کیوں کہ یہ میرے دوستوں کی مووی تھی۔

س: ڈراموں اور فلموں کے اسکرپٹ کا انتخاب کرتے وقت کن باتوں کا خیال رکھتی ہیں؟

ج: مجھے ایسے کردار ادا کرنا زیادہ اچھا لگتے ہیں، جو میری شخصیت سے بالکل مختلف ہوں اور میں ایسے کرداروں کا انتخاب کرتی ہوئی، جس میں ایکٹنگ کا مارجن زیادہ ہو۔ ایسے کردار بالکل اچھے نہیں لگتے، جس میں صرف بالوں، دل کش انداز اور میک اپ کی تعریف کی جائے۔ میں اعلی کردار نگاری کی بدولت مداحوں کے دل جیتنا چاہتی ہوں۔

س: بھارتی میڈیا میں یہ بات بہت نمایاں کی گئی تھی کہ آپ کی شکل پریانکا چوپڑہ سے ملتی ہے، کیا یہ دُرست ہے؟

ج: بالی وڈ اور ہالی وڈ کے اداکارائوں سے اکثرمیری شکل ملائی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ میں بالی وڈ اسٹار پریانکا چوپڑہ اور ڈمپل کپاڈیا کی ہم شکل ہوں۔ میں ان باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتی ہوں۔ فن کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھ رہی ہوں۔ سب جانتے ہیں کہ میرے چچا اور دادا نے شوبزنس میں کتنا نام کمایا۔

س: پاکستان فلم انڈسٹری کی بحالی میں اور کتنا وقت لگے گا؟

ج: مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فلم انڈسٹری کی بحالی میں تھوڑا وقت لگے گا۔ جب تک پھر سے سنیما گھروں کی رونقیں بحال نہیں ہوں گی، حکومت کورونا پر کنٹرول نہیں پائے گی، اس وقت تک کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ سب ڈرے ہوئے ہیں ، جیسے ہی حکومت کورونا کو کنٹرول کرلے ،سنیما اور فلم انڈسٹری بحال ہوجائے گی کئی فلمیں ریلیز کے لیے تیار ہیں۔

س: ماضی کی ہیروئنوں میں کون پسند ہیں؟

ج: یہ سوال بڑا مشکل ہے۔ یہ بات ایسے ہی ہے جیسے بریانی، نہاری اور حلیم میں سے کیا پسند ہے۔ مجھے تو سب ہی اچھی لگتی ہیں۔ پاکستان فلم انڈسری کا ماضی بہت سنہرا تھا۔ شبنم، شمیم آرا، رانی، بابرہ شریف وغیرہ نے بہت عمدہ کردار نگاری کی۔ اس طرح ندیم، وحید مراد اور محمد علی نے فلموں میں لازوال اداکاری کی، مجھے یہ سب پسند ہیں۔

س: شہرت کے بارے میں آپ کیا سوچتی ہیں؟

ج: یہ تو قسمت سے ملتی ہے۔ میرے لیے شہرت سے زیادہ اہم مداحوں کی پسندیدگی اور پذیرائی بے حد ضروری ہے، اس سے عمدہ کام کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ شہرت بزنس کے لیے اہم ہے ، جب کسی آرٹسٹ کو شہرت حاصل ہوتی ہے ، تو برانڈز اسے مختلف کمرشل میں لیتے ہیں ، اس طرح فن کاروں کو شہرت سے مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں، مشہور ہونا الگ بات ہے اور فن کار ہونا مختلف بات ہے۔

س: آج کے فن کاروں کی شادیاں اور پھرجلد ہی طلاقیں، ایسا کیوں ہورہا ہے؟

ج: فن کاروں کی آپس میں شادیاں خوش آئند بات ہے۔ ایک زمانہ تھا، جب کوئی فن کارہ یا سپر اسٹار شادی کرلیتا تھا، تو اس کی مقبولیت میں کمی واقع ہوٓجاتی تھی ، اب دنیا بدل گئی ہے۔ شادی سے شوبز کی لائف پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چھوٹی عمر میں شادی ہونے کی وجہ سے مسائل جنم لیتے ہیں، صرف شوبزنس ہی میں طلاق کی شرح نہیں بڑھ رہی ہے، عام لوگوں کی زندگی میں بھی طلاقیں بڑھ گئی ہیں ،فن کار بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید