آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ہوا کی رفتار سے 3 گنا تیز رفتار مسافر بردار طیارہ

اس جدید دور میں طیارہ ساز کمپنیز تیز ترین طیارے بنانے میں سر گرداں ہیں۔ حال ہی میں امریکی کمپنی ’’ورجن گیلکٹک ‘‘ نے دنیا کے تیز ترین مسافر بردار طیارے کا منصوبہ پیش کیاہے جو آواز سے 3 گنا تیز رفتار ہوگا یعنی یہ ایک گھنٹے میں 3600 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکے گا۔ کمپنی کے مطابق یہ طیارہ اسلام آباد سے واشنگٹن تک کا سفر صرف تین گھنٹوں میں مکمل کرلے گا۔اس مسافر طیارہ کو فی الحال کوئی نام نہیں دیا گیا ہے ۔یہ 60,000 فٹ کی بلندی پر رہتے ہوئے پرواز کرسکے گا ۔اس میں 9 سے 19 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہو گی۔ 

موجودہ مسافر بردار طیارے 30 ہزار سے 40 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہیں۔ورجن گیلکٹک نے اس منصوبے پر رولز رائس اور بوئنگ کارپوریشن کے ساتھ کام شروع کر دیا ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہوگا اور ایسے ایک طیارے کی قیمت کیا ہوگی۔ اس وقت دنیا میں جتنے بھی مسافر بردار طیارے ہیں وہ تمام کے تمام آواز سے کم رفتار یعنی ’’سب سونک‘‘ ہیں۔ انسانی تاریخ کا واحد سپر سونک (آواز سے تیز رفتار) مسافر بردار طیارہ ’’کونکارڈ‘‘ تھا جو 2003 میں ریٹائر کیا جاچکا ہے۔ورجن گیلکٹک کا سپر سونک مسافر بردار طیارہ دراصل ایک ’’بزنس جیٹ‘‘ ہوگا ۔اور اس طیارے کو خریدار اپنی مرضی کے مطابق ڈیزائن کر واسکے گا۔

اس وقت ایسےجیٹ انجن اور ایئرفریمز موجود ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے آواز سے تین گنا تیز رفتار بزنس جیٹ تیار کیا جاسکے۔ تاہم ورجن گیلکٹک کا ہدف ایسے مسافر بردار طیارے بنانا ہے جو ایک عام جیٹ کی طرح موجودہ ہوائی اڈوں سے پرواز کرنے اور اترنے کے قابل ہوں، اور انتہائی بلندی پر پہنچنے کے بعد اپنی تیز ترین رفتار کو پہنچیں۔بہت زیادہ بلندی پر پرواز کرنے کی وجہ سے اگرچہ اس طیارے کے ساتھ سونک بُوم کا مسئلہ بہت کم ہوگا لیکن پھر بھی ہوا کی تیز رگڑ کے باعث اس کا بیرونی ڈھانچہ بہت زیادہ گرم ہوجائے گا جب کہ تیز رفتار پرواز کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صدماتی موجیں (شاک ویوز) پورے طیارے میں شدید تھرتھراہٹ پیدا کریں گی، جسے کم کرنا بلکہ مکمل طور پر ختم کرنا بھی اشد ضروری ہوگا۔اُمید ہے کہ ان تمام چیلنجوں کے باوجود یہ طیارہ 2040 تک دنیا کی فضاؤں میں محوِ پرواز ہوگا۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید