• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احمدی نژاد کو ایران کا نیا رہنما بنانے کا اسرائیلی منصوبہ بے نقاب

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

اسرائیل کا سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو ایران کا نیا رہنما بنانے کا خفیہ منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے کئی برسوں پر محیط ایک خفیہ منصوبے کے تحت ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد کو اپنی انٹیلی جنس حکمتِ عملی کا حصہ بنانے کی کوشش کی، تاکہ مستقبل میں انہیں ایران میں ممکنہ نئی قیادت کے طور پر سامنے لایا جا سکے۔

بوڈاپیسٹ میں مبینہ خفیہ ملاقات

رپورٹس کے مطابق 2024ء میں محمود احمدی نژاد کو ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک کانفرنس میں مدعو کیا گیا، تاہم دعویٰ ہے کہ یہ دعوت ایک اعلیٰ ہنگری عہدیدار کی جانب سے خفیہ ملاقات کے لیے پردہ تھی۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ دعوت نامہ بھیجنے والے یونیورسٹی کے ریکٹر گیرگیلی ڈیلی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر دو دشمن آپس میں بات کرنا چاہیں تو انہیں موقع فراہم کرنا بہتر ہوتا ہے۔

اسی دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا کی بھی ہنگری میں احمدی نژاد سے ملاقات کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

حکومت کی تبدیلی کا منصوبہ ناکام

رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ ایران میں موجودہ حکومت کی تبدیلی کی ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ تھا، دعویٰ کیا گیا ہے کہ فروری 2026ء میں کشیدگی کے دوران ایک کارروائی کے ذریعے احمدی نژاد کو نظر بندی سے نکال کر نئی قیادت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم یہ منصوبہ ناکام رہا اور ایرانی حکومت اپنی جگہ برقرار رہی۔

احمدی نژاد کی مبینہ حراست

رپورٹس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ منصوبہ ناکام ہونے کے بعد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے محمود احمدی نژاد کو حراست میں لے لیا، جبکہ ایرانی حکام نے مبینہ طور پر اسرائیلی انٹیلی جنس سے ان کے روابط کا سراغ بھی لگا لیا۔

رپورٹس کے مطابق اگرچہ احمدی نژاد کی موجودہ حیثیت واضح نہیں، تاہم خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ نظر بند ہیں، جس کے ساتھ ہی اسرائیل کی خفیہ حکمتِ عملی کا یہ باب اختتام کو پہنچ گیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید