تحریر:حافظ عبدالاعلی درانی ۔بریڈفورڈ دامن اسلام میں جو ہیرے ہمیشہ سے جگمگاتے اور سدا روشنیاں بکھیرتے چلے آرہے ہیں ان میں فاروق اعظمؓ کا نام سب سے نمایاں ہے ۔ رسول محتشم نے فرمایا اگر میرے بعد کسی نبی کی آمد مقدر ہوتی تو وہ عمر بن خطابؓ ہوتے ۔ جن کے علم وفضل کا عالم یہ تھا کہ خود نبی اقدس نے فرمایا اللہ نے علم سے عمرؓکے ناخنوں تک کو بھر دیا ۔ جن کا دس سالہ عہد خلافت اتنا عظیم الشان رہا کہ اس کی کوئی مثال نہ سابق تاریخ میں تھی اور نہ اب تک ہوئی اور نہ ہی اس کا تاقیامت کوئی امکان ہے۔ اتنی عظیم اور بارعب ہستی تھی کہ شیطان وہ راستہ ہی چھوڑ دیتا تھا جس سے عمر گزر جاتے تھے ۔ اسلامی غیرت کا وہ مرقع تھے،اپنے دور کی سب سپر طاقتوں کو ناکوں چنے چبوا دیئے اور قیصر و کسریٰ کی شیطانی سلطنتیں ملیا میٹ کرڈالیں، کوئی سکندر اعظم فاروق اعظمؓ سے بڑھ کر نہیں ہے ۔ صدیوں سے بیت المقدس کی سر زمین نالائقوں کے زیر تسلط تھی جو عمر فاروقؓ کے ہاتھوں بغیر لڑائی کے فتح ہوگئی، آج سرزمین فلسطین اور ماحولہ پر جگہ جگہ عمر بن خطاب ؓکا نام ثبت ہے ۔ مستشرقین کا تجزیہ ہے کہ اگر اسلام میں ایک اور عمر جنم لے لیتا تو روئے زمین پر اسلام کے سوا کوئی مذہب باقی نہ رہ جاتا ۔ یکم محرم الحرام سیدنا وامامنا حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کا یومِ شہادت ہے ۔ ان کا اسم گرامی عمر بن خطاب لقب فاروق اعظم اور کنیت ابوحفص تھی اور دنیا کا سب سے بڑا سکندر اعظم ان کی شناخت ہے ۔ آپ کی پیدائش ہجرت نبوی ﷺ سے چالیس سال پہلے اور عام الفیل سے تیرہ برس بعد ہوئی ۔ آپ کے والد کا نام خطاب بن نفیل تھا اور والدہ ختمہ بنت ہشام تھیں ۔ آپکی والدہ حضرت خالد بن ولید کی چچا زاد بہن تھیں۔ آپ کا خاندان قریش میں سفیروں کا خاندان تھا کیونکہ سب پڑھے لکھے اونچے قد کاٹھ اور فصیح اللسان خطیب اور شاعر تھے ۔آپکا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر نبی کریم ﷺ سے جاملتا ہے۔ آپ کی بہن کا نام حضرت فاطمہ ( رضی الله عنھا )بہنوئی حضرت سعید بن زید ( رضی الله عنہ تھا جو اسلام لانے میں بہت آگے تھے ۔ آپ نے 40 مسلمان مردوں اور 11 خواتین کے بعد نبوت کے چھٹے سال اسلام قبول کیا۔آپ کی ازواج میں حضرت زینب رضی الله عنھا،قریہ بنت ایوامیہ،ملیکہ بنت جرول،عاتکہ بنت زید، جمیلہ، اُم حکیم بنت حارث7 اور اُم کلثوم بنت سیدنا علی بن ابی طالب تھیں ۔ آپ کی پہلی زوجہ حضرت عثمان بن مظعون ( رضی اللہ عنہ ) کی ہمشیرہ تھیں۔ قریہ اور ملیکہ دونوں کو مسلمان نا ہونے کی وجہ سے طلاق دے دی تھی۔ عاتکہ اور جمیلہ کو بھی کسی وجہ سے طلاق دے دی تھی۔ حضرت اُم کلثوم رضی الله عنھا حضرت علی رضی الله عنہ اورجگر گوشہ رسالت مآب حضرت فاطمہ رضی الله عنھا کی لخت جگرتھیں۔ آپ کے شہزادوں اور شہزادیوں میں حضرت حفصہ رضی الله عنھا جنہیں ام المومنین ہونے کا شرف حاصل ہوا ،سیدہ اُم کلثوم، رقیہ،حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہ جو امت میں ایک بڑے فقیہہ اور متبع سنت کے طور پر معروف ہیں ،حضرت زید رضی الله عنہ،حضرت مجیر رضی الله عنہ ،حضرت عبدالرحمن رضی الله عنہ تھے۔ آپ کی خلافت کا آغاز13 ہجری میں ہوا۔ مدت خلافت 10سال 6 ماہ کچھ دن ، آپ پر ایک بدبخت مجوسی ابولؤلؤ فیروز نے دوران نماز زہربجھے خنجر سے 26 ذوالحجہ 23 ہجری کو قاتلانہ حملہ کیا ۔جس سے آپ کی شہادت واقع ہوگئی اس دن یکم محرم 24 ہجری اور ہفتہ یا اتوار کا دن تھا، مجوسی ایرانی قاتل نے خود ہی اپنے آپ کو قتل کرلیا ۔آپ کی نماز جنازہ حضرت صہیب رومی رضی الله عنہ نے پڑھائی اور حجرہ اقدس میں سید المرسلین ﷺ اور امام المتقین سیدنا صدیق اکبرؓ کے ساتھ روضہ رسول ﷺ میں آپ کی تدفین کردی گئی، آپ کی عمر مبارک تقریباً 62 سال تھی ۔ [ فتوحات فاروقی ] حضرت امام شاہ ولی محدث دہلوی ( ۱۱۷۶ ھ) لکھتے ہیں کہ" حضرت عمر فاروق ؓکے دور حکومت میں ایک ہزار چھتیس ( 1,036 ) شہر مسلمانوں کے قبضے میں آئے ۔ جن کے ساتھ دیہات اور ماتحت علاقے بھی تھے۔ چارہزار ( 4,000) مساجد بنائی گئیں۔ نو سو ( 900 ) منبر جامع مسجدوں کی محرابوں کے ساتھ بنائےگئے ( ازالتہ ۳/۲۳۳ )فتح ہونے والے علاقوں میں شام، قیصر و کسریٰ، بیت المقدس ، فارس، خراسان، بلوچستان اور آرمینیا و دیگر نمایاں ہیں ۔آپ کے وزرا اور مشیروں میں نمایاں لوگ حضرت عثمان غنیؓ،حضرت علی المرتضی ؓ،حضرت عبدالله بن عباسؓ، حضرت عبدالله بن مسعود ؓ،حضرت زید بن ثابت ؓسمیت تمام صحابہ کرام شامل تھے۔ سیدنا علی المرتضیٰ آپ کے عہد میں چیف جسٹس رہے۔ ( البدایہ ۷/۳۱ )دور فاروقی کائنات کا عظیم الشان دور خلافت تھا، آپ کے نمایاں کارناموں میں سے چند ایک یہ ہیں ۔۔ فوجی اصطلاحات، آپ نےفوج کے لیے باقاعدہ چھاؤنیاں قائم کیں، مالی دفتر الگ بنایا،رضاکاروں کی تنخواہیں مقرر کیں، فوجی کےلیے چار چیزوںتیراکی، تیر اندازی ،شہسواری اور ننگے پاؤں دوڑنے کی مشق میں مہارت لازمی قرار دی ، فوج کے شعبے قائم کیے،مقدمہ،قلوب، میمنہ،میسرہ، ساقہ،طلیعہ،سفرمینا، اداء،شتر سوار یا عقبی گارڈ،سوار،پیادہ، تیرانداز، عہدے وضع فرمائے گئے ،چیف آف آرمی سٹاف، افسر خانہ، اکاؤنٹنٹ، قاضی، ڈاکٹر،سرجن،جاسوس، انجیئر،پرچہ نویس۔فوج کی چھاؤنیاں بنوائیں ، تمام انصارو مہاجر فوجی صحابہ کرام کے نام رجسٹرڈ کروائے۔ فوجیوں کو درجہ بدرجہ تنخواہیں دی جانے لگیں، ہر فوجی کے کوائف درج کروائے ۔ انکے اہلخانہ کے وظائف مقرر کیے۔ ،فوج کے دو حصے کیے۔ ایک جنگی مہمات میں مصروف ہوتا جبکہ دوسرا گھروں میں ( ریزرو) رہتا۔ تنخواہیں دونوں کو ملتیں۔ہر فوجی کو جمعہ کی چھٹی کے علاوہ ہر 4 ماہ بعد باقاعدہ چھٹی ملتی تو اسکی جگہ متبادل فوجی بھیجا جاتا۔ مدینہ، کوفہ،دمشق،موصل،فسطاط، حمص، (جاری ہے)