آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جب سے سرفراز احمد کو کرکٹ ٹیم کی کپتانی سے ہٹایا گیا ہے، کرکٹ ٹیم مسلسل شکستوں سے دوچار ہے۔ سرفراز احمد کے کپتان بننے سے پہلے پاکستان ٹیم اتنی مضبوط نہیں تھی جتنی ان کے کپتان بننے کے بعد ہو گئی تھی اور سرفراز نے ہی ٹیم کو اچھے طریقے سے سنبھالا جسکی وجہ سے دنیائے کرکٹ میں پاکستان ٹیم اول نمبر پر آگئی مگر اس سب کے باوجود سری لنکا سے ایک سیریز ہارنے کے بعد انہیں کپتانی سے ہٹانا کہاں کا انصاف ہوا؟ دوسری طرف پی سی بی کا سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹاکر بابر اعظم کو ون ڈے کا اور اظہر علی کو ٹیسٹ کا کپتان بنانا بھی کچھ بہتر فیصلہ تو نہیں تھا اگرچہ بابر اعظم اس وقت سب سے بہترین کھلاڑی ہیں مگر ضروری تو نہیں کہ ایک اچھا کھلاڑی ہی اچھا کپتان بن سکے۔ ایسے کپتان، جس کی قیادت میں ہماری ٹیم لگاتار گیارہ سیریز میں ناقابلِ شکست رہی جو کہ ایک ورلڈ ریکارڈ بھی ہے، کو ایسے وقت میں کپتانی سے ہٹا دینا خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے جیسا ہے۔

دوسری جانب اظہر علی کو بھی کوئی خاص تجربہ نہیں تھا، اس کو ابھی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی نہیں دینی چا ہئے تھی، بلکہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سرفراز احمد کو دینی چاہئے تھی، کیونکہ سرفراز احمد کو تجربہ بھی تھا اور ٹیم میں سیاست نہیں تھی اور کھلاڑی متحد تھے۔ ملک کے مہنگے ترین کوچ و چیف سلیکٹر مصباح کو یہ بات کون سمجھائے کہ ہتھیار کے بغیر جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور تجربے اور درست سلیکشن کے بغیر مضبوط ٹیم کے خلاف میدان میں اُترنا دانشمندی نہیں۔ کہانی پھر وہی پرانی ہے۔ اب بھی یہی ہوا کہ رضوان کو بار بار کھلانے کا نتیجہ صفر نکلا، اگر شاداب کی جگہ فواد عالم کو کھلاتے جو آل رائونڈر ہے، تو یقیناً پاکستان کا اسکور بھی زیادہ ہوتا اور میچ بھی ہاتھ سے نہ جاتا، رضوان کی جگہ سرفراز احمد کو کھلانا چاہئے تھا۔ اگر شاداب اور رضوان کی جگہ فواد عالم اور سرفراز احمد کو کھلایا جاتا تو اس کا نتیجہ مختلف ہوتا، مگر کیا کیا جائے کراچی کے کرکٹر کے ساتھ ناانصافی جو کرنی ہوتی ہے۔ اب یہی حال پھر انگلینڈ کے خلاف ٹیم کے ساتھ ہوا۔

اولڈ ٹریفورڈ گراؤنڈ(مانچسٹر) میں تجربے نے نوجوانوں کی صلاحیت کو پچھاڑ دیا اور انگلینڈ کرکٹ ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو 3وکٹوں سے شکست دے کر3 میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کرلی۔ انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان کے نوجوان باصلاحیت باؤلروں کی اچھی باؤلنگ کی وجہ سے شکست کا سامنا تھا لیکن برطانوی باؤلروں اور بیٹسمینوں کے تجربے نے یہ مشکل منزل وکٹ کیپر بیٹسمین بٹلر اور آل راؤنڈر ووکس کی شاندار پارٹنر شپ کی بدولت حاصل کر لی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی نے ٹاس جیت کر پہلے کھیلنے کا درست فیصلہ کیا اور اوپنر شان مسعود کی ڈیڑھ سنچری کی بدولت 326رنر کا ہدف دینے میں کامیاب رہے۔ انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں پاکستان کے نوجوان باؤلروں کی نپی تلی اور جاندار باؤلنگ کے سامنے 219رنز بنا سکی، تاہم پاکستان کے بلے باز دوسری اننگز میں وکٹ پر نہ ٹھہر سکے، انگریز باؤلروں نے تجربے کی بنیاد پر ان کو 169رنز پر ڈھیر کر دیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے 277 رنز کا ہدف دیا، انگلینڈ والے پہلی پانچ وکٹیں 145رنز پر گنوا بیٹھے، جس کے بعد بٹلر اور ووکس نے سنبھال لیا، کپتان اظہرعلی باؤلر کی مناسب تبدیلی نہ کرنے سے باؤلر دباؤ کا شکار ہو گئے جس کی وجہ سے مزید صرف2کھلاڑی آؤٹ ہوئے اور انگلینڈ نے ساڑھے تین دن میں میچ جیت لیا جو بات سمجھ سے باہر ہے وہ یہ کہ شاداب خان کو دوسرے سپنر(آل راؤنڈر) کے طور پر کھلایا گیا،لیکن اسے باؤلنگ کا معقول موقع نہ دیا گیا۔ اسی طرح جب بٹلر اور ووکس جم کر کھیلے، اگر باؤلر دباؤ میں تھے تو غیر معروف باؤلر(شان مسعود) سے2، تین اوور کرا کے پارٹنر شپ توڑنے کی کوشش کیوں نہ کی گئی۔جس وقت 5وکٹیں 145رنز پر گر گئیںتھیں تو اس وقت کپتا ن کو اٹیکنگ گیم کھلانی چاہئے تھی،شارٹ پچ اور بائونسر سے کام لینا چا ہئے تھا، تب جا کر وکٹیں ملتیں ۔پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ لائن کی مایوس کن کارکردگی کا اندارہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کپتان اظہر علی ، اسد شفیق،عابد علی دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 126رنز بنا سکے اور پاکستان کی بالنگ لائن میں یاسر شاہ کے علاوہ تجربے کی بھی کمی ہے ،یاسر شاہ نے 40،جبکہ محمد عباس ،شاہین آفریدی اور نسیم شاہ نے مجموعی طور پر 33ٹیسٹ کھیلے ہیں ۔دوسرا ٹیسٹ بھی ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا،بارش کی وجہ سے 5دن میں صرف 134اوورز کا کھیل ہو سکا اور میچ بغیر کسی فیصلے کے ختم ہو گیا ،جس کی وجہ سے پاکستانی ٹیم کا سیریز جیتنے کا خواب ختم ہو گیا۔امید تھی کہ پاکستانی ٹیم تیسرا ٹیسٹ جیت کر کم از کم سیریز برابر کر لے گی،مگر افسوس وہی پرانا حال ۔انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہو ئے جوز بٹلر کے 152اور زیک کرالی کے 267رنز کے بدولت 8وکٹوں کے نقصان پر 583رنز بنا کر اننگ ڈیکلیئر کر دی۔پاکستانی بیٹنگ پھر ناکام ہو گئی اورصرف 30رنز پر 4کھلاڑی آئوٹ ہونے کے بعد رضوان اور کپتان اظہر علی کی بیٹنگ کے سہارے 273رنز بنا کر فالو آن سے نہ بچ سکی ۔چوتھے اور پانچویں روز بارش کی وجہ سے پاکستانی ٹیم نے 4وکٹوںپر 187رنز بنا ئے تھے اور میچ بغیر ہار جیت کے ختم ہو گیا اور پاکستانی ٹیم بارش کی وجہ سے دوسری شکست سے بچ گئی ۔البتہ سیریز 1-0سے ہار گئی ۔مصباح الحق پاکستان کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ضرور ہیں لیکن ٹیم کی قیادت کرنا اور ٹیم کی کوچنگ کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ سونے پر سہاگا یہ کہ ان کو ٹیم سلیکٹ کرنے کی دُہری ذمہ داری بھی دے دی گئی ہے۔