آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ محفوظ


انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، جو 17 ستمبر کو سنایا جائے گا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی، فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ملزمان کے خلاف فیصلہ محفوظ کرلیا، سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا فیصلہ 17 ستمبر کو سنایا جائے گا۔

ملزمان کے خلاف سٹی کورٹ سے کیس انسداد دہشتگردی عدالت منتقل کیا گیا تھا، فروری2017 میں رہنما ایم کیوایم روف صدیقی، رحمان بھولا، زبیر چریا اور دیگر پر فردجرم عائدکی گئی تھی۔

11ستمبر 2012 کو بلدیہ فیکٹری میں آگ لگنے سے 260 افراد جل کر جاں بحق ہوگئے تھے۔

فیکٹری مالکان نے آگ لگنے کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا تھا، کیس میں ملزمان کے خلاف 400 عینی شاہدین اور دیگر نے بیان ریکارڈ کرائے۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی پیروی رینجرز پراسیکیوشن نے کی۔

سانحہ بلدیہ کیس میں فیکٹری مالکان کے سنسنی خیز انکشافات

20 ستمبر 2019 کو  سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت کے دوران  فیکٹری مالکان نے مرکزی ملزمان کو شناخت کرتے ہوئے سنسی خیز انکشافات کئے تھے۔

فیکٹری مالکان کا کہنا تھا کہ سابق گورنر سندھ نے ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے متاثرین کو معاوضہ دینے کا کہاتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے متاثرین کو معاوضہ دیں تو تمام چیزیں ٹھیک ہوجائیں گی۔

جب کہ سابق گورنر سندھ عشرت العباد کا کہنا تھاکہ میرا معاملے سے کوئی تعلق نہیں ، میں خود اس وقت گورنر کی حیثیت سے ذمہ داری ادا کررہا تھا،یہ سب جھوٹ اور بہتان ہے۔

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں دبئی میں پاکستان سفارت خانے سے فیکٹری مالک ارشد بھائیلہ نےاسکائپ کے ذریعے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کو کروڑوں روپے بھتہ دینے کا کہا گیا تھا۔

فیکٹری مالک نے رحمان بھولا، زبیر چریا، رؤف صدیقی سمیت دیگر ملزمان کو شناخت کیاتھا۔

ارشد بھائیلہ نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ منصور نے 2004 میں فیکٹری جوائن کی اور اسی سال ایم کیو ایم کا بھتہ بھی شروع ہوگیا، ایم کیو ایم سے معاملات منصور نے طے کرائے تھے، ایم کیو ایم کو 15 سے 25 لاکھ روپے بھتہ جاتا تھا، منصورنے کہا اگر کراچی میں کام کرنا ہے تو ایم کیو ایم سے بنا کر رکھنی ہوگی، 2005 میں فیکٹری ملازم جنرل منیجر منصور نے زبیر عرف چریا کو فیکٹری فینسنگ ڈپارٹمنٹ میں بھرتی کیا، زبیر چریا بلدیہ سیکٹر انچارج اصغر بیگ کے چھوٹے بھائی کا گہرا دوست تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جنرل منیجر منصور نے ایم کیوایم کو 15 لاکھ روپے ماہانہ دینے پر رضا مند کیا جبکہ آتشزدگی کے بعد ایم کیو ایم سیکٹر انچارج اصغر بیگ کو بھتہ دیا۔

اپنے بیان میں انہوں نے بتایا کہ 2012 میں منصور کے آفس میں شاہد بھائیلہ سے سیکٹر انچارج ملا اور کہا کہ اب ایم کیو ایم کو کروڑوں روپے بھتہ دینا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیے :کراچی: سانحہ بلدیہ فیکٹری کو7 سال گزر گئے

بیان کے مطابق 12 جولائی 2012 کو اصغر بیگ کی جگہ رحمٰن بھولا کو بلدیہ کا سیکٹر انچارج لگایا گیا، جس کے بعد ایک روز ہم جب فیکٹری سے نکل رہے تھے تو رحمٰن بھولا نے روکا اور دھمکی دی کہ بھتے کے لیے حماد صدیقی سے رابطہ کرو۔

انہوں نے بتایا کہ رحمٰن بھولا نے حماد صدیقی کی ایما پر 25 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری میں حصہ مانگا، یہ سن کر ہم حیران رہ گئے۔

فیکٹری مالک کے مطابق ہم نے منصور کو بھتے کے معاملات دیکھنے کے لیے کہا اور انہیں کہا کہ ایک کروڑ روپے دے کر معاملہ نمٹایا جائے۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں مسلسل ایم کیو ایم کی جانب سے تنگ کیا جانے لگا، جس پر ہم نے کاروبار بنگلہ دیش منتقل کرنے کے لیے وہاں کا دورہ کیا جبکہ ہم فیکٹری جانے والے راستے اور گاڑیاں بھی تبدیل کرتے رہتے تھے۔

عدالت میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 11 ستمبر 2012 کو پہلے گودام میں آگ لگائی گئی، فائر بریگیڈ واقعہ کے بعد 60 سے 90 منٹ کے بعد پہنچی۔ لیکن ان کے پاس پانی نہیں تھا اور آلات بھی نہیں تھے، میں نے فائر بریگیڈ والوں کو اپنے ہائیڈرنٹ سے پانی کی پیش کش کی جسے انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنا کام کرنے دو۔

مالک نے بتایا کہ اْس وقت کے چیف سی پی ایل سی احمد چنائے نے رشتہ دار کے ذریعے پیغام بھیجا، فیکٹری میں مزید رکنا مناسب نہیں ہے تو ہم رشتہ داروں کے ہاں چلے گئے، ہمارے جانے کے بعد ایم کیو ایم کارکنوں نے فیکٹری کا کنٹرول سنبھال لیا اور کسی کو اندر نہیں جانے دیا گیا۔

بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعد میں ہمیں ملازم نے بتایا کہ جب آگ لگی تو زبیر چریا 4 سے 5 اجنبی افراد کے ساتھ کینٹن میں بیٹھ کر چرس پی رہا تھا، خیال تھا کہ زبیر چریا بھی فیکٹری میں آگ لگانے میں ملوث ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 12 ستمبر کو واقعہ کا مقدمہ ایم کیو ایم اور رؤف صدیقی کے دباؤ پر ہمارے خلاف ہی درج کردیا گیا، 24 گھنٹوں میں ہمارے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل ) میں شامل کردیے گئے، ہمیں ولن اور اصلی ملزم کے طور پر پیش کیا گیا، ہم نے لاڑکانہ سے ضمانت حاصل کی اور پولیس کی تفتیش میں شامل ہوئے۔

ارشد بھائیلہ نے کہا کہ ہم تین سال تک متاثرین کو راشن دیتے رہے اور مالی امداد بھی کی کمیشن بنا تو ہم نے فرانسک کی ڈیمانڈ کی جسے مسترد کردیا گیا، اس وقت کے صوبائی وزیر صنعت و تجارت رؤف صدیقی نے ہمارے ہی خلاف مقدمہ درج کروایا، ہم نے اپنے کیس کے لئے نعمت اللہ رندھاوا ایڈوکیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں جو چند تاریخوں پر پیش ہوئے پھر انہیں بھی قتل کردیا گیا۔

ارشد بھائیلہ نے بیان میں کہا تھا کہ جون 2013 میں ہمارے انکل کو سائٹ ایریا سے اغواء کرلیا گیا، سی پی ایل سی کے سابق چیف احمد چنائے نے ہمیں اغواء کاروں سے معاملات طے کرنے کا کہا، ہمارے انکل کو بھاری تاوان وصول کرنے کے بعد رہا کیاگیا۔

ارشد بھائیلہ نے کہا کہ 13 ستمبر کو گورنر سندھ عشرت العباد نے احمد چنائے کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ ہم گورنر ہاؤس میں خود کو پولیس کے حوالے کردیں، گورنر نے کہا کہ اگر ہم ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے متاثرین کو معاوضہ دیں تو تمام چیزیں ٹھیک ہوجائیں گی، معاملہ ٹھنڈا کرنا ہے تو ہر مرنے والے کے اہلخانہ کے لیئے 4 لاکھ روپے ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم پر جمع کرادیں۔

ارشد بھائیلہ نے مزید بتایا تھا کہ سابق ایم این اے سلمان مجاہد بلوچ نے جیل میں ملاقات کی اور کہا کہ مجھے وکیل کرلیں میں معاملہ ٹھنڈا کروادوں گا، ہم جب ضمانت پر رہا ہوئے تو ایم کیو ایم کی جانب سے ہم پر سخت دباؤ ڈالا گیا، ہم نے ایم کیو ایم کے ذریعے معاملات طے کرنے کا فیصلہ کیا اور ملزم علی قادری کے اکاؤنٹ میں پانچ کروڑ 98 لاکھ روپے جمع کرائے۔

خیال رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

قومی خبریں سے مزید