آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ربیع الاوّل 1442ھ 27؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ذہین فلم ساز، تقسیم کار اور کامیاب ہیرو ’’اعجاز درانی‘‘

آنکھوں میں جھلکتی شرافت، ہونٹوں پر کھلتی مسکراہٹ اور چہرے پر ہمہ وقت پھیلی معصومیت، نام ور اداکار ذہین فلم ساز اور کام یاب تقسیم کار اعجاز دُرانی کی شخصیت کے امتیازی حوالے ہیں۔ اُن کی پیدائش جلال پور جٹاں کے نواحی گائوں میں 1935ء میں ہوئی۔ ہدایت کار منشی دل کی فلم ’’حمیدہ‘‘ میں وہ بہ طور ساتھی اداکار متعارف ہوئے۔ یہ فلم 1956ء میں ریلیز ہوئی۔ فلم ساز دائود چاند کی اردو فلم ’’مرزا صاحباں‘‘ میں بھی وہ سائیڈ ہیرو تھے۔ تاہم 1957ء کی ریلیز فلم ’’بڑا آدمی‘‘ میں بہ طور ہیرو ان کی پہلی فلم تھی،جسے ہمایوں مرزا نے ڈائریکٹ کیا۔

اس میں مینا شوری ان کی ہیروئن تھیں، مگر بہ طور ہیرو ان کی پہلی کام یاب فلم ’’راز‘‘ تھی، جسے پاکستان کی پہلی نیم جاسوسی فلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ فلم ’’راز‘‘ میں ان کی ہیروئن مسرت نذیر تھیں۔ اردو فلموں کے بعد انہیں پہلی پنجابی فلم جو ملی، وہ تھی، ہدایت کار شیخ اقبال کی ’’سچے موتی‘‘ جس میں نیلو ان کی ہیروئن تھیں۔ یہ فلم 1959ء میں ریلیز ہوئی۔ اعجاز کی بہ طور ہیرو پہلی سپر ہٹ فلم اشفاق ملک کی فلم ’’سلمیٰ‘‘ تھی، جو دھواں دھار بزنس کے ساتھ 40سے زائد ہفتے چلی۔

ہدایت کار خلیل قیصر کی چونکا دینے والے موضوع پر مبنی 1962ء کی شاہ کار فلم ’’شہید‘‘ جو کہ مسرت نذیر اور آغا طالش کی فلم کہلاتی ہے۔ تاہم علائو الدین، ساقی، حسنہ، دلجیت مرزا اور ہمالیہ والا کے شانہ بہ شانہ اعجاز درانی نے بھی مُحب وطن حارث کا کردار بہت عمدگی اور محنت سے نبھایا۔ پنجابی سنیما کی حسین و جمیل اداکارہ فردوس کے ساتھ ان کا پہلا اشتراک کےمحی الدین کی فلم ’’لائی لگ‘‘ میں ہوا۔ 1966ء میں ریلیز راجہ حفیظ کی فلم ’’ہمراہی‘‘ میں وہ بہ طور مہمان اداکار نظر آئے،لیکن ان کے کریڈٹ پر پہلی گولڈن جوبلی فلم کی حیثیت سے ’’ہمراہی‘‘ کا نام درج ہوا، ممتاز ہدایت کار حسن طارق کی سوشل ڈراما مووی ’’سوال‘‘ میں اعجاز درانی پہلی بار منفی کردار میں جلوہ گر ہوئے۔ 1967ء میں ریلیز ہونے والی رضا میر کی خُوب صورت معیاری نغمہ بار فلم ’’لاکھوں میں ایک‘‘ میں وہ ایک یادداشت گم کردہ نوجوان کے کردار میں متاثرکُن پرفارمنس کے ساتھ سامنے آئے۔

ان پر پکچرائزڈ اس فلم کے دو نغمے ’’دل دیا درد لیا آنکھ میں آنسو آئے‘‘ اور ’’ساتھی کہاں ہو آواز تو دو‘‘ سُر سنگیت کا حصہ ہیں۔ بہ طور ہیرو ان کی پہلی سپرہٹ پنجابی فلم ہدایت کار مسعود پرویز کی ’’مرزا جٹ‘‘ تھی، جس میں فردوس ان کی ہیروئن بنی تھیں اور اسی فلم سے فردوس اور اعجاز کی جوڑی مقبول ہوئی۔ مرزا جٹ 1967ء میں ریلیز ہوئی۔ 1968ء کی ریلیز حسن طارق کی فلم ’’بہن بھائی‘‘ میں اعجاز دُرانی ایک بار پھر مکمل منفی رول میں جلوہ گر ہوئے اور اپنی زبردست پرفارمنس سے ناقدین کو چونکا دیا۔ اس کا سر پر ٹوپی کو ٹیڑھا کرکے رکھنا اور مٹھی میں سگریٹ دبا کر کش لینے کا انداز فلم بینوں کو خوب پسند آیا۔ یہاں1966ء کی ریلیز یونس راہی کی فلم ’’جلوہ‘‘ کا تذکرہ بھی ضروری ہے۔ گو فلم کے ہیرو درپن تھے، لیکن اعجاز درانی نے ان کے دوست کا کردار بڑی ہی خُوب صورتی سے نبھایا تھا۔

یہ کردار انسانیت، شرافت اور ایثار و قربانی کا بہترین مظہر تھا، جس کی ادائیگی اعجاز نے اس قدر متاثر کُن انداز میں کی کہ وہ بعض مناظر میں درپن سے بھی آگے نظر آئے۔ ان کی یادگار کردار نگاری سے آراستہ دیگر فلموں میں ایس اے بخاری کی ’’دلاں دے سودے‘‘ ریاض شاہد کی ’’زرقا‘‘، شریف نیر کی ’’دوستی‘‘ اور مسعود پرویز کی سپر ہٹ فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ بہ طور خاص قابل ذکر ہیں کہ جن میں اعجاز درانی نے اپنے کرداروں کو پُوری محنت اخلاص اور کمٹ منٹ کے ساتھ نبھایا۔ ’’دلاں دے سودے‘‘ میں وہ دو عورتوں کے درمیان منقسم مرد کے روپ میں ایک الجھے ہوئے کردار سے پورا انصاف کرتے نظر آئے۔ فلم ’’زرقا‘‘ میں وہ فلسطین کی تنظیم آزادی کے سپاہی تھے، تو ’’ہیر رانجھا‘‘ میں تخت ہزارہ کے متمول گھرانے کے چشم و چراغ ’’رانجھا‘‘ کے روپ میں انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔

اعجاز دُرانی کی کام یاب ہیروئنز میں سرفہرست نام بلاشبہ اداکارہ فردوس کا ہی آتا ہے۔ ’’مرزا جٹ‘‘، ’’عشق نہ پچھے ذات‘‘، ’’دلاں دے سودے‘‘،’’ ہیر رانجھا‘‘، ’’ضدی‘‘ اس جوڑی کی نمایاں ترین فلمیں ہیں، جب کہ ان کے اشتراک میں بننے والی فلموں کی ایک طویل فہرست موجود ہے۔ ان کی دوسری کام یاب ترین ہیروئن نغمہ ہیں۔ ان کے ساتھ بھی اعجاز درانی فلموں میں ہیرو آئے، جن میں سے چند نمایاں ترین فلمیں ’’تیرے عشق نچایا‘‘، ’’دیا اور طوفان‘‘، ’’انورا‘‘، ’’خاں چاچا‘‘، ’’سلطان‘‘ اور ’’آسو بلا‘‘ شامل ہیں۔ نیلو کے ساتھ وہ زیادہ تر اُردو فلموں میں ہیرو آئے۔ اس جوڑی کی قابل ذکر فلموں میں ’’گہرا داغ‘‘، ’’عذرا‘‘، ’’بیٹی‘‘، ’’بدنام‘‘، ’’دوشیزہ‘‘ اور ’’زرقا‘‘ کے نام شامل ہیں۔

مسرت نذیر کے ساتھ ’’ڈاکو کی لڑکی‘‘، ’’سولہ آنے‘‘، ’’شہید‘‘، ’’گلبدن‘‘، اور ’’راز‘‘ ان کی اہم فلمیں ہیں۔ شبنم کے ساتھ فلم ’’دوستی‘‘، ’’نیا سویرا‘‘، شمیم آرا کے ساتھ ’’لاکھوں میں ایک‘‘ اور ’’زندگی ایک سفر ہے‘‘ میں اعجاز درانی کو بہ طور ہیرو پیش کیا گیا۔ جب کہ دیبا، زیبا، بہار، مینا شوری، صبیحہ خانم، یاسمین، سلونی، روزینہ نے بھی بہ طور ہیروئن اعجاز درانی کے ساتھ کام کیا۔

بہ حیثیت اداکار اعجاز دُرانی کو بہترین پرفارمنس کی مد میں قابل ذکر ایوارڈز نہیں مل سکے، لیکن باکس آفس پر ان کی متعدد فلموں نے جو سنگ میل نصب کیے، وہ قدرت کی طرف سے اعجاز درانی کے ایسے اعزازات ہیں، جو تاقیامت ان ہی کے کریڈٹ پر جگمگاتے رہیں گے۔ مثلاً (1) پاکستان کا ڈائمنڈ جوبلی کا اعزاز حاصل کرنے والی پہلی فلم ’’زرقا‘‘ کے ہیرو اعجاز ہیں۔ (2) کراچی میں پنجابی سنیما کی تاریخ میں سب سے پہلے گولڈن جوبلی کا اعزاز حاصل کرنے والی فلم ’’دلاں دے سودے‘‘ کے ہیرو بھی اعجاز ہیں۔ (3) کراچی میں سب سے پہلے پلاٹینم جوبلی منانے والی پنجابی فلم ’’انورا‘‘ کے ہیرو ہونے کا اعزاز اعجاز درانی ہی کو حاصل ہے۔ (4) کراچی سرکٹ میں ریٹ رن میں کام یابی کی نئی تاریخ رقم کرکے پلاٹینم جوبلی منانے والی پنجابی فلم ’’شیر خان‘‘ 87ہفتے کے ڈسٹری بیوٹر ہونے کا اعزاز بھی سنگیت پکچرز کے روح رواں کی حیثیت سے اعجاز درانی کو ہی حاصل ہے۔

باکس آفس کے کام یاب اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ اعجاز درانی نہایت کام یاب ڈسٹری بیوٹر اور نہایت منتظم منصوبہ بندی کے ساتھ فلم سازی کے فن میں بہترین صلاحیتوں کے حامل ثابت ہوئے۔ ’’دوستی‘‘، ’’ہیررانجھا‘‘، ’’شعلے‘‘ جیسی باکس آفس پر تہلکہ مچا دینے والی فلمیں بہ حیثیت فلم ساز ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ انہوں نے پہلی شادی ملکہ ترنم نور جہاں سے اور دوسری شادی فردوس سے کی، لیکن دونوں شادیاں طلاق پر ختم ہوئیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید