آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

علیزہ صغیر

بیٹے کی پیدائش پرچاند سی دلہن کی آرزو اور بیٹی کی آمد پر کسی شہزادے کے بارات لانے کا خواب ہر ماں دیکھتی ہے اور جب بچے جوان ہوتے ہیں تو ماں، باپ ان کی خوشیاں نہیں بلکہ اپنی آرزوئیں تلاش کرتے ہیں ،نہ چاند سی دلہن ملتی ہے اور نہ امیر شہزادہ۔ لڑکے تو کچھ انتظار کے بعد اپنے لیے چاند سی دلہن خود ہی ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن لڑکیاں اپنے ماں باپ کا منہ تکتے تکتے عمر کی اس دہلیز پر پہنچ جاتی ہیں جہاں کسی شہزادے کے آنے کی کوئی اُمید باقی نہیں رہتی۔

اگر دیکھا جا ئے تو خواتین نے دہرے معیار اور خود ساختہ اصول بنا ئے ہیں ۔بیٹی کا رشتہ کرتے وقت ڈیمانڈ الگ ہوتی ہیں اور بیٹے کا کرتے وقت الگ ۔ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ شادی کا مطلب جیون بھر کا ساتھ ہے ،جس کی شروعات اعتماد سے ہوتی ہیں۔

یہ کوئی چند دنوں کا ساتھ نہیں بلکہ ساری زندگی کا ہوتا ہے ۔پھر بھی بیٹی کی خوشیوں کا انشورنش مانگتے ہیں اور مستقبل کی مسکراہٹوں کی یقین دہانی طلب کرتے ہیں۔ درحقیقت ان کے بے جا مطالبات ان کی بیٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ مائوں نے عجیب و غریب معیار بنا کر سخت اصولوں کی زنجیر میں اپنی ہی اولاد کو جکڑ رکھا ہے، جو بظاہر تواپنے ماں باپ کے گھروں میں ہیں ،مگر زندگی اس طائر کی طر ح گزاررہی ہیں جو پنجرے میں قید پرندوں کوہم ہنستے کھیلتے دیکھ رہے ہیں لیکن صیاد کی طرف سے جانے کی اجازت نہیں۔

پھر جب رشتے نہیں آتے تو رشتے کرانے والی خواتین سے رابطے کیے جاتے ہیں ،جب وہ کو ئی اچھا رشتہ لاتی ہیں تو ان میں مکان ،گاڑی ،بنگلہ اور لڑکے کی تنخواہ کو بنیاد بنا کر اوربے جا اعتراضات کرکے اُمید کا رستہ بند کرکے لڑکی کو مزید سلگنے کے لیے چھوڑدیا جاتا ہے ۔لڑکی کے رشتے کے معاملے میں چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا شخص بقراط بن جاتا ہے ۔اکثر گھرانوں میں لڑکوں سے اس طر ح پوچھ گچھ کی جاتی ہے جیسے پولیس کسی مشتبہ شخص سے تفتیش کرتی ہیں۔

لڑکی کی شادی کے معاملے میں پورے خاندان کی رضا مندی کو رشتے کی منظوری سے مشروط قرار دیا جاتا ہے، جب کہ لڑکی سے پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جاتی ۔جب لڑکیاں اپنی دوستوں کی شادی دیکھتی ہیں تو وہ اس وقت مزید ٹوٹ جاتی ہیں ،مگر ٹوٹنے کی آواز ان کے ماں باپ کو نہیں سنائی دیتی۔ رشتے کے معاملے میں اچھے بھلے موقع پر لڑکی کے اپنے ہی گھر والے روڑے اٹکاتے ہیں ،کبھی حق مہر کی شر ط لگا کر ،کبھی مہندی کی دھوم دھام اور ر بے شمارسومات کا مطالبہ کرکے بنے بنائے معاملات کو بگاڑ دیتےہیں۔

دنیا میں ایسی بے شمار عورتیں تھیں اور ہیں جنہوں نے اپنی ہنر مندی اور صلا حیتوں سے اپنے گھر کو جنت بنایا ۔خوشیوں کے حصول کے لیے دکھ درد کی شاہراہوں پر سفر کیا ،مگر موجودہ دور میں چائے کی ٹرے لانے کے کلچر نے ہماری معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو نہ صرف تباہ کیا بلکہ ان لڑکیوں کو خود سر بنا دیا ہے جو پہلے بڑوں کے فیصلے کو دل وجان سے قبول کر لیتی تھیں۔جب انہیںا پنی خواہشات کی تکمیل ہوتے نظر نہیں آتی تو وہ ماں باپ کے فیصلے کو ردکردیتی ہیں۔

لیکن اس کے باوجود یہ کہنا کہ ماں باپ اپنی بچیوں کے رشتے کے سلسلے میں پریشان یا فکر مند ہیں تو یہ درست نہیں ،کیوں کہ ہم اپنے ہی ہاتھ سے لپیٹی ہوئی زنجیروں میں الجھ کر کسی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے ۔ایک اور بات یہ کہ تمام اصول اور شرائط ہماری خود کی بنائی ہوئی ہیں تو اس میں دوسرا کیسے قصور وار ہوسکتا ہے ۔

اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو کچی بستیوں اور چھوٹے چھوٹے مکانوں میں رہنے والی ہزاروں لڑکیاں خوش وخرم زندگی گزار رہی ہیں ،وہ ان ہزاروں مال دار خواتین اور لڑکیوں سے بہتر ہیں جو برس سہا برس سے ڈولی میں بیٹھنے کی منتظر ہیں ، ماں باپ کےخوب سے خوب تر کی تلاش نے لڑکیوں کو کہاں لا کر کھڑا کر دیا ہے ۔والدین کو چاہیے کہ اپنی شرائط کی کتاب پر نظر ثانی کریں۔