آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تعزیرات پاکستان کی سیکشن 124 اے ختم کیے جانے سے متعلق بل پر سینیٹ اجلاس

اسلام آباد (طارق بٹ) تعزیرات پاکستان کی سیکشن 124 اے ختم کیے جانے سے متعلق بل پر سینیٹ اجلاس، رضا ربانی کا کہنا ہے کہ پی پی سی سیکشن 124 اے مقامی لوگوں کے خلاف انہیں کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ تفصیلات کے مطابق، تعزیرات پاکستان (پی پی سی) سے سیکشن 124اے (بغاوت) کو ہٹانے سے متعلق بل پر سینیٹ کا پینل غوروفکر کررہا ہے کیوں کہ یہ بل آزاد اور خودمختار پاکستان سے غیر متعلق ہے۔ یہ بل سابق چیئرمین سینیٹ رضاربانی نے رواں برس فروری میں پیش کیا تھا۔ جسے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بھجوایا گیا حالاں کہ متعلقہ وزیر نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ رضاربانی نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ پی پی سی کا سیکشن 124 اے حکمرانی کا نوآبادیاتی ڈھانچہ ہمیں وراثت میں ملا ہے، اسے مقامی لوگوں کے خلاف انہیں کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج حکمرانوں اور عوام میں غلام اور آقا کا تعلق نہیں رہا ہے۔ حکومت کی توقیر کو ریگولیٹ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ انفرادی آزادی کے احترام اور طرز حکمرانی کی

صلاحیت سے حاصل کیا جاتا ہے۔ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 124 اے کے تحت جو شخص بھی الفاظ سے چاہے تقریر یا تحریر یا اشارے سے یا کھلے طور پر یا کسی اور ذریعے سے نفرت اور حقارت پھیلاتا ہے یا پھیلانے کی کوشش کرتا ہے یا فیڈرل یا صوبائی حکومت جو قانونی طور پر قائم کی گئی ہوں کے خلاف بدگمانی پھیلانے کے لئے اشتعال دلاتا ہے یا اشتعال دلانے کی کوشش کرتا ہے اسے عمر قید کی سزا دی جائے گی جس میں جرمانہ بھی شامل ہوگا، یا اسے تین سال قید کی سزا ہوگی جس میں جرمانہ بھی شامل ہوگا، یا جرمانہ کی سزا ہوگی۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ انہوں نے قائمہ کمیٹی میں حکومتی ارکان کو وضاحت کی ہے کہ پی پی سی کی سیکشنز 121 سے 128 تک (ماسوائے 124 اے) کے، ریاست کے خلاف جرائم سے متعلق ہے۔ جب کہ سیکشن 124 اے ریاست کی تعریف کے زمرے میں ہی نہیں آتی اور اس کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

ملک بھر سے سے مزید