آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سرینا عیسیٰ کو انکم ٹیکس واجبات کے ساڑھے 3کروڑ روپے ادا کر نیکا حکم

سرینا عیسیٰ کو انکم ٹیکس واجبات کے ساڑھے 3کروڑ روپے ادا کر نیکا حکم


اسلام آباد ( زاہد گشکوری ) ایف بی آر نے جمعہ کو ٹیکس واجبات کی مد میں بیگم سرینا عیسیٰ قاضی کو ساڑھے تین کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس حوالے سے ایف بی آر اپنی حتمی رپورٹ آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں پیش کرے گا ۔ لندن میں جائیداد کی خریداری اور ٹیکسوں کے حوالے سے بیگم سرینا عیسیٰ کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا گیا 164 صفحات پر مشتمل آرڈر 14 ستمبر کو مرتب کیا گیا۔ بیگم سرینا عیسیٰ کا کہنا ہے کہ وہ اس افسانوی حکم کے خلاف اپیل دائر کریں گی ۔انہوں نے بیرون ملک تین ضائیدادوں کی خریداری میں کسی غلط کاری سے انکار کیا ہے ۔ اب ذوالفقار احمد 164 صفحات پر مشتمل ساڑھے تین کروڑ روپے واجبات کا حکم نامہ لے کر آئے ہیں ۔مجھے یہ تک معلقم نہیں کہ حکم نامہ انہوں نے خود تحریر کیا ہو .ایف بی آر کی تحقیقات کا خلاصہ ، اس کے جاری کردہ نوٹسز اور بیگم سرینا عیسیٰ قاضہ کے جوابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس حکام کا ان سے رویہ درست نہیں ہے ۔ بیگم عیسیٰ قاضی نے کہا کہ ذوالفقار احمد کا جاری حکم ایک فسانہ ہے اور میں اس کے خلاف اپیل دائر کرشں غی . جس میں میری زرعی اراضی سے آمدنی کو خاطر میں نہیں لایا گیا ۔1982 سے کراچی امریکن اسکول سے مجھے جو تنخواہ ملی ، اس کا بھی شمار نہیں ۔کلفٹن میں دو پراپرٹیز کی فروخت سے حاصل منافع اور آمدن کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا ۔ شو کاز نوٹس کے مطابق سرینا کے وھائٹ اور ٹیکس ادا ذرائع 94 لاکھ روپے کے ہیں جو 30 جون 2013 کو ظاہر کردہ اثاثوں میں استعمال ہو ئے جبکہ بیرون ملک تین جائیدادوں کو ظاہر نہیں کیا گیا ۔ایف بی آر کی تحقیقات کے مطابق اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک میں 26 مئی 2003 کو کھولے گئے اکائونٹ کا فورنسک تجزیہ کیا گیا ،جہاں سے 2003 سے 2013 کے درمیان 6 لاکھ 98 ہزار روپے کی مجموعی منتقلیاں ہوئیں ۔تیکس سال 2017 .2018 کے لئے سرینا عیسیٰ کے گیارہ کروڑ ننانوے لاکھ پندرہ ہزار روپے مالیت کے اثاثوں کا بھی فورسک تجزیہ ہوا ۔اس سال سرینا عیسیٰ کے ذاتی اخراجات 18 لاکھ 86 ہزار روپے تھے جبکہ ٹیکسز کی مد میں تین لاکھ 86 ہزار روپے ادا کئے گئے ۔ایف بی آر کی ٹیم نے 7 کروڑ 78 لاکھ روپے مالیت کے غیر ملکی غیر ممالک میں اثاثوں اور گزشتہ ٹیکس سال میں 47 لاکھ 30 ہزار روپے کی غیر ملکی آمدن کی بھھی جانچ پڑتال کی اور اس کے علاوہ بیرون ملک کروڑوں روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادوں کا بھی جائزہ لیا ۔نوٹسوں کے جواب میں سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتیں ٹیکس حکام 94 لاکھ روپے کی غیر ملکی آمدن کا ریکارڈ کہاں سے لے آئے ۔اس کی تفصیلات فراہم کی گئیں اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ دس کروڑ 46 لاکھ 80 ہزار روپے کا تعین کس طرح کیا گیا ۔انہوں نے کراچی امریکن اسکول میں 38 سال کام کیا ، انوسٹیگیٹرز چاہتے تھے کہ میں اس عرصہ میں ایک ایک روپے کا انہیں حساب دوں ۔انہوں نے ایف بی آر کو اپنے حالیہ جواب میں یاد دلایا قانون کے تحت فنانس ایکٹ 2018 کے تحت ۔سرینا عیسیٰ کے جواب کے مطابق ایف بی آر نے کوئی شخص چھ سال سے زائد ریکارڈ رکھنے کا پابند نہیں ہے .فنانس ایکٹ 2018 کے ذریعہ انکم آرڈننس کی دفعہ۔ 116 اے کے تحت سرینا عیسیٰ نے نئی قانونی ضرورت کو پورا کر تے ہوئے غیر ملکی آمدن اور اثاثوں کے حوالے سے گوشوارے داخل کر دئے ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کن دفعات کے تحت انہیں غیر ملکی آمدن اور اثاثے ظاہر کر نے ہیں ۔ان کے مطابق ایف بی آر نے دانستہ اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ متعلقہ صوبائی قانون کے تحت زراعت پر بھی انکم ٹیکس ادا کیا گیا ۔سرینا عیسیٰ کے مطابق ایف بی آر نے ان کی زرعی اراضی پر سوال نہیں اٹھایا لکین اس اراضی سے حاصل آمدن کو نظر انداز کر دیا ۔ آرڈننس کی دفع۔41 کے مطابق زرعی آمدن کو ٹیکس سے استثنا حاصل ہے ۔پروٹیکشن آف اکنامکس ریفارمز لہ دفعہ۔چار کے مطابق کوئی بھی شخص زرمبادلہ لا نے ، رکھنے ، فروخت کر نے ، منتقل کر نے اور پوچھے بغیر زرمبادلہ نکالنے کا حقدار ہے ۔ غیر ملکی کرنسی میں اکائونٹ ہولڈر کو بھی محکمہ انکم ٹیکس کی جا نب سے کسی پوچھ گچھ سے استثنا حاصل ہے ۔ لہٰذا بیگم سرینا عیسیٰ کے مطابق ایف بی آر کو غیرملکی کرنسی اکائونٹ میں رقوم کے حوالے سے کچھ پوچھنے کا اختیار نہیں ہے ۔ ایف بی آر کے کمشنر اسلام آباد کا آرڈننس کے تحت کوئی دائرہ اختیار نہیں کہ وہ سرینا عیسیٰ کے علم میں لائے بغیر حدود اختیار کو تبدیل کر دیں ۔گہگم سرینا عیسیٰ نے کہا کہ وہ اپنی زرعی آمدن سے معقول رقم نکال کر سیونگ سرٹیفکٹس میں سرمایہ کاری کر تی رہی ہیں ۔اس پر کچھ منفع انکم ٹیکس میں بھی کٹا ۔ جب امریکی ڈالر اور برطانوی پائونڈ خریدے گئے ان کی قدر بہت کم تھی ۔انہوں نے کہا کہ وہ ایف بی آر کے اس الزام کو تسلیم نہیں کرتیں کہ ان کی پراپرٹیز کی مالیت دس کروڑ 46 لاکھ80 ہزار20 روپے ہے ۔  

ملک بھر سے سے مزید