آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانیہ اور جاپان کے تجارتی معاہدے میں یورپی یونین کے معاہدے کی ضرورت

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن میں ٹوپی سے خرگوش نکالنے کے فن کا رجحان پایا جاتا ہے۔یہاں تک کہ جب ان کی حکومت یورپی یونین کے ساتھ اپنے مستقبل کے تعلقات کو تار تار کرنے کی دھمکی دے رہی ہے تو وہ بریگزٹ کے بعدجاپان کے ساتھ پہلے تجارتی معاہدے کا بگل بجارہے ہیں۔یورپی یونین سے باہر ایشیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ معاہدہ برطانیہ کے لیے ممکنہ مواقع ، بلکہ ان کی حدود کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ ان خطرات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بورس جانسن بریگزٹ انخلاء معاہدے کے کچھ حصوں کو غیر مؤثر کرنے کی دھمکی پر عمل کریں گے۔

چند ماہ میں معاہدے کے حصول کا سہرا کسی حد تک برطانیہ کے مذاکرات کاروں کے سر جاتا ہے۔یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جو جاپان اور یورپی یونین کے مابین معاہدے کی بڑی حدتک نقل بلکہ کچھ شعبوں میں اس سے بھی آگے ہے۔اس کے باوجود کہ برطانیہ کی معیشت 27 ممالک کے بلاک سے کافی چھوٹی ہے،اس سے جانسن حلقے میں امیدوں کو تقویت ملے گی کہ وہ دوسرے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ ملتے جلتے نتائج حاصل کرسکتے ہیں ۔

اہم اضافہ ان شعبوں میں ہے جہاں برطانیہ اور جاپان دونوں اعلیٰ وابستگیوں کے خواہشمند ہیں،لہٰذا انہیں خاص طور پر برطانیہ کے مذاکرات کاروں کی کامیابی کی حیثیت سے قبول نہیں کیا جاسکتا تاہم اس کے باوجود مثبت ہیں۔جاپان کی بڑی ڈیجیٹل کمپنیاں جیسے سونی ڈیجیٹل رولز جیسا کہ ڈیٹا لوکلائزیشن پر پابندی چاہتی ہے، لیکن ان کے ذریعے برطانیہ میں سافٹ ویئر اور مالیاتی خدمات انجام دینے والی کمپنیوں کو جاپانی میں آف شور سرور کے ذریعے کام کرنے کا اہل بنائے گا۔

زراعت سے متعلق حد سے زیادہ سمجھوتہ، جسے برطانیہ نے پنیر جیسی ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹ کی فروخت میں اضافے کی امید میں ترجیح دی،لندن کی تجویز سے کم ٹھوس ہے۔برطانیہ نیا نام نہاد ٹیرف ریٹ کوٹہ حاصل کرنے میں ناکام رہا، جس کی وجہ سے یورپی یونین کے کسانوں کو جاپان کو کم ٹیرف پر حساس غذائی مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔یورپی یونین جاپان معاہدے کے تحت 25 میں سے 10 مصنوعات کا احاطہ کیا گیا ہےلہٰذا برطانیہ یورپی یونین کی جانب سے خال کسی بھی کوٹے کا استعمال کرسکتا ہے۔

عہدیداروں کا اصرار ہے کہ برطانیہ خلاء کو پر کرسکتا ہے، لیکن اس معاہدے کے تحت جاپان کو زرعی برآمدات میں برطانیہ یورپی یونین سے پیچھے ہے۔یہاں تک کہ اگر مالیاتی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو یہ ایک اہم مارکیٹ نہیں ہے۔برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے برطانیہ جاپان تجارت میں مجموعی طور پر 15 ارب پاؤنڈ کا اضافہ ہوگا۔تاہم توقع کی جارہی ہے کہ قلیل مدت کیلئے برطانیہ کی مجموعی ملکی پیداوار میں صرف 07.0 فیصد کا اضافہ ہوگا۔ اگرچہ حکومت کے ماہرین معاشیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ یورپی یونین کے کسٹم یونین اور واحد مارکیٹ کو چھوڑنے سے جی ڈی پی کو 5 فیصد نقصان ہوگا۔

دونوں اطراف کے اس معاہدے کی اصل اہمیت برطانیہ کے لئے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ تجارتی معاہدے میں شامل ہونے کے لئے ایک پُل کی طرح ہے۔اگرچہ یہ ایک پیچیدہ اور کوئی سال پر مشتمل کام ہوگا، جس میں تمام موجودہ 11 ارکان کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مذاکرات شامل ہوں گے، تاہم اس میں درحقیقت بڑٰ قابل قدر مارکیٹیں بھی شامل ہیں جیسے کینیڈا، آسٹریلیا اور میکسیکو جو اس کو ایک معنی بخش کامیابی بناتا ہے۔

بورس جانسن کی حکومت نے برطانیہ کو ہم خیال دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ آزادنہ تجارت کے معاہدوں کے جدید، ترقی پسند نیٹ ورک کے مرکز میں رکھنے کے لئے ممکنہ طور پر ٹی ٹی پی کی ممبرشپ کی حمایت کی ہے۔جاپان برطانیہ کا اس گروپ میں خیر مقدم کرنے کا خواہاں ہے جسے وہ ایشیا پیسیفک خطے میں چینی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے مرکزی گردانتا ہے۔

تاہم اس میں نقصانات ہیں۔ ٹی پی پی میں ریاستی سبسڈی، مسابقت اور غیرملکی سرمایہ کاروں کی حکومتوں پر مقدمہ چلانے کی صلاحیت سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ برطانیہ بیلجیئم کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران غیرمتزلزل خودمختاری پر کس طرح برہمی کا اظہار کررہا ہے۔اگرچہ کہ ٹی پی پی کے ارکان شمالی آئرلینڈ سے متعلق خدشات کی وجہ سے یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کا طرزعمل قبول کرسکتے ہیں کہ اس کا ان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر براہ راست اثر نہیں پڑے گا۔

اگر برطانیہ اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ معاہدے کے وعدوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو جاپان کو شدید بے چینی ہوگی۔بین الاقوامی قانون پر غور پر اصرار جاپان کا چین پر محیط ایک اہم آلہ ہے۔بورس جانسن کی حکومت نے دکھایا ہے کہ وہ کسی اور بڑے شراکت دار کے ساتھ تجارتی معاہدے تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن پھر بھی اسے یورپی یونین کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہے۔

فنانشل ٹائمز سے مزید