آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عالمی عدالتوں سے مخالف فیصلے۔ لمحہ فکریہ

عالمی بینک کے مصالحتی ٹریبونل کی جانب سے ریکوڈک کیس میں پاکستان پر عائد تقریباً 6ارب ڈالر کے جرمانے پر حکم امتناعی کو حکومت اور قانونی ٹیم کی بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ گویا ہم ریکوڈک کیس جیت گئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان پر 6ارب ڈالر جرمانے کی تلوار اب بھی لٹک رہی ہے اور پاکستان کو دیے گئے حکم امتناعی کی رعایت اِس بات سے مشروط ہے کہ پاکستان، ٹریبونل کو جرمانے کی 25فیصد رقم (تقریباً 1.5ارب ڈالر) کی غیرملکی بینک گارنٹی فراہم کرے۔ واضح رہے کہ عالمی بینک کے بین الاقوامی سرمایہ کاری میں تنازعات سے متعلق عالمی مصالحتی ٹریبونل نے چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھان (ٹی سی سی) کے ساتھ کان کنی کا معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کرنے پر گزشتہ سال جولائی میں پاکستان پر تقریباً 6ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا جس کے خلاف پاکستان نے اپنی اپیل میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ’’اتنے بڑے جرمانے کی ادائیگی سے کورونا کے خلاف جنگ متاثر ہوگی‘‘۔ پاکستان کی درخواست پر گزشتہ دنوں عالمی بینک کے مصالحتی ٹریبونل نے حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے پاکستان پر عائد جرمانے پر عملدرآمد مئی 2021تک روک دیا تاہم جرمانے کی رقم کا 25فیصد غیرملکی بینک گارنٹی سے مشروط کردیا۔

ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کا پانچواں بڑا ذخائر مانا جاتا ہے جس کی مالیت کا اندازہ 100ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے تاہم 2013میں ریکوڈک معاہدے کو کالعدم قرار دے کر ٹی سی سی کو ریکوڈک میں کان کنی سے روک دیا گیا تھا جس کے خلاف ٹی سی سی نے عالمی بینک کے مصالحتی ٹریبونل سے رجوع کیا اور گزشتہ سال ٹریبونل نے ٹی سی سی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان پر 6ارب ڈالر (ایک ہزار ارب روپے سے زائد) جرمانہ عائد کیا۔ پاکستان پر عائد یہ پہلا جرمانہ نہیں جو عالمی عدالت کی طرف سے کیا گیا ہے بلکہ اس سے قبل 2006میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاکستان اسٹیل کی نجکاری کو کالعدم قرار دینے کے نتیجے میں آج ملکی معیشت کو اربوں روپے کا بوجھ اٹھانا پڑرہا ہے۔ اسی طرح 2012میں ترک کمپنی ’’کارکے‘‘ کا معاہدہ کالعدم قرار دینے پر عالمی مصالحتی ٹریبونل نے پاکستان پر ایک کروڑ 20لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا تاہم ترکی کے صدر طیب اردوان کی ذاتی کوششوں سے کار کے اپنے دعوے سے دستبردار ہوگئی اور پاکستان ایک بڑی رقم کی ادائیگی سے بچ گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یکطرفہ معاہدے ختم کرنے اور غیر ملکی کمپنیوں کے پاکستان کو عالمی عدالتوں میں گھسیٹنے سے حکومت اب تک وکیلوں اور عدالتی فیس کی مد میں 100ملین ڈالر ادا کرچکی ہے۔

میں اپنے گزشتہ کالم میں یہ تحریر کرچکا ہوں کہ عالمی معاہدوں کی پاسداری کرنا حکومتوں پر لازم ہے اور اِن معاہدوں کے یکطرفہ کالعدم قرار دینے سے نہ صرف ملک کو معاشی طور پر ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے بلکہ اختیارات سے تجاوز اور ایڈونچر کے نتیجے میں ملک پر اربوں ڈالر کا جرمانہ عائد ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیب سابق وزرائے اعظم اور اپوزیشن رہنمائوں پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے پر کیسز بناتی رہی ہے تو کیا ریکوڈک اور دیگر معاہدے یکطرفہ طور پر کالعدم قرار دینے والے اِس زمرے میں نہیں آتے اور کیا پاکستان کا قانون اس طرح کے ایڈونچر کی اجازت دیتا ہے؟ میری موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے پر جے آئی ٹی یا عدالتی کمیشن تشکیل دیں جو عہدے کا غلط استعمال اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر ملوث افراد کے خلاف تحقیقات کرے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی معاہدوں کے حوالے سے قانون سازی بھی کی جائے تاکہ مستقبل میں اِس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔افسوس کہ ہم اپنے غلط فیصلوں کے باعث قیمتی ذخائرسے مطلوبہ ثمرات تو حاصل نہ کرسکے مگرہمیںاربوں ڈالر جرمانے کے طور پر ادا کرنا پڑے۔ عالمی ٹریبونل کے جرمانے سے بچنے کا ایک حل یہ ہے کہ عدالتی کمیشن ریکوڈک کے فیصلے کو کالعدم قرار دے اور حکومت، ٹی سی سی کو بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ پاکستان میں ریکوڈک منصوبے پر دوبارہ کام شروع کرے۔ عالمی عدالت کی جانب سے یکے بعد دیگرے پاکستان مخالف فیصلوں میں اربوں ڈالر کے جرمانے باعث تشویش ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ عالمی عدالت میں بھارت کے حمایت یافتہ ججز کی اکثریت ہے جو بھارتی ایما پر پاکستان کی معیشت کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں اور عالمی عدالت کی جانب سے ٹریبونل کی تاریخ کا سب سے بڑا 6ارب ڈالر کا جرمانہ اِسی سلسلے کی کڑی ہے جو کسی ملک پر عائد کیا گیا ہے جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں اور پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکم امتناعی پر خوشیاں منانے کے بجائے ریکوڈک کے وسائل کو کام میں لایا جائے تاکہ پاکستان کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔