آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال :۔ہم گاڑیاں قسطوں پر فروخت کرتے ہیں ایک نئی گاڑی جس کی کل قیمت 800000 ہے،جس ایڈوانس کی مد میں کچھ لوگ اپنی گاڑی یا نقد منقولہ 300000 ادا کرتے ہیں اور باقی رقم 12 ماہ یا اس سے زائد وقت پر فروخت کرتے ہیں، کچھ لوگ اپنی گاڑی وقت سے پہلے ہمیں واپس فروخت کرنے آتے ہیں جس پر ہمارے بقایا جات ہیں۔ اس نئی گاڑی کی قیمت 6یا 10 ماہ قبل اور تھی اور اب استعمال ہونےکے بعد کم یا زیادہ ہے۔اب ہم اسے کن شرائط پرخرید سکتے ہیں ۔

اکثر نئی گاڑی کےاستعمال ہونے کے بعداس کی قیمت کم ہوجاتی ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم استعمال شدہ گاڑیاں بھی قسطوں پر فروخت کرتے ہیں، ایڈوانس کی مد میں ہم خریدنے والے سے گاڑی ایک قیمت طے ہونے پر یا لم سم لیتے ہیں اور بقیہ رقم 12 ماہ قسطوں پر دے دیتے ہیں، اس پر ہمارے بقایاجات ہوں اس نے گاڑی کو کچھ عرصہ استعمال کیا، اب وہ وقت سے پہلے ہمیں واپس دے تو ہم کن شرائط پر خریداری کرسکتے ہیں؟

جواب :۔قسطوں پر گاڑی یا دیگر اشیاء کی خریدوفروخت چند شرائط کے ساتھ جائز ہے کہ قسط کی رقم متعین ہو، مدت متعین ہو اور قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں کوئی اضافہ وصول نہ کیا جائے۔قسطوں پر گاڑی خریدنے کے بعد خریدنے والا اس کا مالک بن جاتا ہے، اور اس کی قیمت خریدنے والے کے ذمے دین (قرضہ )ہوتا ہے، اگرگاڑی کی مکمل اقساط کی ادائیگی سے پہلے گاڑی فروخت کرنے والا یہی گاڑی دوبارہ لینا چاہے تو اس کی چند صورتیں ہیں:

(1) قسطوں کی ادائیگی سے پہلے فروخت کرنے والا،گاڑی جتنے میں فروخت کی تھی، اس سے کم قیمت پر خرید رہا ہے تو یہ صورت جائز نہیں ہے۔

(2) خریدار کی رضامندی سے اس گاڑی کو واپس کررہا ہے تو یہ”اقالہ“ ہے، جو متعاقدین کے حق میں فسخِ بیع ہے، لہٰذا جتنے میں فروخت کی تھی اتنے میں ہی واپس کرنا لازم ہوگی۔

(3) قسطوں کی ادائیگی سے پہلے فروخت کرنے والا، گاڑی جتنے میں فروخت کی تھی، اس سےزیادہ یا برابرقیمت پر خرید رہا ہے تو یہ صورت جائز ہے۔

(4) فروخت کرنے والا خلافِ جنس سے اسے خریدے، مثلاً گاڑی پیسوں کے بدلے فروخت کی تھی اب واپس کوئی اور چیز دے کر لے تو یہ صورت بھی جائز ہے۔

(5) گاڑی میں کوئی عیب پیدا ہوگیا، یا کوئی نقصان ہوگیا ہو تو اس صورت میں اصل قیمت سے کم ، زیادہ، اور برابر تینوں صورتوں میں خریدنا جائز ہے۔

جن صورتوں میں فروخت کرنے والے کے لیے گاڑی لیناجائز ہے، ان میں یہ شرط بھی ہے کہ قسطوں پر گاڑی خریدنے والے نے اس پر قبضہ کرلیا ہو، اس لیے کہ منقولی چیز کی بیع قبضہ سے پہلے جائز نہیں ہے۔باقی گاڑی کی قیمت کم ہوجانا یہ عیب میں شمار نہیں ہوتا۔


اگر گاڑی میں کوئی عیب بھی پیدا نہ ہو، لیکن مارکیٹ میں اس کی قیمت کم ہوگئی ہو اور قسطیں مکمل ہونے سے پہلے خریدنے والا اسے فروخت کرنے والے کو واپس کرنا چاہے تو چوں کہ فروخت کرنے والاکم قیمت میں اسے خرید نہیں سکتا ،اس لیے اس کے متبادل دو صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں:

(1) فروخت کرنے والا خلافِ جنس سے اس گاڑی کوخرید لے، اور دو مختلف ملکوں کی کرنسیاں دو الگ جنس شمار ہوتی ہیں، لہٰذااگرگاڑی پاکستانی روپے کے بدلے فروخت کی تھی، اب واپس خریدتے وقت ڈالر یا ریال یا کسی اور کرنسی میں سودا کرلے۔

(2) قسطوں پر فروخت کرنے والا اس گاڑی والے کو اتنی رقم قرض دے دے جس سے وہ مزید قسطیں ادا کردے، پھر گاڑی کا مالک اس قرض سے اپنی قسطیں مکمل ادا کردے یوں ایک معاملہ ختم ہوجائے گا، اب دکان دار اس گاڑی کو واپس خریدلے اور اس کی قیمت میں سے اپنا قرض منہا کرلے۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk

اقراء سے مزید