آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی میں گیس بحران سے لاکھوں شہری پریشان، وفاق اور سندھ حکومت کے ایک دوسرے پر روایتی الزامات

کراچی (نیوز ڈیسک) کراچی سمیت سندھ بھر میں جاری گیس بحران سے لاکھوں صارفین پریشان ہیں۔ تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتیں روایتی طور پر ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں۔وفاقی وزراء نے گیس بحران کا ذمہ دار صوبہ سندھ کو قرار دیا ہے لیکن سندھ نے اس بحرانی کی ذمہ دار ی وفاق پر عائد کردی ہے۔

وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان اورمعاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ گیس کے شعبہ کا گردشی قرضہ 250 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے‘ سردیوں میں ایس ایس جی سی کے سسٹم میں گیس کی قلت 400 ایم ایم سی ایف ڈی اور ایس این جی پی ایل کے سسٹم میں 300 ایم ایم سی ایف ڈی رہنے کی توقع ہے۔

ملک میں تیل و گیس کے ذخائر 7.5 فیصد کے حساب سے کم ہو رہے ہیں، سندھ حکومت نے گیس پائپ لائن کیلئے 17 کلومیٹر کے راستے کیلئے ابھی تک اجازت نہیں دی، گیس پائپ لائن کیلئے جلد راستہ نہ ملا تو صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

عمر ایوب خان نے کہا کہ سندھ خصوصاً کراچی میں گیس کی قلت کا سامنا ہے، گیس پائپ لائن کیلئے 17 کلومیٹر کے راستے کی سندھ حکومت نے ابھی تک اجازت نہیں دی‘اگر سندھ حکومت راستہ فراہم کر دے تو ہم فوری طور پر یہ پائپ لائن بچھا دیں گے۔

ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو جواب میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے سندھ میں گیس کی قلت آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت ضمانت دی گئی ہے کہ سندھ کو سندھ سے نکلنے والی گیس ملنی چاہئے سندھ کو ایل این جی / آر ایل این جی نہیں بلکہ سندھ میں نکلنے والی گیس فراہم کی جائے۔

بیرسٹر مرتضی وہاب نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کی بدانتظامی کی وجہ سے ہمارے گھریلو ، تجارتی اور صنعتی صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

اہم خبریں سے مزید