آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کمزور میکنزم اور بوسیدہ قوانین،دودھ کی قیمت مقرر نہ ہوسکی، ڈیری فارمرز افتخار شلوانی معاہدے سے منکر ہوگئے

کراچی (رپورٹ/رفیق بشیر)حکومت سندھ کا دودھ کی قیمت مقرر کرنے کے کمزور میکنزم اور بوسیدہ قوانین کی وجہ سے دو ماہ سے زائد عرصے میں بھی شہر میں دودھ کی قیمت فروخت کا تعین نہ ہوسکا، جبکہ عدالت میں بھی تازہ دودھ کی قیمت مقرر کرنے کے حوالے سے کیس زیر سماعت ہے ، جس میں دودھ کی قیمت مقرر کرنے کا میکنزم بنایا جائے گا۔

اس سے قبل تازہ دودھ کی قیمت کے حوالے سے عدالت میں زیر سماعت کیس کی 10ستمبر کو سماعت ہوئی تھی، موجودہ صورتحال میں شہر میں تازہ دودھ 120روپے فی لیٹر پرکھلے عام فروخت ہورہا ہے ، جبکہ سرکاری قیمت 94 روپے ہے،سابق کمشنر کراچی اعجاز علی خان نے مارچ 2018میں 94روپے فی لیٹر سرکاری مقرر کی تھی، جبکہ روایتی طور ہر سال حکومت کو دودھ کی قیمت پر نظر ثانی کرنی ہوتی ہے۔

سابق کمشنر اور اس وقت ایڈ منسٹریٹر کراچی افتخار شلوانی کو ڈیری فارمرز نے قیمتوں پر نظر ثانی کے لئے بہت درخواستیں دیں لیکن افتخار شلوانی نے اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا ، اور 17 جولائی کو ایک اجلاس میں سابق کمشنر افتخار شلوانی نے دودھ کی قیمت مقرر کرنے لئے ایڈ یشنل کمشنر ون اسد علی خان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی ، اور اس موقع پرڈیری فارمرز سے وعدہ لیا گیا کہ جب تک کمیٹی کی رپورٹ نہ آجائے۔

دودھ کی خوردہ قیمت میں اضافہ نہیں کریں گے ، لیکن ڈیری فارمرز اور خوردہ فروش نے کمشنر کے ساتھ مذاکرات میں تازہ دودھ 94 روپے فروخت کرنے کے معاہدے سے منکر ہوگئے اور شہر میں تازہ دودھ 110 اور 120 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

سابق کمشنر کی بنائی گئی کمیٹی2ماہ گزرنے کے باوجود رپورٹ پیش نہ کرسکی،سہیل راجپوت اور اسد علی خان کا موقف دینے سے گریز کیا، اس موقع پر خوردہ فروشوں کا موقف ہے کہ خوردہ فروشوں نے قیمت میں اضافہ نہیں کیا بلکہ ڈیری فارمرز اور تھوک فروشوں نے دودھ کی قیمت میں اضافہ کیا ہے، سابق کمشنر افتخار شلوانی سے کئے گئے مزاکرات نا کام ہونے پر مقامی انتظامیہ نے دودھ فروشوں کے خلاف عوامی جذبات کو دوبانے کے لئے جرمانے کی مصنوعی شروع کی تاہم وہ بھی دو چار روز کے بعدمہم بھی بند ہوگئی۔

ایڈیشنل کمشنر اسد علیخان کی سربراہ میں اجلاس میں جو کمیٹی بنائی تھی لیکن دوماہ گز گئے کمیٹی نے رپورٹ پیش نہیں کی ، تاہم سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کمیٹی کی نے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ہے ، جبکہ نئے کمشنر سہیل راجپوٹ نے اس سلسلے میں صورتحال معلوم کی ہے۔

کمشنر کراچی ،ڈائر یکٹر جنرل پرائس کا بھی عہدہ رکھتے ہیں ، اور تازہ دودھ کی قیمت مقرر کرنا کمشنر کا کام ہے لیکن شہر میں کمشنر تو تبدیل ہوگئے ، لیکن تازہ دودھ کی قیمت مقرر نہ ہوسکی ، شہر میں اس وقت تمام دودھ فروش من مانی قیمت 120 روپے دودھ فروخت کررہے ہیں۔

کمشنر کراچی سہیل راجپوت اور ایڈ یشنل کمشنر ون اور کمیٹی کے سربراہ اسد علی خان سے اس سلسلے میں موقف معلوم کرنے کے لئے فون کئے لیکن فون اٹینڈ نہیں ہوئے ۔

اہم خبریں سے مزید