آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شناخت کے باوجود نوری آباد حادثے کی میتیں نہیں دی جا رہیں: اہلِ خانہ


کراچی میں حیدر آباد موٹر وے پر نوری آباد کے قریب پیش آنے والے وین حادثے میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ شناخت کے باوجود حکومت میتیں نہیں دے رہی۔

نوری آباد میں گزشتہ شب پیش آنے والے ٹریفک حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہو گئی ہے، گزشتہ رات عباسی شہید اسپتال میں جاں بحق افراد کے ڈی این اے کی سیمپلنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق حادثے میں لیاقت آباد کے ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 3 خواتین اور 1 بچی بھی شامل ہے۔

جاں بحق شخص کے بھائی راشد خان کا کہنا ہے کہ شناخت کے باوجود حکومت میتیں نہیں دے رہی، میتیں لینے میں پریشانی کا سامنا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پولیس نے ڈی این رپورٹ کے بغیر لاشیں دینے سے انکار کیا ہے۔

سہراب گوٹھ ایدھی سرد خانے کے انچارج جہانزیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک ایدھی سرد خانے میں 14 لاشیں لائی گئی ہیں۔


انہوں نے کہا کہ 9 خواتین، 3 مَردوں اور 2 بچوں کی لاشیں لائی گئی ہیں، لاشوں کے ڈی این اے کے نمونے عباسی شہید اسپتال میں لیے گئے۔

انچارج ایدھی سرد خانہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاشیں ناقابلِ شناخت ہیں، ڈی این اے رپورٹ کے بعد ہی لاشیں ورثاء کو دی جائیں گی۔

نوری آباد وین حادثے میں جاں بحق 9 افراد کا تعلق حیدرآباد سے ہے، لطیف آباد کے رہائشی اسد خان کی فیملی کے 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔

لطیف آباد نمبر 12 کے غلام صابر کی فیملی کے 3 افراد اور لطیف آباد نمبر 11 کے رہائشی عرفان کی اہلیہ جاں بحق ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب کراچی حیدر آباد موٹر وے پر نوری آباد کے قریب آگے جانے والی گاڑی کا بونٹ اُڑ کر مسافر وین کی وِنڈ اسکرین پر آ گرا، جس کے بعد وین بے قابو ہو کر اُلٹ گئی اور وین میں آگ لگ گئی تھی۔

حادثے کے نتیجے میں 13 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 2 افراد اسپتال میں آج صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے جس کے بعد حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہو گئی۔


ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے 10 زخمیوں میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 1 سال کی بچی معجزانہ طور پر بچ گئی۔

المناک حادثے کے بعد موٹر وے پولیس اور ایدھی رضا کاروں نے لاشوں اور زخمیوں کو وین سے نکالا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیرِ ٹرانسپورٹ سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کمشنر حیدر آباد سے حادثے کی تفصیلات طلب کر لیں اور زخمیوں کے ہر ممکن علاج کی ہدایت کی ہے۔

قومی خبریں سے مزید