آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اپوزیشن کا حکومت مخالف تحریک کوئٹہ سے شروع کرنے کا اعلان


اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت مخالف تحریک کا آغاز کوئٹہ سے کرنے کا اعلان کردیا، جہاں پہلا جلسہ 11 اکتوبر کو ہوگا۔

اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا سے سابق وزرائے اعظم شاہد خاقان عباسی اور راجا پرویز اشرف، سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری اور احسن اقبال نے گفتگو کی اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کی مذمت کی۔

 شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ پی ڈی ایم کے تنظیمی ڈھانچے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کی حتمی منظوری قائدین دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں جمہوریت کی بحالی اور عوامی تکالیف دور کرنے پر تبادلہ خیال ہوا اور ملک میں جمہوری حقوق سلب کیے جانے کی مذمت کی گئی۔


شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ اجلاس میں عوامی مسائل پر بحث ہوئی، ملک میں مہنگائی کا سیلاب ہے، بیروزگاری بڑھ رہی ہے، آج ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے اور عوام پریشان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم تحریک کا آغاز پورے ملک میں ہوگا، اس حوالے سے پہلا جلسہ 11 اکتوبر کو کوئٹہ میں کیا جائے گا، تمام سیاسی جماعتیں ان فیصلوں پر متفق ہیں۔

دوران گفتگو راجا پرویز اشرف نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری سے جمہوریت کمزور ہوگی، حکومتی اقدام سب کے لیے قابل افسوس اور قابل تشویش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے جمہوریت کمزور ہوگی اور عوام کے غم و غصے میں اضافہ ہوگا، وزراء ایک ہی رٹ لگاتے ہیں، ہم نے اتنے بندوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی خود مختار حیثیت بے نقاب ہوچکی ہے جبکہ مہنگائی اور بیروزگاری نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، اپوزیشن تمام صوبوں میں جلسے کرے گی۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینئر رہنما عبدالغفور حیدری نے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک سلیکٹڈ حکومت کے اختتام تک جاری رہے گی، حکومت نے جو بجٹ دیا ہے اس میں جی ڈی پی بھی صفر تھا۔

احسن اقبال نے کہا کہ پارلیمنٹ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چل رہی ہے، 30 سالہ جمہوری دور میں ایسا پہلی بار ہوا ہے، پی ڈی ایم ہر مکتبہ فکر اور شعبہ ہائے زندگی کی آواز ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اکتوبر سے دسمبر تک عوامی رابطہ مہم کو حتمی شکل دیں گے، ہم قانون کی بالادستی، آزاد عدلیہ اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔

ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ اس حکومت نے سیاسی انتشار پیدا کرکے جمہوریت اور معاشی جمہوریت پرحملہ کیا ہے، کمزور آدمی سے جینے کا حق تک چھین لیا گیا ہے۔

قومی خبریں سے مزید