آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شہباز شریف کو بھائی کا ساتھ دینے پر سزا ملی، مریم نواز


سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ شہبازشریف کو بھائی کا ساتھ دینے پر گرفتار کیا گیا، کچھ بھی ہوجائے نوازشریف کی تقریر اور آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں پر عملدرآمد جاری رہے گا۔ تحریک چلے گی اور بھرپور طریقے سے چلے گی۔

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو نااہل، کم فہم اور فراست سے عاری قرار دے دیا۔

اپوزیشن لیڈر اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی گرفتار ی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ آج کا دن بہت افسوسناک ہے، قائد حزب اختلاف کو دوسری بار گرفتار کیا گیا۔

ن لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کے بیانیے کا بوجھ ہر ایک نہیں اٹھا سکتا۔ شہباز شریف اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ن لیگ میں سے ش نہیں نکلے گی۔ ایسی باتیں ن لیگ میں سے ش لیگ نکالنے میں ناکامی کی چیخیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پر ریفرنس چل رہا تھا، انہیں عدالتوں کے چکر لگوائے گئے، فیصلے پہلے لکھ کر لائے ہوئے ہیں، مجھے اب بھی عدلیہ پر بھروسا ہے، جانتی ہوں کہ میڈیا اور سیاستدانوں کی طرح عدلیہ بھی دباؤ کا شکار ہے۔

ن لیگی نائب صدر نے مزید کہا کہ سرتوڑ کوششوں کے باوجود شہباز شریف نے اپنے بھائی کا ساتھ نہیں چھوڑا، انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ وفاداری کی اور ایک لمحے کےلیے بھی الگ نہیں ہوئے۔


ان کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ شہباز شریف کو کسی الزام پر گرفتار نہیں کیا گیا، ن لیگ کے صدر کا تعلق ایک کاروباری گھرانے سے ہے، تنخواہ دار فرد کا ارب پتی ہونا قابل احتساب ہے، یہ کیس نیب کو نظر نہیں آرہا؟

مریم نواز نے مزید کہا کہ ن لیگ میں ش نکالنے والوں کی چیخیں نکل گئیں، جس نے ن لیگ کو توڑنے کا خواب دیکھا وہ یہ حسرت لے کر قبر میں چلا گیا، ایسی بات وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں رشتوں کا تقدس تک معلوم نہیں ہے۔

انہوں نے کہاکہ ن میں سے ش یا میم نہیں نکلے گی، شہباز شریف کو نواز شریف کے فیصلے پر چلنے کی سزا ملی ہے، ن لیگی صدر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پارٹی قائد نے کوئی غلط بات نہیں کی، ان کی تقریر پر 100 فیصد عمل ہوگا، دراصل حکومت اے پی سی کی تحریک سے خوفزدہ ہے۔

ن لیگی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ یہ کبھی مولانا فضل الرحمٰن کو نوٹس بھیج دیتے ہیں تو کبھی شہباز شریف کو گرفتار کرلیتے ہیں، حمزہ شہباز 13 ماہ سے جیل میں ہے، اس پر کچھ ثابت نہیں ہوا لیکن وہ قید ہے، پہلی بار اپوزیشن پر اس طرح کا کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے، پہلی بار حکومت ہر گناہ کے باوجود بے قصور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران کو یہ خوف ہے کہ شہباز شریف ان کے متبادل ہیں، اس لیے انہیں جیل میں ڈالا گیا، وہ صرف متبادل ہی نہیں، پنجاب کے عوام کی واحد چوائس ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ جو کمزور وکٹ پر کھیل رہا ہو، جسے لایا گیا ہو، اسے خوف تو ہوگا، جس میں اتنی ہمت نہیں کہ گلگت بلتستان پر میٹنگ چل رہی ہے اور وہ ساتھ والے کمرے میں چھپ کر بیٹھا رہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ نواز شریف کی آواز پر لبیک کہتی ہے، وہی ہمارے قائد ہیں اور ہمیں لیڈ کریں گے، اے پی سی کے فیصلے پر ہر صورت عمل ہوگا، اپوزیشن کی تحریک کی قیادت میاں صاحب کریں گے، وہ علاج مکمل ہوتے ہی پاکستان آئیں گے۔

ن لیگی نائب صدر نے مزید کہا کہ میں قومی احتساب بیورو ( نیب) کی بات نہیں کروں گی، اسے پی ٹی آئی وزراء کی کرپشن نظر نہیں آتی، اسے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا معاملہ دکھائی نہیں دیتا، اسے بنی گالا کا اچانک ریگولرائز ہونا نظر نہیں آتا، اسے بی آر ٹی نظر آتی ہے اور نہ ہی ان بسوں میں بار بار لگنے والی آگ دکھائی دیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب نے تو کہا تھا کہ ہم فیس(چہرہ) نہیں کیس دیکھتے ہیں، ہم سوال پوچھنے پر حق بجانب ہیں کہ یہ کس قسم کا انصاف ہے؟، شہباز شریف کی اہلیہ، بیٹوں کو اشتہاری بنا دیا گیا، انہیں، بچوں اور اہلیہ کو عدالتوں کے چکر لگوائے گئے، ڈیڑھ سال ہوگیا ہے میرے خلاف بھی آج تک ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔

مریم نواز نے کہا کہ یہ درست ہے کہ شہباز شریف کی ایک ذاتی سوچ ہے، وہ سمجھتے تھے کہ مفاہمت کی سیاست شاید بہتر ہے، وہ یہ بات میاں صاحب سے بھی کرتے تھے، لیکن جب میاں صاحب کا فیصلہ آجاتا ہے تو وہ سب سے پہلے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور میرے بیانیے کا بوجھ اٹھانا آسان نہیں ہے، ن لیگ میں ہر طرح کے لوگ ہیں، جن کے خیالات جدا ہیں، پارٹی اجلاس میں اظہار خیال بھی کرتے ہیں، دباؤ کے باوجود یہ ہمارے ساتھ کھڑے ہیں، نواز لیگ چھوڑ کر نہیں گئے، کیونکہ یہ اس بیانیے کے ساتھ ہیں۔

ن لیگی نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ استعفیٰ دیا تو الیکشن کرالیں گے، ری الیکشن کرانا اتنا آسان نہیں ہے، آپ کو اس کی مہلت ہی کہاں ملے گی، اے پی سی کے ایجنڈے کی تحر یک پورے جذبے سے چلائیں گے، جو رکنے والی نہیں۔

قومی خبریں سے مزید