آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حزب اللہ اور امل تحریک لبنان کے سیاسی بحران کی ذمہ دار ہیں، فرانسیسی صدر

پیرس ( آن لائن ) فرانس کے صدر عمانویل میکروں نے ایک بار پھر لبنان کی سیاسی جماعتوں بالخصوص ایران نواز حزب اللہ اور تحریک امل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اور تحریک امل لبنان میں جاری موجودہ سیاسی بحران کی ذمہ دار ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں لبنان میں جاری سیاسی بحران دور کرنے میں رکاوٹ ہیں۔قبل ازیں فرانسیسی صدر نے نامزد وزیراعظم مصطفی ادیب کے استعفے پر اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ لبنان کی سیاسی جماعتیں اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے بجائے اپنے وعدوں سیانحراف اور خیانت کی مرتکب ہو رہی ہیں۔انہوں نے پیرس میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نہ تو حزب اللہ اور نہ ہی امل تحریک ملک میں تصفیہ چاہتی ہے۔حزب اللہ نے حکومت بنانے کے لیے اپنے موقف میں لچک نہیں دکھائی۔فرانسیسی صدر نے کہا کہ لبنان میں سیاسی جماعتوں کے لیے یہ آخری موقع ہے۔ان ک اکہنا تھا کہ میں نہیں کہتا کہ حزب اللہ کا عسکری یا سیاسی ونگ ذمہ دار ہے مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ لبنان میں ہونے والی کسی بھی سیاسی تبدیلی میں حزب اللہ کا کلیدی کردار ہے۔ایک سوال کے جواب میں صدر میکروں کا کہنا تھا کہ لبنان میں سیاسی بحران میں رکاوٹ کھڑی کرنیوالی جماعتوںپر پابندیاں مسئلے کا حل نہیں اور میں نہیں چاہتا کہ لبنان کی کسی سیاسی جماعت پر پابندی

عاید کی جائے۔تاہم پیرس اس حوالے سے اپنے اتحادیوں اور حامی قوتوں سے مشورہ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ 20 دن کے اندر ہم لبنان کے لیے بین الاقوامی رابطہ گروپ کے ساتھ اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے ایک میٹنگ کریں گے۔ فرانس لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔خیال رہے کہ نامزد وزیراعظم مصطفی ادیب نے ہفتے کے روز سیاسی اصلاحات کے عوامی مطالبات کے جلو میں سیاسی جماعتوں کو نئی حکومت کی تشکیل پر راضی کرنے میں ناکامی پر اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

یورپ سے سے مزید