آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

گزشتہ ہفتہ کے آخر تک مہنگائی کی جو شرح 8.86فیصد تک پہنچ چکی تھی اب اُس میں کمی متوقع ہے۔ وزارتِ خزانہ کی ماہانہ معاشی اپ ڈیٹ کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معاشی سرگرمیاں بحال ہو نے لگی ہیں اور گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں معاشی اعدادوشمار میں بہتری نظر آرہی ہے،جس سے مہنگائی میں کمی ہوگی،مالیاتی خسارہ ہدف کے اندررہے گا، ترسیلاتِ زر میں 1.2ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا اورزرِمبادلہ ذخائر 19.9ارب ڈالر ہوگئے ہیںتاہم کوروناکےباعث عوامی نوعیت کے اخراجات میں اضافے کے باعث اخراجات پر دبائو بڑھنے کا امکان ہے۔اِس اپ ڈیٹ کے مطابق اگست میں مہنگائی کی شرح 8.2فیصد رہی جبکہ جولائی میں 9.3فیصد تھی۔موجودہ حکومت جب سے وجود میں آئی ہے یہ پہلا موقع ہے کہ مہنگائی میں کمی کی نوید سنائی گئی ہے ورنہ اِس میں روز افزوں اضافے نے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افرادکی کمر توڑ کر رکھی دی ہے۔ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے لاک ڈائون میں خود ساختہ مہنگائی کا ایسا سلسلہ شروع ہوا تھا کہ الامان والحفیظ۔ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے عوام کیلئے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہو چکا تھا۔ اِس خود ساختہ مہنگائی کی طرف انہی سطور میں بارہا توجہ دلائی جاتی رہی ہے لیکن اِس حوالے سے باقاعدہ پرائس کنٹرولنگ کا ادارہ موجود ہونے کے باوجود خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ جب، جس تاجر یا دکاندار کا دِل چاہتا ہے قیمتوں میں من چاہا اضافہ کر لیتا ہے جس کی وجہ سے حکومت کی طرف سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے لئے کئے جانے والے اقدامات بے سود ثابت ہوتے ہیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکومت بہتر معاشی پالیسیوں سے مہنگائی کم کرنے کیساتھ ساتھ خود ساختہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی طرف بھی توجہ دے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998