آپ آف لائن ہیں
منگل9؍ربیع الاوّل 1442ھ 27؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شہباز اور نواز کے ہوتے ہوئے ن لیگ کی تقسیم ممکن نہیں، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام’’ آپس کی بات‘‘ میں میزبان منیب فاروق سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہاہے کہ شہباز شریف اور نواز شریف کے ہوتے ہوئے ن لیگ کی تقسیم ممکن نہیں ہے،تحریک انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے کہاکہ نواز شریف بانی متحدہ ماڈل ہیں۔

جے یو آئی ف کے رہنما حمد اللّٰہ نے کہا کہ تمام لوٹوں کے سربراہ عمران خان ہیں،ن لیگ کے رہنما جاوید لطیف نے کہا کہ ہم یہی کہتے ہیں الیکشن مینج ہمارے لئے کریں نہ کسی اور کے لئے کریں۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ اپوزیشن کو اندازہ ہوگیا ہے مارچ میں سینیٹ الیکشن تک ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی رہی تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا،عمران خان کو مینڈیٹ ملا ہے تو اپوزیشن کو بھی کم مینڈیٹ نہیں ملا ہے، بڑی مشکل سے یہ مانگے تانگے کی حکومت بنی ہے، اپوزیشن نے احتساب کا نشانہ بننے کے بجائے کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

پوزیشن کے پاس مزاحمتی اور جارحانہ رویہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، حکومت سمجھتی ہے کہ اپوزیشن کو ریلیکس کردیا تو منظم ہو کر اسے گرانے کی کوشش کرے گی، حکومت نے بھی رفتار تیز کرتے ہوئے شہباز شریف کو گرفتار اور آصف زرداری کیخلاف کیس کھول دیئے ہیں۔

حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ہیں جس میں دونوں ہی نیچے آئیں گے۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ ن لیگ سزا بھگت رہی ہے شہباز شریف مفاہمت کے باوجود جیل چلے گئے، حمزہ شہباز پہلے ہی جیل میں ہیں اب صرف مریم ہی باہر رہ گئی ہیں، نواز شریف خاموشی کا قفل نہیں توڑتے تو ان کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچتا۔

اپوزیشن کو جلسوں میں عوام کی سپورٹ ہونے یا نہ ہونے کا اندازہ ہوجائے گا، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے پاس مزاحمتی مجمع نہیں ہے، ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف مل کر سڑکوں پر آجائیں تو حکومت نہیں بچ سکے گی، منتخب حکومت کو ہجوم کے ذریعہ ہٹانا جمہوری روایات کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔

اپوزیشن مستعفی ہوگئی تو نئے الیکشن کی طرف جانا پڑے گا،حکومت کے سنجیدہ فکر لوگ حالات کو نارمل کرنے کی طرف توجہ دیں، لڑائی اور فساد بڑھتا ہے تو اپوزیشن کو فائدہ ہوگا۔

شہباز شریف اور نواز شریف کے ہوتے ہوئے ن لیگ کی تقسیم ممکن نہیں ہے، دونوں بھائیوں کی آپس میں بہت انڈراسٹینڈنگ ہے مل کر صورتحال ہینڈل کرتے ہیں،

اہم خبریں سے مزید