• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کسی زمانے میں جب ریڈیو یا ٹی وی پر موسیقی کا کوئی پروگرام نشر ہوتا تو میزبان سب سے پہلا جملہ یہ کہتی کہ ناظرین موسیقی روح کی غذا ہوتی ہے ، کان پک گئے یہ جملہ سنتے سنتے ، برس ہا برس تک اس فقرے کو تبدیل کرنے کی کسی کو توفیق نہیں ہوئی ۔ خدا کا شکر ہے کافی مدت سے اس فقرے کی گونج سنائی نہیں دی مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ روح کی غذا تبدیل ہو گئی ہے ، غذا اب بھی موسیقی ہے فرق صرف اتنا پڑا ہے آ ج کل اس غذا کے بعد بد ہضمی ہو جاتی ہے۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ آج میرا ارادہ پرانے گانوں کی مدح سرائی کرنے کے ساتھ نئے گلوکاروں کے لتے لینا ہے ان کا خیال غلط ہے۔ اکثر کلاسیکل گانے والے گلوکار جو موسیقی کے نامور گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جب بھی کسی محفل میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اپنا گانا روک کر درمیان میں نئے گلوکاروں کو طعنہ ضرور دیتے ہیں ’’یہ جو آج کل کے لونڈے ہیں انہیں گانے کی الف ب نہیں آتی ، بس تُک بندی سے ایک گانا ہٹ ہو گیا اس کے بعد چل سو چل ، اصل موسیقی یہ نہیں بلکہ اصل فن تو وہ ہے جس میں ریاض کرتے ہوئے فنکار کی عمر گزر جاتی ہے اور پھر جا کر اسے سُر لگانا آتا ہے ، ہم لوگوں نے اس فن میں اپنی عمریں گزار دی ہیں تب جا کر خدا نے ہمیں اس قابل بنایا ‘ ‘ اور اس جملے کے بعد وہ ایسی تان لگاتے ہیں کہ انہیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ آج کل کے گلوکار وہ محنت یا ریاض نہیں کرتے جو گلوکاری کیلئے ضروری ہے مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ سُروں سے بالکل ہی پیدل ہیں یا انہیں گائیکی کا سر پیر ہی نہیں پتہ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ نئے گلوکار ریاض نہیں کرتے مسئلہ یہ ہے کہ پرانے گلوکاروں کی اتنی پذیرائی نہیں ہوتی جتنی عاطف اسلم یا علی ظفر کی ہوتی ہے ۔
ہم نے نہ جانے کیوں یہ فرض کر لیا ہے کہ مہدی حسن خاں صاحب سے بڑا غزل گائیک اب پیدا نہیں ہو سکتا .......بندہ پوچھے کیوں پیدا نہیں ہو سکتا ؟ کیا پابندی لگ گئی ہے ؟ اگر مہدی حسن سے پہلے غزل گائیک پیدا ہو سکتے ہیں تو ان کے بعد کیوں نہیں ہو سکتے ؟ مہدی حسن کے مداحوں (جن میں یہ فدوی بھی شامل ہے ) سے معذرت کے ساتھ، میرا ارادہ خاں صاحب پر تنقید کا نہیں کہ واقعی ان کی گائی ہوئی غزلیں اور گیت امر ہو چکے ہیں ، چند ایک تو لاجواب ہیں .......’’دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں ، اک دلربا ہے دل میں جو حوروں سے کم نہیں ‘ ‘ اس گانے میں جب خاں صاحب ’’دل میں جو ‘ ‘ کی ادائیگی کرتے ہیں تو کوئی ان کے فن کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیا عمدہ شاعری اور دھن ہے ، موڈ کیسا ہی ہو، دل و دماغ پر نحوست ہی کیوں نہ چھائی ہو ، یہ موسیقی روح کی گہرائی میں اتر کر سکو ن دے گی ۔ ’’رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کیلئے آ.......زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں .......رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں .......پیار بھرے دو شرمیلے نین .......گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار .......! ‘ ‘ ایک طویل فہرست ہے مہدی حسن کے سپر ہٹ نغموں کی جنہیں آپ سنتے جائیں اور سر دھنتے جائیں مگر خاں صاحب کے بارے میں ایک بات جو میں نے موسیقی کے اساتذہ سے بھی پوچھی مگر تسلی بخش جواب نہیں مل سکا کہ مہدی حسن کی آواز میں کبھی جوان رعنا کی کھنک نہیں رہی ، ان کی آواز ایک ادھیڑ عمر شخص کی آواز تھی جو محمد علی جیسے بزرگ ہیرو کو ہی سوٹ کرتی تھی ، انہو ں نے عین شباب میں وحید مراد کیلئے فلمی گانے گائے مگر تب بھی آواز میں جوانی کی رمق محسوس نہیں ہوئی ۔اس اعتراض کا جواب مجھے یہ دیا گیا کہ مہدی حسن غزل کے شہنشاہ تھے جس کیلئے ان کی آواز بہترین تھی ، فلمی گانے انہوں نے گائے مگر یہ ان کا مقام نہیں تھا ۔ چلئے ایسا ہی ہوگا مگر جو فلمی غزلیں انہوں نے گائیں جب وہ غزلیں براہ راست کسی محفل میں گاتے تو ایسے سُر لگاتے کہ غزل پیچھے رہ جاتی اور سُر آگے نکل جاتے ۔
مجھے یقین ہے کہ میری یہ باتیں خاں صاحب کے مداحوں کو بہت بری لگیں گی بالکل اسی طرح جیسے میڈم نورجہاں کے بارے میں اگر میں یہ کہوں کہ ان کی اعلیٰ گائیکی اپنی جگہ مگر ان کی آواز کسی معصوم دوشیزہ کی آواز نہیں تھی جیسے شریا گھوشال کی ہے (خدا میرے گناہ معاف کرے )لیکن بہرحال میڈم کے سپر ہٹ گانوں کا جواب نہیں .......’’لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم.......ہماری سانسوں میں آج تک وہ.......وے ایک تیرا پیرا مینوں ملیا میں دنیا تے ہور کی لیناں.......میں تے میرا دلبر جانی .......ساری رات تیرا تکیا میں راہ ایہناں تاریاں تو پُچھ چن وے.......حسن مکھڑے توں لا کے نقاب آ گیا! ‘ ‘ میڈم کے بارے میں بے شمار باتوں کے علاوہ ایک بات یہ بھی مشہور تھی کہ وہ اپنی جونیئر گلوکاروں کو ان کی ’’اوقات ‘ ‘ میں رکھتیں تھی حالانکہ ایسا نہیں تھا ، اس کی ایک مثا ل ناہید اختر ہیں ، اس با کمال گلوکارہ نے نور جہاں کے عروج پر ان کا مقابلہ کیا اور بے شمار لا زوال گیت گائے ، ایک طرح سے ناہید اختر وہ واحد گلوکارہ تھی جس نے نور جہاں کو اس زمانے میں چیلنج کیا جس وقت کوئی دوسری گلوکارہ یہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی ۔
بر صغیر پاک و ہند میں موسیقی اور شاعری کی ایسی تابندہ روایت ہے کہ جس کا مقابلہ شاید ہی دنیا کا کوئی اور خطہ کر سکے ، لا زوال گیت ، مدہوش کردینے والی دھنیں اور ایسی حیران کن شاعری کہ انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ کیسے ایک ہی بات کو سینکڑوں مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے اور ہر مرتبہ ایک نیاسرور آتا ہے۔ہمارے ہاں یہ روایت ابھی زندہ تو ہے مگر اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، نئے فنکاروں کیلئے ایک مشروب ساز کمپنی نے پلیٹ فارم تو مہیا کیا ہے مگر اس میں پرانے یا لوک گیتوں کو ہی نئے رنگ ڈھنگ میں گایا جا رہا ہے وہاں کوئی نئی دھن تخلیق نہیں کی جا رہی ۔ نئے گلوکارالبتہ خود نئے گانے بنارہے ہیں جن میں سے کئی تو لا جواب ہیں سو انہیں فقط اس بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی موسیقی کے روایتی گھرانے سے تربیت یافتہ نہیں ۔ مثال کے طور پر علی آفتاب سعید (آلو انڈے فیم ) ایک نوجوان گلوکار ہے جس نے موسیقی میں یہ رجحان متعارف کروانے کی کوشش کی ہے کہ گاناصرف محبوب سے اظہار محبت کا نام نہیں اس میں کوئی پیغام بھی دیا جا سکتا ہے ۔نئے گلوکار البتہ غزل گائیکی میں کہیں نظر نہیں آتے ، غزل کی دھن بنانا ایک مشکل کام ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ جگجیت سنگھ نے ساری عمر اپنی غزلیں ایک ہی دھن میں گائیں۔ اس سے پہلے کہ ان عظیم گلوکاروں کے مداح میرا گھیراؤ کر نے کی ٹھان لیں ، مجھے یہ کالم یہیں ختم کردینا چاہئے کیونکہ جگجیت سنگھ کے بعد میری رائے لتا منگیشکر کے بارے میں یہ ہے کہ انہیں ’’دل والے دلہنیا لے جائیں گے ‘ ‘ کے خوبصورت نغمے گانے کے بعد گلوکاری کو خیرباد کہہ دینا چاہئے تھاکیونکہ بعد میں ان کی آواز میں وہ بات نہیں رہی تھی جو’’مجھے چھو رہی رہیں تیری گرم سانسیں ‘ ‘ میں تھی ۔ مجھے امید ہے محترم ایاز امیر آج کی میری ان گستاخیوں کو معاف فرمائیں گے!
کالم کی دُم :نجاب حکومت نے شادی بیاہ کی تقریبات میں بلند آواز میں موسیقی پر پابندی لگا دی ہے ۔ اس سے پہلے بسنت پر پابندی ہے ، فلم اسٹوڈیو بند پڑے ہیں ، میوزک کنسرٹ پر بھی غیر اعلانیہ پابندی ہے .......لاہور جو اک شہر تھا!
تازہ ترین