آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آمنہ فاروق

 عورت قدرت کا وہ حسین پھول ہےجو خارزار کو گلستان میں تبدیل کردیتی ہے ۔ویسے تو محبت انسان کا فطری جوہر ہے ،جس میں عورت کا حصہ زیادہ ہے ۔وہ اپنی محبت سے پوری دنیا کو یکسر بدل دیتی ہیں ۔رشتوںکو محبت کی زنجیر سے جکڑ کر ساری زندگی لے کر چلتی ہے ،رشتوں کونبھانے کے لیے زندگی بھر قربانیاں دیتی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ عورت کے دم سے ہی دنیا میں رونق ہے اور وہ ہی ایک مکان کو گھر بناتی ہے۔

گھر کی ہر چیز کو بہت پیار و محبت سے سجاتی ہے ۔ کہتے ہیں’’ہر کام یا ب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہو تا ہے‘‘ ۔وہ چاہے ماں ہو ،بہن ہو یا بیوی ۔مرد کی زندگی میں ان سب کی اہمیت بھی اسی تر تیب سے ہے ۔بچہ دنیا میں آتے ہی ماں کی شکل میں ایک عورت کا محتاج ہوتا ہے ۔ اور یہ سچ ہے ۔

وہ ممتا کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتا ، ہوش سنبھالنے تک وہ اپنی مکمل نشو ونما ،پیار ومحبت سب کے لیے ماں کی توجہ کا طلب گا ر ہوتا ہے ۔بچے میں ماں کی محبت کی گھٹی اور ممتا کا مسلسل اظہار اس کی شخصیت کو مکمل کرنے میں بڑی مدد دیتا ہے ۔جب بڑے تھوڑے بڑے ہوتے ہیں تو انہیں ماں کی محبت کے ساتھ ساتھ بہنوں کے پیار کی شدت کا بھی احساس ہوتا ہے۔

ماں کے بعد جو رشتہ لڑکوں کے کردار اور شخصیت میں پختگی پیدا کرتا ہے وہ بہن کا ہوتا ہے ۔بہنوں کی محبت بھائیوں کو مضبوط اور ہر مشکل کا سامنا آسانی سے کرنے کے لیے تیار کرتی ہے ۔جب لڑکا شادی کی عمر کو پہنچتا ہے اوروہ اس منزل کا راہی بنتا ہے تو ایک تیسری عورت زندگی کی راہ پر محبت بھرے پھولوں سے اس کی منتظر ہوتی ہے ۔

ایک عورت کی تکمیل توا س وقت ہوجاتی ہےجب وہ ازدواجی زندگی گزار نا شروع کرتی ہے لیکن مرد کی تکمیل شادی کے بعد بھی نہیں ہوتی ۔وہ زندگی میں ہمیشہ جہد مسلسل کا شکار رہتا ہے ۔عورت کو شادی سے پہلے تک اپنے مستقبل کی فکر رہتی ہے اور مرد کی فکر مندی کا زمانہ شادی کے بعد شروع ہوتا ہے ۔اس لیے دونوں کو مل جل کر پیا ر ومحبت سے رہنا چاہیے ۔بیوی کے فر ائض میں کمی نہ آئے،اس کی کوشش ہر دم جاری رہتی ہے، جب کہ عورت چھوٹی موٹی محرومیوں کو بر داشت کرتے ہوئے زندگی کی گاڑی کھینچ لیتی ہے۔

عورت اپنا سب کچھ چھوڑ کر بہت پیار ومحبت سے اپنے گھر کو سنوارنے لگ جاتی ہے،کیوںکہ محبت نام ہے خیال کی ہم آہنگی کا ۔شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ، اگر ہم کسی شخص کے ہم خیال نہیں تو یقیناً ہم اس سے محبت بھی نہیںکر سکتے۔محبت کی اصل بنیاد ہی خیال میں یکسانیت ہے اور ایک گھر خوشحال گھرانہ محبت کی پائیدار بنیا د پر ہی قائم ہوتا ہے۔

مرد کی محبت زندگی سے ایک علیحدہ چیز ہے ۔ وہ خود کسی نہ کسی وجہ سے گھر سے ہفتوں باہر رہے گا لیکن یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ بیوی ایک ہفتے کے لیے میکے چلی جائے ۔ اگر اس کی خوشی کی خاطر یہ برداشت بھی کر لیا تو کہیں نہ کہیں اس کا ردعمل ضرور ظاہر کرے گا۔ توجّہ اور محبت کے معاملے میں وہ ہمیشہ ایک بچّہ ہی رہتا ہے چاہے کتنا ہی ذمہ دار ہو، جس طرح گھر ایک عورت کے بغیر نہیں چل سکتا اسی طرح مرد بھی بیوی کے بغیر بچپن سے بڑھاپے تک ایک گام نہیں چل سکتا۔ 

عورت میں جو سب سے نمایاں خوبی پائی جاتی ہے وہ یہ کہ وہ ہر صورت میں اپنی محبت بنھاتی ہے ہر حال میں مرد کا سہارا بنتی ہے ۔عورت چاہے جانے کے باوجود اپنی قوت برداشت کی وجہ سے محبتوں کے بغیر بھی منزل کا تعین کر لیتی ہے۔

مرد کی زندگی میں محبت کی جھلک بہت کم ملتی ہے، جب کہ عورت کی زندگی کی مکمل تاریخ ہی محبت ہے۔ آج کی مادی دنیا میں دولت کی چکاچوند نے محبت کی روشنی کو ماند کر دیا ہے اور اگر دیکھا جا ئے تو اس برائی کا زیادہ شکار بھی عورتیں ہی ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ زندگی میں دولت حاصل کرنے کے بعد بھی بعض لوگوں کا مقام پست ہی رہتا ہے۔ زندگی میں فضیلت دولت سے نہیں دل و دماغ کے صحیح استعمال سے محبت کرنے اور امن سے آتی ہے۔ خدا نے عورتوں کی ذہانت کو ان کے دلوں میں پوشیدہ رکھا ہے، کیوں کہ اس ذہانت کے کارنامے اکثر محبت کے کارنامے ہوتے ہیں اور یہ ہی زندگی کی وہ جیتی جاگتی تصویر ہے، جس میں انسان کا ماضی، حال اور مستقبل چمکتا ہے۔