• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جرمن خاتون نے پینشن حاصل کرنے کیلئے ماں کی لاش ممی بنا کر برسوں تک چھپائے رکھی

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

جرمنی میں 1 گھر سے 100 سال سے زیادہ عمر کی صوفی بی نامی ایک خاتون کی ممی بنا کر محفوظ کی گئی لاش برآمد ہوئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تحقیق اس وقت شروع کی گئی جب جرمن پولیس کو شک ہوا کہ صوفی بی کی 82 سالہ بیٹی کرسٹا بی نے پینشن کی مد میں ملنے والے 15 سو یورو وصول کرنے کے لیے اپنی والدہ کی لاش کو برسوں سے چھپایا ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کو روہمنز فیلڈن کے میئر ورنر ٹروئبر نے اطلاع دی تھی، جو گزشتہ 8 سال سے صوفی بی سے ملنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ورنر ٹروئبر نے بتایا کہ جب بھی میں صوفی بی سے ملنے جاتا تھا تو مجھے ان کے کمرے کا دروازہ بند ملتا تھا اور ان کی بیٹی کوئی نہ کوئی بہانا بنا دیتی تھی۔

اُنہوں نے بتایا کہ 2025ء کے آخر میں جب صوفی بی کی بیٹی نے مجھے یہ بتایا کہ والدہ کا 2 سال قبل جمہوریہ چیک میں انتقال ہو گیا تھا تو میں نے پبلک پروسیکیوٹر کو مطلع کیا۔

بعد ازاں جرمن پولیس کو فروری کے آغاز میں کرسٹا بی کے گھر سے صوفی بی کی ممی بنا کر محفوظ کی گئی لاش ملی۔

جرمن پولیس نے گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے بیان میں بتایا کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا تھا لیکن موت کی وجہ یا تاریخ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

جرمن پولیس نے قتل کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے لیکن مشتبہ پینشن فراڈ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید