آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

PDM کا جلسہ اور حکومت کا مستقبل

تحریر:ہارون مرزا۔۔۔راچڈیل
ماہ اکتوبر سیاسی لحاظ سے ملکی تاریخ میں اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے ملک میں پہلی بار منتخب جمہوری حکومت کے خاتمے اور مارشل لاء کا دور اکتوبر میں شروع ہوا ‘چوتھی مرتبہ لگائے جانے والے مارشل لاء کے دوران سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تیسری حکومت بھی ماہ اکتوبر میں ہی ختم ہوئی، پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو بھی 16اکتوبر1951 کو راولپنڈی میں ہزاروں افراد کے جلسہ عام میں شہید کیا گیا،موجودہ منتخب جمہوری حکومت قوم کو ڈیلیور نہ کرپانے کے باعث شدید سیاسی دبائو اور عوام کی کڑی تنقید کے نشانہ پرہے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ جسے پی ڈی ایم کا نام دیا گیا ہے اپوزیشن کے اتحاد کا پہلا جلسہ بھی اکتوبر میں رکھا گیا جسے موجودہ حکومت گرائو تحریک کا آغاز قرار دیا جارہا ہے، گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے پر حکومت کا موقف بڑا واضح مگر کردار انتہائی متنازع رہا ایک طرف حکومتی وزراء سمیت وزیراعظم عمران خان اعلان کرتے رہے ہیں کہ انہیں جلسوں سے کوئی مسئلہ نہیں اپوزیشن جہاں چاہے جلسے کرے مگر اسلام آباد سے لاہور، گوجرانوالہ تک ہر شہر میں حالات مختلف نظر آئے جلسے سے قبل گوجرانوالہ اور دیگر شہروں میں لگائے گئے بینرز اور اشتہاروں کو جس طرح سے اتارا، پھینکا اور نوچ ڈالا گیا جس

اندازمیں سیاسی رہنمائوں و کارکنوں کی گرفتاریاں ہوئیں یہ اقدامات کسی اور امر کی غمازی کرتے ہیں اپوزیشن اتحاد کے جلسے سے ایک یوم قبل شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک کیپٹن سمیت 6جوان شہید ہوئے دہشت گردی کی حالیہ لہر اور کورونا وائرس کی شدت میں ایک بار پھر اضافے کے بعد سیاسی جلسوں میں ہزاروں افراد کا اکٹھ کسی بھی صورت محفوظ نہیں مگر حالات نے اپوزیشن اور عوام کو سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کر دیا ہے۔ پی ڈی ایم میں مسلم لیگ ن ‘ پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت گرائو مہم کیلئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں ن لیگ کی مرکزی رہنما مریم نواز پورے ملک میں سیاسی جلسے کرنے کا اعلان کر چکی ہیں جس کا آغاز گوجرانوالہ سے ہو چکا ہے، عمران خان جب برسراقتدار آئے توان کے بلند بانگ دعوئوں سے عوام کی امیدیں باندھ لیں ‘ بیروزگاری کے خاتمہ ‘ بے سہارا لوگوں کیلئے گھروں کی فراہمی ‘ غیر ملکی سرمایہ کاری وغیرہ مگر جوں جوں وقت گزرتا گیا لوگوں کی امیدیں بھی دم توڑتی گئیں عمران خان جن کو وزیراعظم بننے کی خواہش صرف اس لیے تھی کہ وہ پاکستان سے غربت کا خاتمہ چاہتے تھے مگر گزشتہ دو برس میں یوں لگا کہ ’’غربت مکاؤ‘‘ مہم سے زیادہ ’’غریب مکاؤ‘‘ مہم چلائی جا رہی ہے، مہنگائی آسمان چھونے لگی‘ لاکھوں لوگ بیروزگارہوئے روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ‘ یوٹیلیٹی بلز نے غریبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی‘ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور بیڈ گورننس نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیاآج لوگ گوشت تو درکنار سبزیوں سے بھی محروم ہو تے جا رہے ہیں عمران خان بار بار اپوزیشن کو این آر او نہ دینے کی بات کرتے ہیں مگر مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر اپوزیشن رہنمائوں کا کہنا ہے کہ دراصل حکومت خود این آر او چاہتی ہے اور اب اسے بھاگنے کیلئے کوئی راستہ نہیں مل رہا عوام سڑکوں پر آچکے ہیں گوجرانوالہ جلسے کے بعد حالات خواہ کچھ بھی ہوں مگر ایک امر مصدقہ ہے کہ اپوزیشن نے اب حکومت کو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا ہے حکومت گرائو تحریک کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ تو حالات طے کریں گے مگر آنے والے چند ماہ کے دوران ملکی سیاست کا دھارا تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔

یورپ سے سے مزید