آپ آف لائن ہیں
ہفتہ13؍ربیع الاوّل 1442ھ31؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اٹھارہ اکتوبر تجدیدعہد کا دن

تحریر:زاہد مغل ۔۔۔بریڈفورڈ
اٹھارہ اکتوبرپاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم ترین دن تھا جس دن بے نظیربھٹو پاکستان تشریف لائیں اس دن لگتا تھا کہ جیسے عوام کا سمندر کراچی میں امڈ آیا ہو۔عوام اپنی محبوب قائد کے استقبال کے لیے دیوانہ وار کراچی کے جناح ائرپورٹ کی طرف جارہے تھے ۔اس دن سیاسی پنڈتوں کے تمام اندازے غلط ثابت ہو گئے تھے وہ تجزیہ نگا ر جو بی بی کے استقبال کو میاں نواز شریف کی پاکستان آمد کے موقع پر ہونے والےحالات سے جوڑ رہے تھے ان کے انداز ے غلط ثابت ہو گئے تھے۔اور وہ قوتیں جو مملکت خداداد میں جمہوریت کی بحالی نہیں چاہتی تھیںجنھیں پاکستان کی ترقی وخوشحالی ،استحکام اور پرامن پاکستان قبول نہیں تھا انھیں بے نظیربھٹو کی پاکستان واپسی کھٹک رہی تھیں۔اس لیے انھیں پیغامات بھیجے گئے،جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں کہ وہ وطن واپسی کا پروگرام منسوخ کر لیں۔مگر وہ فیصلہ کر چکی تھیں کے انھیں اپنے ملک واپسں جاتا ہے ۔انھوں نے اپنے تین معصوم بچوں کی ماں بن کر نہیں پاکستان کی قائد بن کرسو چا اور کہا کہ مرنے سے نہیں ڈرتی ہوں میں وطن واپس جائوں گی۔بے نظیر کو اپنے باپ سے کیے سیاسی وعدے کو بنھانا تھا انھیں اپنی سالگِرہ کے موقع پر اپنے عظیم باپ کی طرف سے عوام کا تحفہ ملا تھا ۔پھر وہ اہم دن 18 اکتوبر جب وہ پاکستان

تشریف لائیں اور اپنی زمین پر قدم رکھتے ہی بے اختیار آنسو ان کی آنکھوں میں آگئے۔وہ آنسو اس اذیت کو بیان کررہے تھے جو انھوں نے اپنے ملک سے دور رہ کر محسوس کی تھی اس کرب کا اظہار کر رہے تھے جس سے وہ گزری تھیں۔ان کے استقبال کے لئے آنے والے ان سے محبت کرنے والے کارکن اپنے ہاتھوں میں بینر لیے کہ بے نظیر آئے گی روزگار لائے گی۔ وہ غربت وافلا س کا شکار عوام کی امیدوں کا مرکز تھیں۔پھر کارساز کے مقام پر ایک خوفناک دھماکہ ہو گیا ۔ایسا طاقتور دھماکہ جس نے لمحوں میں 177 جیتی جاگتی زندگیوں کو نگل گیا ۔جیئے جیئے بھٹو کے نعرے لگاتے جیالے لمحوں میں زندگی کی بازی ہار گے ۔استقبالیہ دھنیں ماتمی سسکیوں میں تبدیل ہو گئیں قہقہے خوفناک چیخوں میں بدل گے۔استقبال سرخ گلاب شہیدوں کے جسموں پر نچھاور ہو گے۔مگر بے نظیربھٹو جنھیں خوفزدہ کرنے کے لیے موت تقسیم کی گئی تھی ۔وہ باہر عوام میں نکل کھڑی ہو گئیں۔وہ ہرشہر جا رہی تھیں ان کی بے خوفی ان کے اور پاکستان کے دشمنوں کو للکار رہی تھی جس بھٹو کو پھانسی لگائی گئی تھی وہ بے نظیربھٹو کے وجود کا حصہ تھا۔ 18 اکتوبر سانحہ کارساز اس ملک کے غریب عوام کے ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں کی پاکستان میں امن اور استحکام لیے دی گئی قربانی تھیجو کبھی رائیگاں نہیں جائے گی ۔آج بینظیر بھٹو کا لخت جگر اپنی ماں کے پیغام کو لے کر قریہ قریہ جارہا ہے ،وہ بے خوف ہوکر کہتا ہےکہ میں پاکستان کے عوام کے ساتھ ہوں،میں کشمیر کے عوام کے ساتھ ہوں کسی کو کشمیریوں کے مقدس خون کے ساتھ غداری نہیں کرنے دیں گے ۔18 اکتوبرکا دن تجدید عہد ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔