آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

دھاندلی سے بنی حکومت کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا، مولانا فضل الرحمٰن

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ہمیں مجبور کیا جاتا رہا کہ ہم دھاندلی سے بنی حکومت کو مان لیں، ہمیں دھمکایا گیا، لالچ بھی دی، لیکن ہم اس کٹھ پتلی حکومت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔

کراچی کے باغِ جناح میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب میں انھوں نے وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ تقریر میں بونگی مار جاتے ہیں، خواجہ آصف کی جنرل قمر جاوید باجوہ کو کی گئی کال کا ذکر کرتے ہوئے سچ بول گیا کہ ہمیں الیکشن میں کس نے کامیاب کروایا۔

 مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ گوجرانوالہ میں اپوزیشن کا جلسہ کامیاب رہا، جس سے نواز شریف نے بھی خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ 2 سال سے ہم میدان کار زار میں ہیں، ہم نے ملک میں آزاد فضاؤں کو بحال کرنا ہے، ہم اس حکومت کو نہیں مانیں گے لیکن انہیں لانے والوں سے غلطی تسلیم کروائیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ 1 کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کرنے والوں نے 26 لاکھ نوجوانوں کو بیروزگار کیا، ملکی معیشت کی کشتی ڈوب رہی ہے، اس حکومت کے دو سال کے بجٹ اس کی طرف واضح اشارہ ہیں۔


ان کا کہنا تھا کہ جب معیشت تباہ ہوتی ہے تو ملک تباہ ہوجاتے ہیں، 50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ کرنے والوں کو بے گھر کرنا آتا ہے انہیں گھر دینا نہیں آتا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے دوران تقریر حکومت کی کشمیر پالیسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہمیں عمران خان نے یقین دلایا تھا کہ نریندر مودی اقتدار میں آیا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا، وزیر اعظم آزاد کشمیر پر غداری کے مقدمے سے بھارت خوش ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم پاس کر کے ہم نے کسی حد تک صوبوں کو خود مختاری دی تھی، سندھ اور بلوچستان کےجزائر پر قبضہ 18ویں ترمیم اور آئین کے خلاف ہوگا۔

پی ڈی ایم سربراہ نے مزید کہا کہ حکومت نے عام افراد کی قوت خرید ختم کردی ہے دنیا میں کوئی بھی انقلاب دولت مند نہیں لائے، انقلاب ہمیشہ غریب ہی لاتے ہیں، انقلاب آکر رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے، چین سے ہماری دوستی کی مثالیں دی جاتی تھی، جو تجارتی بن چکی ہے، بھارت ماضی میں ہم سے تجارت کا خواہشمند تھا مگر وہ اب بات کرنے تک کو تیار نہیں، افغانستان کی کرنسی جو ہم سے بہت کمزور تھی وہ بھی طاقتور ہوچکی ہے۔

دوارن تقریر مولانا فضل الرحمٰن نے سانحہ کارساز کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور سندھ کی تقسیم کی سازش کو عوام کی رضا مندی کیے جانے کو مسترد کردیا۔

قومی خبریں سے مزید