آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ربیع الثانی 1442ھ 27؍نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ملت اسلامیہ کا نقیب،عبدالغفارعزیزؒ

تحریر:محمد صادق کھوکھر۔۔۔لیسٹر
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جواپنے حسنِ اخلاق، اجلے کردار، افکارو نظریات اور خدا داد صلاحیتوں سے معاشرے میں اپنا مقام بہت جلد بنا لیتی ہیں۔ جماعتِ اسلامی کےممتاز رہنما عبدالغفار عزیز مرحوم کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے۔ جو کچھ روز قبل اپنے ہزاروں چاہنے والوں کو سوگوار کر کے دارِ فانی سے کوچ کر گے۔ وہ جماعتِ اسلامی کے نائب امیر اور شعبہ امورِ خارجہ کے ڈائریکٹر تھے۔ عبدالغفارعزیز پتوکی کے ایک دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کی خاطر قطر چلے گے۔ جہاں انہوں نے عالمِ اسلام کی مایہ ناز درس گاہ معہد العلوم الشریعہ میں داخلہ لیا۔ یہ ادارہ ممتاز عالمِ دین ڈاکٹر یوسف قرضاوی نے قائم کیا تھا۔ تاکہ طلبہ فرقہ واریت سے بلند ہو کر اسلام کی تعلیم حاصل کریں۔ یہاں انہوں نےعربی زبان اور اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ یہ چھ سال کا ڈپلوما کورس تھا۔ اس کورس کے متعلق وہ خود بتاتے تھے۔ کہ اس کا معیار اتنا اعلیٰ تھا کہ اس کے بعد یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران عربی زبان کی مہارت میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ انہوں نے قطر یونیورسٹی سے جرنلزم میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں شیخ یوسف القرضاوی، محمد الغزالی اور شیخ

عبدالعزیز کراداغی وغیرہ شامل ہیں۔ ان اساتذہ کی صحبت نے ان کے افکار و کردار کو نکھارا اور صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ وہ تعلیم کے بعد وطن واپس لوٹ آئے۔ پاکستان واپس آ کر بھی انہوں نے حصولِ علم کا سلسلہ جاری رکھا اور ’’وفاق المدارس‘‘ کے ایم اے عربی و ایم اے اسلامیات کے مروجہ علوم کے مساوی ’’شہادت العالمیہ‘‘ کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ اس میں بھی وہ پورے وفاق میں اول آئے۔ اسی دوران وہ جماعتِ اسلامی کے مرکز سے وابستہ ہو گئے۔ پہلے وہ امیرِ جماعت قاضی حسین احمد کے معاون خصوصی مقررہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے جماعت کے امورِ خارجہ کا شعبہ سنبھالا۔ اس شعبے کو انہوں نے جدید سائنسی انداز میں چلایا۔ انہوں نے دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں، اسلامی تنظیموں، عالمی ذرائع ابلاغ ، تھنک ٹینکس، علمی اداروں کے ساتھ بہترین رابطہ کاری کا فریضہ انجام دیا۔ چونکہ انہیں عربی زبان پر پورا عبورحاصل تھا۔ اس لیے عرب ممالک کے ذرائع ابلاغ میں پاکستانی نقطہ نظر کو خوش اسلوبی سے پیش کرتے تھے۔ عرب ممالک کے اکثر ٹی وی پروگراموں میں وہ حصہ لیتے تھے۔ خاص طور پرایک عربی ٹی وی میں ان کے تجزئیے اور تبصرے بڑے مقبول تھے۔ عرب ممالک کے معروف جرائد اور اخبارات میں بھی ان کے مضامین شائع ہونے لگے۔ نیز وہ پاکستانی اخبارات اور جرائد میں بھی وہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات و واقعات پر مبنی مضامین لکھتے تھے۔ ان کے تجزئیے بڑے برمحل اور پُرمغز ہوتے تھے۔ ان تجزئیوں میں وہ پیش آمدہ خطرات سے بھی اگاہ کرتے تھے۔ وہ عرب ممالک میں کافی معروف تھے۔ اس لیے ان کی دعوت پر وہ بین القوامی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شریک ہوتے۔ انہی مصروفیات کے باعث وہ اکثر دوروں پر رہتے۔ وہ ہر جگہ اسلام اور پاکستان کی نمائندگی کرتے۔ مسئلہ کشمیر ان کی ترجیعِ اول ہوتا۔ وہ مسئلہ کشمیر کی اہمیت اجاگر کرتے تھے۔ لوگوں کو سمجھاتے کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور کس طرح بھارت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ چونکہ وہ فصیح عربی بولتے تھے۔ اس لیے اکثر لوگ انہیں عرب گمان کرتے۔ رفتہ رفتہ ان کے عرب ممالک کی اہم علمی اور دینی شخصیات سے ذاتی روابط قائم ہو چکے تھے۔ خاص طور پر ڈاکٹر یوسف قرضاوی انہیں بہت عزیز رکھتے تھے۔ انہی کی کوششوں سے مسلم دنیا کے علماء کا ایک بڑا اتحاد وجود میں آچکا تھا۔ جس کا نام انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز (بین الاقوامی علماء اتحاد) ہے۔ عبدالغفار عزیز اس کے اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے تھے۔ ان کا اندازِ گفتگو بڑا شائستہ تھا۔ جب وہ بین القوامی کانفرنسوں میں کمپیئرنگ کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ تو ایسے پروگراموں میں جان ڈال دیتے تھے۔ یہی حال ان کی تقاریر کا تھا۔ ان کا لہجہ اور الفاظ کا چناؤ اور دل نشین اندازِ بیان دلوں کو مسحور کر دیتا تھا۔ عربی جاننے والے ان کی تقاریر سن کر اپنے اندر ایک نیا جوش اور ولولہ محسوس کرتے۔ ان کے دلوں میں اسلام کی خاطر کچھ کرنے کی امنگ پیدا ہوتی۔ وہ تقویٰ اور علمی فہم و فراست بے لوثی درویشی کا نمونہ تھے۔ چہرے پر ایک دائمی مسکراہٹ طاری رہتی۔ ہر وقت ہشاش بشاش نظر آتے۔ ان کے قریبی دوست اس بات پر حیران تھے کہ سرطان جیسے موذی مرض کی شدید ترین تکالیف کے باوجود بھی وہ میٹنگ میں حاضر ہوتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں ان کے جانے سے واقعی علمی خلا پیدا ہوا ہے۔ پاکستان میں خال خال ہی ایسے لوگ ہیں۔ جو عرب دنیا میں پاکستانی نقطہ نظر خوش اسلوبی سے پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ خاص طور پر عرب ذرائع ابلاغ میں ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔ وہ سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ بالآخر یہی مرض جان لیوا ثابت ہوا۔ ان کی نمازِ جنازہ ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر حبیب ا لرحمان عاصم نے پڑھائی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی خطائیں معاف فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔ آمین

یورپ سے سے مزید