آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رامین احمد

بچوں کی کام یاب زندگی کے لیے والدین اعلٰی تعلیم کو تر جیح دیتے ہیں ۔ بعض والدین سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے بہت ساری دولت جمع کرلی تو ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا ۔لیکن ایسا ضروری نہیں ہے ۔اکثر دولت مند باپوں کےبچے بگڑ ےبھی دیکھے ہیں ۔تاہم جو والدین بچوں کو اچھے اخلاق اور اعلٰی تعلیم کی مضبوط بنیادیں فراہم کرتے ہیں ۔ان کے بچے نہ صرف ماں باپ کا نام روشن کرتے ہیں بلکہ کام یاب اور پُر سکون زندگی بھی بسر کرتے ہیں ۔

بچے کے اخلاق کی تعمیر گھر کی تر بیت سے ہوتی ہے ۔والدین اچھی تر بیت کے ذریعے بچوں میں کتابوں سے انسیت اور تعلیم سے محبت پیدا کرسکتے ہیں ۔بچے کی تعلیم میں پہلا قدم اس کے اور کتابوں کے درمیان رشتہ پیدا کرنا ہوتا ہے ۔اکثر والدین کویہ لگتا ہے کہ بچے کو اسکول میں داخل کرانے کے بعد ان کی ذمہ داری ختم ہو گئے ،جب کہ ایسا نہیں ہے ۔اسکول میں داخل کرانے کے بعد والدین کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے ،انہیں بچے کی ہر چیز پر نظر رکھنی پڑتی ہے ۔اس سلسلے میں والدین کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔

جب بچے اس عمر کو پہنچ جائیں کہ وہ چیزوں پہنچاننے لگے لیکن ابھی ان کی عمر اسکول جانے کی نہیں ہے تو والدین بچے کے سامنے رنگین تصاویر والی کتابیں انہیں دکھائیں ،بچے رنگین چیزیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔تجس کے باعث ان کی ورق گردانی کرے گا ،تصویروں کو دل چسپی سے دیکھے گا ۔اس طر ح سے بچے اور کتاب کے درمیان وہ تعلق قائم ہو نا شروع ہو جائے گا جو اس کے مستقبل کو مضبوط بنا ئیں گا ۔بچہ جب تھوڑے اور بڑے ہو جائے تو اسے کہانیاں پڑھ کر سنائیں۔

بچے بن کر ان کو چیزیں سیکھائیں ۔جب آپ کو لگے کہ بچہ تصاویر کےساتھ کہانیاں سننے میں بھی دل چسپی لے رہا ہے ۔تب اسے بتائیں کہ وہ ان کہانیوں کو خود سے پڑھنے کی کوشش کرے ۔یہ رویہ بچوں میں کتابوں کے پڑھنے کے شوق میںا ضافہ کرے گا ۔ بچے کو اسکول بھیجنے کے بعد والدین کی ذمہ داریوں کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے ۔ابتدائی دنوں میں بچے کو والدین اور اساتذہ دونوں کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب بچے کے کورے دماغ کے صفحات پر ذخیرہ الفاظ جمع ہونے شروع ہوتے ہیں۔

اس دوران درست تلفظ کے ساتھ لفظوں کے ہجے کروا کرا نہیں یا دداشت میں محفوظ رکھنے کے لیے بچے کو اپنی نگرانی میں پریکٹس کروائیں۔اسے چند الفاظ بتائیں اور کہیں کہ اگر وہ ان کے درست ہجے کرلے گا تو اسے انعام ملے گا۔دوسرے دن بچے سے پوچھیں کہ کل ہم نے کن کن لفظوں کے ہجے کیے تھے؟اس طر ح کرنے سے بچے میں نئے نئے لفظوں کو سیکھنے کےشوق میں مزید اضافہ ہو گا۔