آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پنجاب حکومت نے فلور ملوں کو دو لاکھ ٹن اضافی سرکاری کوٹا دیدیا

اسلام آباد (حنیف خالد) حکومت پنجاب نے سرکاری گندم کا کوٹا ساڑھے سترہ بوری فی رولر باڈی سے بڑھا کر اکیس بوری فی رولر باڈی کر دیا ہے جبکہ پچھلے سال 15 ستمبر سے سرکاری گندم کا کوٹا 35 بوری فی رولر باڈی کیا گیا تھا یہ سرکاری کوٹا سرکاری گوداموں سے جون تک فلور ملوں کو دیا جاتا رہا۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے وائس چیئرمین کاشف شبیر شیخ نے کہا کہ پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے صوبے میں آٹے کی فراوانی ہوگی بشرطیکہ پورے پنجاب کی فلور ملوں کو دیسی گندم کا سرکاری کوٹا 35 بوری فی رولر باڈی کر دیا جائے کیونکہ درآمدی گندم دو لاکھ ٹن پہنچ گئی ہے حکومت نے 10 لاکھ ٹن درآمدی گندم روس اور یوکرائن سے خریدی ہے یہ گندم 234 ڈالر ٹن سے 279 ڈالر ٹن تک خریدی گئی ہے 4 لاکھ ٹن گندم پاکستان میں روس سے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ 282 ڈالر ٹن بھیجی ہے یہ نومبر دسمبر میں پہنچ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 11 لاکھ ٹن پرائیویٹ سیکٹر نے درآمد کی ہے۔ کاشف شبیر شیخ نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر دیسی گندم کا سرکاری کوٹا تین چار بوری

فی رولر باڈی بڑھانے کی بجائے دس پندرہ بوری فی رولر باڈی بڑھائے اس طرح کم ازکم 60 فیصد فلور ملیں سرکاری کوٹے کی محتاج نہیں رہیں گی۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے نئے صدر عاصم رضا نے جمعہ کی رات جنگ کو بتایا کہ 23 اکتوبر کو حکومت پنجاب نے سرکاری گندم کا کوٹا 19 ہزار 150 ٹن سے بڑھا کر 21 ہزار 150 ٹن یومیہ فلور ملوں کو دیا ہے اس طرح دو ہزار ٹن یومیہ کوٹا بڑھا ہے جبکہ گزشتہ ہفتے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب نے پانچ ہزار ٹن یومیہ کوٹا بڑھانے کا یقین دلایا تھا۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین کاشف شبیر شیخ نے کہا کہ فلور ملیں ہر سال بارہ چودہ لاکھ ٹن گندم پسائی کیلئے کسانوں سے خریدا کرتی تھیں مگر اس سال ان کو زبردستی خریداری سے روک دیا گیا اور یہ گندم ذخیرہ اندوزوں سٹاکسٹوں نے خرید لی اور اب وہ یہ گندم 2340 روپے فی من پنڈی پہنچ فلور ملوں کو فروخت کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ گندم جو کسانوں نے ذخیرہ کر رکھی ہے اسے خراب ہونے سے بچانے کیلئے خصوصی اقدامات کرے جبکہ سٹاکسٹ ذخیرہ اندوز گندم مافیا 1400 سے 1600 روپے من خریدی گئی گندم اب 2300 روپے من تک بیچ رہے ہیں حکومت کو ان کے خلاف انٹی ہورڈنگ ایکٹ کے تحت فوری ایکشن لیکر تین تین سال کیلئے جیل میں ڈالنا چاہئے ورنہ اگلے سال یہی ذخیرہ اندوز پندرہ بیس لاکھ کی بجائے پچیس تیس لاکھ ٹن گندم کی ذخیرہ اندوزی کریں گے۔

ملک بھر سے سے مزید