آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ربیع الثانی 1442ھ 27؍نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بقول فیض؎

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے

تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

’’اپوزیشن سن لے میں انہیں کبھی ’’این آر او‘‘ نہیں دوں گا،‘‘ یہ جملہ پچھلے کوئی دو سال سے اتنی دفعہ سن چکے کہ اب تو اینٹھن سی ہونے لگتی ہے، سوال یہ ہے کہ یہ این آر او کیا کوئی نئی چیز یا اصطلاح ہے جس کا ذکر وزیراعظم عمران خان بار بار کر رہے ہیں اور کون اور کیسے این آر او مانگا جا رہا ہے؟ اس بات کا کوئی ثبوت وہ عوام کے سامنے نہیں لائے۔ پانچ اکتوبر 2007ء کو پرویز مشرف نے ’’قومی مفاہمتی آرڈیننس‘‘ جاری کر کے امریکہ کی خواہش بھی پوری کی اور یک جنبش قلم ملک کی تقریباً تمام بڑی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے آٹھ ہزار سے زیادہ افراد کو ’معصوم‘ قرار دے کر معاف کر دیا ۔اس آرڈیننس کے ذریعے محترمہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے لئے پاکستان واپس آنے کی راہ بھی ہموار ہوئی اور قتل، اقدام قتل، بلوے، ملکی خزانہ لوٹنے، منی لانڈرنگ، غبن، بھتہ خوری یہاں تک کہ دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں ملوث لوگ بھی ’’این آر او‘‘ کی چھتری تلے آ گئے۔ 8434ان افراد میں بیورو کریٹس، قومی اسمبلی کے 152اور سینٹ کے 34’معزز‘ ارکان بھی شامل تھے، ان پر بھی ملکی خزانہ لوٹنے اور کرپشن کے الزامات تھے۔

ہم اگر اپنی یادداشت پر زور دیں تو آپ کو پاناما پیپرز اسکینڈل یاد آئے گا جس کے بعد 2017ء میں چیئرمین ’’نیب‘‘ نے اس اسکینڈل میں نام آنے پر 435پاکستانیوں کی آف شور کمپنیز کے بارے میں فوری تحقیقات کا حکم دیا، اس لسٹ میں سیاستدانوں کے علاوہ کئی بڑے بزنس مین اور نامی گرامی وکلاء اور ججز بھی شامل تھے لیکن حیرت انگیز بات یہ رہی کہ ان 435میں سے صرف نواز شریف کے خلاف کارروائی ہوئی کیوں کہ ان کے بچوں کا نام پاناما پیپرز میں شامل تھا لیکن باقی کے تمام افراد ’معصوم‘ ٹھہرے!مشرف کے جاری کردہ این آر او کے مطابق جنوری 1986ء سے 12؍ اکتوبر 1999ء کے دوران بنائے جانے والے مقدمات میں ملوث تمام ملزموں کو قومی مفاہمت کے نتیجہ میں عام معافی دے کر کہا گیا کہ یہ سیاسی مقدمات تھے، تاریخ میں یہ سچ بھی موجود ہے کہ اس ’’این آر او‘‘ کے پورے دو سال بعد اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی عدالت نے این آر او کو غیر قانونی قرار دے کر اس کی قانونی حیثیت ختم کر دی لیکن اس کے باوجود آج 10سال گزر جانے پر بھی ’’نیب‘‘ یا کسی دوسرے ملکی ادارے نے اس ضمن میں کوئی کارروائی نہیں کی حالانکہ سپریم کورٹ نے یہ مقدمات دوبارہ کھولنے کا واضح حکم دیا تھا۔

گو کہ جنرل پرویز مشرف ایک فوجی حکمران تھے لیکن وہ ملک اور اپنے آپ کو کسی بڑے سیاسی بحران کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی دبائو سے بھی بچانا چاہتے تھے اور بیرونِ ملک موجود سیاسی قیادت کو واپس لانے پر آمادہ تھے۔ مجھے اب تازہ این آر او دینے کی قانونی حیثیت کا تو زیادہ علم نہیں لیکن یہ ضرور پتا ہے کہ اگر حکومت کسی جماعت یا شخصیات کو ریلیف دینا چاہے تو اس کے پاس پردے کے پیچھے بھی بیشمار طریقۂ کار ہوتے ہیں لہٰذا صدارتی آرڈیننس یا این آر او ہی واحد راستہ نہیں ہوتا۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ’میں انہیں کبھی این آر او نہیں دوں گا‘ کا واقعی مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کو کبھی این آر او نہیں دیں گے؟ لیکن پہلے تو وزیراعظم عوام کو ثبوت کے ساتھ یہ بتائیں کہ ان سے این آر او کب کب اور کس کس نے مانگا، دوسرا براہِ کرم اپنے ذہن میں یہ ضرور رکھیں کہ وہ پرویز مشرف سے زیادہ مضبوط حکمران نہیں ہیں۔

پاکستان میں اب یہ تاثر بھی عام ہوتا جا رہا ہے کہ عمران خان آج جو کچھ کہہ رہے ہیں‘ ضروری نہیں چند مہینے بعد بھی اُن کا بیانیہ وہی ہو بلکہ غالب امکان یہی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنا نقطہ نظر تبدیل کر لیتے ہیں۔ عمران خان کو یہ بھی یاد ہی ہو گا کہ جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تھا تو وہ ببانگ دہل کہا کرتے تھے کہ اب پاکستان کی سیاست سے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اب یہ اور اُن کے حواری کبھی پاکستان کی سیاست میں واپس نہیں آ سکیں گے، اور یاد یہ بھی رکھیں کہ اُن دنوں نواز شریف پر ہائی جیکنگ اور محترمہ پر بھی کئی قسم کے الزامات تھے لیکن پھر ہم نے دیکھا کہ انہیں اُسی مشرف نے این آر او بھی دیا اور پہلے پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لیگ ن کی حکومتیں بھی قائم ہوئیں۔ اور یہ تو آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ کل کے کٹر سیاسی دشمن آج ایک دوسرے کی بلائیں لے رہے ہیں۔ یقین کیجئے، ہمارا بنیادی اور روایتی سیاسی کلچر ہی یہ ہے جو گھوم پھر کر ایک ہی جیسے الزامات کی پاداش میں سب کی گوشمالی کرتا ہے لہٰذا اگر ماضی کی سات دہائیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں تو پھر آپ ملک سے انتشار کے خاتمہ کے لئے، امن و آشتی کے لئے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کے لئے دل بڑا کریں اور کسی بڑے نقصان یا شدید دبائو سے پہلے اپنی ٹائپ کا ہی سہی، این آر او دے کیوں نہیں دیتے؟ بقول فیض احمد فیض ؎

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

تازہ ترین