آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی کو با اختیار شہری حکومت دی جائے، 98 فیصد رائے دہندگان کا مطالبہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر )جماعت اسلامی کے تحت ”حقوق کراچی تحریک“ کے سلسلے میں 16اکتوبر تا 21اکتوبر شہر بھر میں ہونے والے حقوق کراچی ریفرنڈم کے لیے تشکیل دیئے گئے کمیشن کے سیکریٹری قمر عثمان کی جانب سے ریفرنڈم کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے،جس کے مطابق ریفرنڈم کے لیے جاری کیے جانے والے بیلٹ پیپرز میں سے 77.4فیصد بیلٹ پیپرز واپس آئے ہیں جن میں سے 98.6فیصد افراد نے ہاں میں رائے دی ہے،بقیہ ووٹ مسترد اور مخالفت میں آئے جبکہ آن لائین اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ افراد نے بھی ووٹ کاسٹ کیے اور 99فیصد نے مطالبات کے حق میں رائے دی،کراچی ریفرنڈم میں شرکت کرنے والے 98فیصد سے زائد رائے دہندگان نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو با اختیار شہری حکومت دی جائے،کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے، نوجوانوں کو سرکاری ملازمت دی جائے، مردم شماری دوبارہ کرائی جائے، کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لے کر 15سال کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے،کراچی کو بین الاقوامی طرز کا ٹرانسپورٹ کا نظام، تعلیم، صحت، پانی، سیوریج،

اسپورٹس اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا مربوط نظام فراہم کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے حقوق کراچی ریفرنڈم کے حتمی نتائج کے حوالے سے کہا ہے کہ ریفرنڈم میں واضح ہو گیا ہے کہ پورا شہر کراچی مشترکہ مسائل کے حوالے سے یکسو اور ایک پیج پر ہے،شہر کے اندر لسانی یا دیگر کسی قسم کی کوئی تقسیم نہیں ہے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید