آپ آف لائن ہیں
منگل8ربیع الثانی 1442ھ 24؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پی ڈی ایم کا گزشتہ روز کوئٹہ میں ہونے والا جلسۂ عام جہاں بھرپور حاضری کے حوالے سے نمایاں رہا وہیں عوام کو درپیش مسائل اور ملک کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال پر بھی اِس میں کھل کر اظہارِ خیال کیا گیا۔ قائدین کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان آ چکا ہے اور حکومت اِس مسئلے پر قابو پانے میں قطعی ناکام ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے ورچوئل خطاب میں کہا کہ ترقی کرتا پاکستان برباد کر دیا گیا، غریب روٹی کو ترس گئے، لاپتا افراد کے ورثاء کو دیکھ کر بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے صراحت کی کہ اداروں کا احترام کرتے ہیں لیکن مہنگائی و بےروزگاری اور دیگر تمام حوالوں سے ناکام جعلی حکومت کی پشت پناہی کا گلہ بجا ہے۔ اُنہوں نے گستاخانہ خاکوں کی اُشاعت پر شرکائے جلسہ کی تائید کے ساتھ فرانس سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ورچوئل خطاب میں کہا کہ ملک میں تاریخی مہنگائی ہے، عدلیہ اور میڈیا آزاد نہیں، عمران خان ہر ادارے کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے نوید سنائی کہ عوام کی حاکمیت کا سورج جلد طلوع ہونے والا ہے۔ بی این پی کے سربراہ اختر مینگل، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ،

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے قائد محمود خان اچکزئی، جمعیت اہلحدیث کے امیر ساجد میر، قومی وطن پارٹی کے صدر آفتاب احمد خان شیرپاؤ، اے این پی کے قائد امیر حیدر ہوتی اور جمعیت علمائے پاکستان کے سیکرٹری جنرل شاہ اویس نورانی نے بھی روز افزوں مہنگائی کو حکومت میں شامل افراد کی کرپشن مافیا سے ملی بھگت کا نتیجہ قرار دیا۔ اس صورتحال میں حکومت کے لئے ہوشمندی کا راستہ یہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کیلئے بلاتاخیر موثر اقدامات عمل میں لائے، خصوصاً ہر لمحہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرے، بصورت دیگر اِس کی مقبولیت میں مسلسل کمی روکی نہیں جا سکے گی۔

تازہ ترین