آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صاف پانی کی لائن کو بعض عناصر نے جان بوجھ کر توڑ دیا ہے، انجینئر نثار احمد

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سائٹ سپر ہائی وے ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر انجینئر نثار احمد خان نے صنعتی ایریا میں روزانہ ہزاروں گیلن قیمتی پانی کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایم ڈی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ( کے ڈبلیو ایس بی )سے پانی کی ٹوٹی ہوئی لائنوں کی فوری مرمت اورپانی کے رساؤ کو روکنے کے مستقل اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ پانی کوضائع ہونے سے بچایا جاسکے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا کے مرکزی داخلی راستے اور چوراہے کے نیچے سے گزرنے والی 54 انچ کی صاف پانی کی لائن کو بعض عناصر نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے جان بوجھ کر توڑ دیا ہے جبکہ کے ڈبلیو ایس بی حکام اس ضمن میں اقدامات سے گریز کرتے ہوئے اس مسئلے کومسلسل نظرانداز کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانی کے رساؤ اور سڑکیں پانی میں ڈوبی رہنے سے صنعتی ایریا کی مرکزی سڑک پر بڑے گڑھے پڑ گئے ہیں جس کی وجہ سے امن و امان کے مسائل پیدا ہورہے ہیں اور ساتھ ہی ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔جرائم پیشہ عناصر اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روزانہ لوگوں کو ان کے قیمتی سامان سے محروم کررہے ہیں اور اب تو صورتحال اتنی زیادہ خراب ہوگئی ہے کہ سورج ڈھلتے ہی اس سڑک سے گزرنا خطرناک ہوگیا ہے۔انجینئر نثار احمد خان نے بتایا کہ

ایسوسی ایشن اور کچھ فراخدل صنعتکاروں کی مدد سے ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی بار مذکورہ سڑک کی مرمت کروائی لیکن تازہ پانی کے مسلسل رساؤکی وجہ سے ساری کاوشیں ضائع ہوجاتی ہیں تاہم صوبائی و مقامی حکومتوں کی جانب سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں سے ہم ایک بار پھر پرامید ہیں کیونکہ مقامی حکومت نے اس سڑک کی مرمت کا کام شروع کردیا ہے۔صدر سائٹ سپرہائی وے نے اس خدشے کا اظہارکیا کہ اگر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی مرکزی سپلائی لائن سے تازہ پانی کے رساؤ کو روکنے کے مستقل اقدامات نہ کیے گئے تو یہ نئی تعمیر شدہ سڑک بھی جلد ہی ٹو پھوٹ کا شکار ہوجائے گی۔

بزنس سے مزید