آپ آف لائن ہیں
پیر7؍ ربیع الثانی1442ھ 23؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بھارت اور امریکہ کے درمیان حسّاس نوعیت کی فوجی معلومات کے تبادلے (سیٹلائٹ ڈیٹا) اور نقشے شیئر کرنے کے معاہدے کے بعد خطّے کے مستقبل کے حوالے سے زیادہ غورو فکر کی ضرورت اُجاگر ہوئی ہے۔ اِس ضمن میں اسلام آباد نے درست طور پر خبردار کیا ہے کہ بھارت کو جدید فوجی ہارڈ ویئر ٹیکنالوجیز اور معلومات کی فراہمی علاقائی استحکام اور امن کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ دونوں ملکوں میں یہ اِس نوع کا 13واں معاہدہ ہے جس پر نئی دہلی میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کی سالانہ ’’ٹو پلس ٹو‘‘ ملاقات میں دستخط کئے گئے۔ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان قیامِ پاکستان کے بعد سے جو شراکت داری چلی آرہی ہے اُس کی بنا پر پاکستانی عوام یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہیں کہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے بڑھتے ہوئے تعلقات اِس منفی اندازِ فکر کو بدلنے میں معاون ہونگے جو بھارتی رہنمائوں کے متعدد بیانات و اقدامات سے واضح ہے اور جن میں پاکستان کا وجود ختم کرنے کی خواہش نمایاں ہے۔ مگر ہوا یہ کہ مخالف بلاک سے فوائد حاصل کرنے کے لئے پاک امریکہ معاہدوں کا منفی انداز میں پروپیگنڈہ کرنے والا ملک امریکی نوازشات حاصل کرنے، بار بار سرحدوں پر فوجیں لانے اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش میں تبدیل کرنے کے علاوہ اندرون ملک ممبئی حملوں اور سمجھوتہ

ایکسپریس جیسے حکومت کے ملوث ہونے کا اعتراف بھارت کی عدالتوں میں کئی مقدمات کی سماعت کے دوران وہاں کی بیوروکریسی نے کیا۔ نائن الیون کے بعد کی صورتحال میں پاکستان امریکہ کو دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کے لئے قربانیاں دیتا رہا جبکہ نئی دہلی پاک بھارت سرحدوں کے علاوہ پاک افغان بارڈر سے بھی اپنے ایجنٹ پاکستان بھیج کر دہشت گردی کراتا رہا۔ اب جبکہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی حمایت کے ساتھ دہشت گردوں کا تقریباً صفایا کر چکی ہیں تو بھارت نے تقسیمِ ہند کے فارمولے کے برخلاف ریاست جموں و کشمیر میں اپنی فوجیں اُتار کر ایسی صورتحال پیدا کردی ہےجس کے باعث کشمیر کا مسئلہ نیو کلیئر فلیش پوائنٹ بنا ہوا ہے۔ 5اگست 2019سے متنازع علاقے جموں و کشمیر کے بھارتی یونین میں شامل کرنے اور تاریخ کے بدترین کرفیو اور لاک ڈائون کے نفاذ کی صورت میں سنگین صورتحال پیدا کر دی گئی ہے جبکہ مشرقی و مغربی سرحدوں سے پاکستان میں دہشت گردی نیٹ ورک دوبارہ فعال کرنے کی سرتوڑ کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔ اس تفصیل میں جانے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ پاکستان میں کچھ عرصے سے غیرملکی ایجنٹوں کی سرگرمیاں زیادہ بڑھتی نظر آرہی ہیں۔ منگل کے روز پشاور کے مدرسہ جامعہ زبیریہ میں کیا گیا دھماکہ بھی اس سلسلے کی کڑی ہے جس میں 8طلبہ شہید اور 112افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واشنگٹن جس انداز میں پاکستان سے توقعات وابستہ کرتا ہے اس کے جواب میں پاکستانی بھی یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہائٹ ہائوس بھارت کو پے در پے حماقتیں کرتے رہنے سے روکے گا۔ بھارت امریکہ مشترکہ اعلامیے میں چین کے حوالے سے ایسے الفاظ ملتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دہلی اور واشنگٹن کا مل کر بیجنگ سے لڑنا بہت ضروری امر ہے۔ چین کی وزارت خارجہ اعلامیے میں لگائے گئے الزامات کو مسکت جواب کے ساتھ مسترد کر دیا ہے اور سرد جنگ والی ذہنیت ترک کرنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ بھارت کے چین کے ساتھ اپنے مسائل ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ترقی پذیر ملکوں کے عوام کو اس بڑھتے ہوئے احساس سے نجات مل جائے کہ بین الاقوامی تعلقات کی اساس اصولوں پر نہیں، محض اپنے اپنے مفاد پر استوار ہے۔ امریکہ کو سپر پاور، انسانی حقوق کے علمبردار ملک اور دوست ملک کے طور پر پاکستانیوں کی جو محبت حاصل ہے، اس کا مثبت انداز میں اظہار سامنے آئے گا تو پاکستانیوں کو بہت زیادہ خوشی ہوگی۔

تازہ ترین