آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا عورت کو اظہارِ رائے کا حق حاصل نہیں !!

عورت ۔۔۔ماں ،بہن ،بیٹی ،بیوی ہرروپ میں حسین کردار کی مانند،ہر رشتے کو پیار سے سیچتی اور اپنے خلوص اور محبت سے سب کے دل جیتنے اور گھر کو جنت بنانے کا ہنر اس کی رگوں میں دوڑتا ہےلیکن ان سب کے باوجود عورت کو ہمارے معاشرے میں اس کے حقوق حاصل کرنے میں اس پر تشدد کیا جاتا ہے ،کبھی تیزاب پھینک دیا جاتا ہے ،کبھی کاروکاری ،وننی اور اس طر ح کی دیگر رسومات کی بھینٹ چڑھا دیا جا تا ہے ۔اور اگر کسی بھی کام کے لیے اپنی پسند کا اظہار کرے تو اس پر ظلم و ستم کرکے خاموش کرا دیا جاتا ہے ۔

سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ماں باپ بھی لڑکیوں کو یہی سیکھاتے ہیں کہ عورت کا کام بس چار دیواری میں رہنا اور گھر کے کام کاج کرنا ہے ،اس کے آگے کچھ کرنے کی سوچ نہ بھی مت اور شادی کے بعد جو شوہر کہے ویسا ہی کرنا وہ جس کام کے لیے منع کر ے ،وہ کام تو ہر گز نہیںکرناچاہیے کچھ بھی ہوجائے۔ یعنی عورت کی اپنی خواہشات اور پسند کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی ،وہ زندگی میں اپنی مرضی سے کچھ بھی نہیں کرسکتی ۔

میرا ایک سوال ہے کیا عورت ایک انسان نہیں ہے اس کو اپنی خواہشات پوری کرنے کا حق نہیں ہے ؟؟ ایک مرد سے یہ کیو ں برداشت نہیں ہوتا کہ اس کی بیوی اس کے شانہ بشانہ چلے ،ہر کام میں اس کی برابری کرے ۔آخر اس میں برائی ہی کیا ہے،کیوں یہ معاشرہ عورتوں کو مرد کے برابر چلنے نہیں دیتا ۔ان سب فرسودہ عمل کی اہم وجہ یہ ہے کہ مرد ر اپنے اندر کی خود پسندی کو اپنی خوبی سمجھتے ہیں ۔ شادی کے وقت لڑکے کی پسند کو اہمیت دی جاتی ہے کہ اس کو لمبی ،گوری اور خوب صورت نین نقش والی لڑکی تلاش کی جاتی ہے،جب کہ ابھی بھی کچھ گھرانوں میں لڑکی کی پسند کو پو چھا بھی نہیں جاتا ۔ 

اُس وقت بس ذہنوں میں ایک ہی چیز سوار ہوتی ہےکہ کسی بھی طرح لڑکی کی شادی ہو جائے ۔ٹھیک ہے والدین کے لیے یہ بات قابل فکر ہوتی ہے کہ صحیح عمر میں بیٹیوں کی شادی ہو جائے تو اچھا ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ بغیر کچھ دیکھے اور لڑکی کی پسند جانے بغیر ہی اس کی شادی کردی جائے ۔ اس بات سے انکار نہیں کہ مردکو فوقیت حاصل ہے لیکن ہمارے معاشرے نےمرد کے حقو ق کو کچھ زیادہ ہی اہمیت کا حامل بنا دیا ہے ،اسی لیے مرد عورت کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے اور اس کا جو دل چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ 

افسوس اس بات کا ہے کہ اس جدید دور اور ترقی کی راہ پر گامزن معاشرے میں بھی دقیانوسی خیالات کے مرد موجود ہیں ۔جو آج بھی اپنی گھر کی عورتوں کو چار دیواری میں قید رکھتے ہیں ،مگر اب اس سوچ اور نظر یے کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے ،کیوں کہ اب اس معاشرے کی عورت ہر میدان میں اپنی قابلیت کے جوہر دکھا کر پاکستان کا نام روشن کررہی ہے ۔چاہیے وہ تعلیم کا میدان ہو ،ٹیکنالوجی کی دنیا ہو یا کسی کھیل کا مقابلہ ہو ۔وہ ہر میدان میں اپنے آپ کو منوا رہی ہیں ۔

جب وہ اتنا کچھ کرسکتی ہیں اور بیک وقت دُہری ذمہ داری بھی نبھا سکتی ہیں تو یہ معاشرہ ایک عورت کو کیوں اپنی پسند کا اظہار کا حق نہیں دہ سکتا؟ اگر چہ اس میں فائدہ بھی ہمارا ہی ہے جب ایک عورت پڑھی لکھی ہوں گی تو وہ آنے والی نسل کو بہتر طر یقے سے پروان چڑھائے گی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک عورت ہی معاشرے کو سنوارتی ہے۔