• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریری اسائنمنٹس تعلیم کے حصول کا لازمی حصہ ہیں اور اس میں مہارت کے لئے ہائی اسکول اور کالج میں اساتذہ کی جانب سے طلبا کو کافی مشقیں بھی کروائی جاتی ہیں۔ ہر طرح کے مضمون کی تیاری اور امتحانات کا مقصد طلبا کی مختلف مہارتوں کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ 

ایک دلیل والا مضمون آپ کو دلائل دینا سکھاتا ہے اور ایک وضاحتی مضمون آپ کے خیالات کو شکل دینے کی صلاحیت کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے جبکہ حقائق سے متعلق مخصوص اسائنمنٹس اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ آپ نے کسی مضمون کو کتنی اچھی طرح سیکھا ہے۔ آپ کسی مضمون میں تحریری اور علمی مہارت حاصل کرنا اور اپنے اسائنمنٹس میں اچھے نمبر لینا چاہتے ہیں تو ذیل میں درج مشوروں پر عمل کریں۔

نظم و ضبط

بہت سے موضوعات جن کو آپ کالج میں پڑھتے ہیں وہ کثیر الضابطہ ہوتے ہیں اور مختلف نقطہ نظر سے ان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ اسائنمنٹ تیار کرتے وقت بعض معلومات آپ کی استدلال میں معاون یا تکمیلی امور سے متعلق ہوسکتی ہے لیکن آپ کویہ یقینی بنانا ہے کہ موضوع کے حوالے سے جو ہدایات دی گئی ہیں ان پر عمل کریں۔ اگر آپ نے صحیح معنوںمیں اپنے مضمون کا مطالعہ کر رکھاہے تو آپ نظم و ضبط کی پابندی کرتے ہوئے اس پر اچھا خاصا لکھ سکتے ہیں۔

زبان

آپ اپنے دوستوں کے ساتھ بات چیت کے لیے جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ اس سے مختلف ہے جو آپ اسائنمنٹ بناتے ہوئے استعمال کرتے ہیں۔ زبان کے حوالے سے ایسی چند بنیادی باتیں ہیں ، جنہیں اسائنمنٹ کی تیاری میں گریز کرنا چاہئے۔

بول چال کے جملے: آپ کو اپنی داستان کوبا مقصد، واضح اور منطقی بنانے کے لئے رسمی رہنا چاہیے۔ عام بول چال والے جذباتی جملوںسے اجتناب کرنا چاہئے۔

اختصار: اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ غیر رسمی یا ادھورے لفظ لکھ دیں بلکہ مختصر ،جامع اور مکمل الفاظ استعمال کریں۔

عمومیت: اگر آپ کے پاس اپنے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے حقائق نہیں ہیں تو پھر کبھی بھی کسی کو اچھا، برا، بہترین وغیرہ مت کہیں۔ اپنے موضوع کے حساب سے اعدادوشمار یا تحقیق شامل کریں، اس طرح آپ کی دلیل کو تقویت ملے گی۔

بازاری زبان: جو الفاظ آپ اپنے اسائنمنٹ میں استعمال کرتے ہیں انہیں معنی خیز ہونا چاہیے، مبہم الفاظ کے استعمال سے گریز کریں۔ نہ ہی ایسے الفاط لکھیں جو بازاری ہوں یا جنہیں آپ نے کتابوں یا اخباروں میں نہ پڑھا ہو۔ اس کے علاوہ متعدد مترادفات کو آپ کسی ایک خیال کے لیے استعمال کرسکتے ہیں۔

عبوری الفاظ یا جملے

اپنے موضوع کے بہاؤ کو نہ بھولیں۔ حقائق اور پیراگراف کو مربوط کرنے کے لئے عبوری الفاظ استعمال کریں جو آپ کی تحریر کو پڑھنے کے قابل بنائیں۔ ’’ مزید برآں، بہرحال ، چہ جائیکہ، لہٰذا، یقینی طور پر، میں سمجھتا/سمجھتی ہوں ‘‘ جیسے الفاظ آپ کے اظہار کو تقویت دیں گےاور آپ کی تحریر مربوط ہوتی چلی جائے گی۔

فارمیٹ اور حوالہ جات

اسائنمنٹ میں استعمال کردہ ذرائع، ٹائٹل پیج، ہیڈر، فوٹ نوٹ اور متن میں حوالہ جات کی فہرست بنانے کے لیے ہر تعلیمی انداز کی اپنی سخت شرائط ہوتی ہیں۔ ضروری ہے کہ ان میں اختلاط نہ کریں کیونکہ ایسی تفصیلات آپ کے مجموعی گریڈکو متاثر کرسکتی ہیں۔

اس وجہ سے ان خصوصیات کا مطالعہ کرنے اور اپنے مضمون کو عمدہ شکل دینے کے لیے وقت نکالیں۔ مزید برآں، کتابوں کے حوالے (Bibilography)دیں تو اسے ایک نظر دوبارہ دیکھ لیں۔ یاد رکھیں، اگر آپ کسی بات کا صحیح حوالہ پیش کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو یہ آپ کے گریڈز پر منفی اثر ڈالے گا۔

مقالے کا بیان

یہ مقالے کا ایک اہم حصہ ہے، جو ایک یا دو جملوں پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن خیال رہے کہ اس سے مقالے کا مرکزی خیال ظاہر ہونا چاہئے۔ یہ اختصار کے ساتھ لیکن قابلِ بحث ہونا چاہئے۔ تعلیمی تحریر میں ایک عمومی غلطی یہ ہوتی ہے کہ مقالے کا بیان استدلال کی بجائے وضاحتی ہوتاہے۔ یعنی آپ کے جملوں میں یہ دعویٰ ہونا چاہئے کہ آپ کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ 

اگر آپ کوئی مباحثی مقالہ بیان نہیں بناتے ہیں تو اس سے آپ کے پیپر کے مواد اور ساخت پر اثر پڑے گا۔ اس کے علاوہ مضبوط بیان سے آپ کو اپنے مقالے کی ساخت بنانے اور موضوع کی پیروی کرنا آسان ہوجائے گا کیونکہ ہر پیراگراف اس بیان کی تائید کرے گا جو آپ مقالے میں سامنے لانا چاہتے ہیں۔

ذرائع

آپ جو ذرائع استعمال کرتے ہیں وہ بہت اہم ہوتے ہیں ، لہٰذا اپنے کسی بھی اسائنمنٹ کو مکمل کرنے میں آپ کو صرف قابل اعتماد ذرائع کا استعمال کرنا چاہئے ، جیسے کہ جو حوالہ/کتاب/تحریر آپ استعمال کریں اس کا مصنف ہونا ضروری ہے۔ بلاگ پوسٹس آپ کی تحقیق کو تقویت دینے کے لیےموزوں نہیں کیونکہ وہ موضوعاتی ہوتی ہیں اور لازمی نہیں کہ مصنف نے اسے مہارت سے لکھا ہو۔ اگر آپ کسی ویب سائٹ سے معلومات پیش کرتے ہیں تو یقینی بنائیں کہ وہ قابل اعتبار ہے۔ 

ذرائع کو شائع شدہ ہونا چاہیے ، اس طرح آپ اپنے مقالے میں بہترین مضمون یا تحریر شامل کرسکتے ہیں۔ اسے متعلقہ ہونا چاہیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ آج کے دور میں 5سال پرانے حقائق بیان کررہے ہوں۔ خاص طور پر اگر ماحول ، ادویات یا ٹیکنالوجی کے بارے میں اعداد و شمار ہیں تو ان میں وقت کی مطابقت بہت ضروری ہے کیونکہ یہ اعداد وشمار تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔