آپ آف لائن ہیں
منگل15ربیع الثانی 1442ھ یکم دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پھیپڑوں کا سرطان... خاموشی سے بڑھنے والا عارضہ

دُنیا بَھر میں ہر سال"International Association for the Study of Lungs Cancer" کے زیرِ اہتمام نومبرکا پورا مہینہ’’پھیپھڑوں کے سرطان سے آگہی‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام النّاس میں ہر سطح تک پھیپھڑوں کے سرطان سے متعلق معلومات عام کرنا ہے۔فی الوقت دُنیا بَھر میں اموات کا سبب بننے والے کینسرز میں پھیپھڑوں کا سرطان سرِ فہرست ہے۔پوری دُنیا میں سالانہ30لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان کا شکار ہوتے ہیں، جن میں سے17لاکھ علاج کروانے کے باوجود لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ اگر پاکستان کا ذکر کریں تو یہاں سالانہ6ہزار8سو کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، جن میں سے لگ بھگ6ہزار انتقال کر جاتے ہیں۔

یوں تو یہ مرض عُمر کے کسی بھی حصّے میں لاحق ہوسکتا ہے، لیکن مَردوں میں40سال اور خواتین میں 59 برس کی عُمر کے بعدامکانات بڑھ جاتے ہیں۔پھیپھڑوں کےسرطان کی وجوہ میں سرِفہرست تمباکو نوشی ہے کہ 80 سے 90فی صد کیسزکی وجہ یہی علّت بنتی ہے۔دراصل سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ نکوٹین،کارسینوجن سمیت کئی مضرِصحت کیمیکلز کاپھیپھڑوں میں داخل ہوجاناسرطان کا سبب بنتا ہے۔ابتدا میں قوّتِ مدافعت ان مضرِصحت کیمیکلز کا ڈٹ کرمقابلہ کرتی ہے، مگر آہستہ آہستہ مقابلے کی یہ سکت کم زور پڑتی چلی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سرطان کے خلیات کو پنپنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ 

واضح رہے، 10سے15فی صد کیسز میں پھیپھڑوں کا سرطان اُن افراد کو بھی متاثر کرتا ہے، جنہوں نےزندگی میں کبھی تمباکونوشی نہ کی ہو۔ علاوہ ازیں، Asbestos Factoriesمیں کام کرنے والے افراداور جنہیںدورانِ کار ریڈان گیس کا سامنا کرنا پڑے، اُن میں بھی پھیپھڑوں کے سرطان سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اگر فیملی ہسٹری میں بھی یہ مرض شامل ہو تو امکان ہوتا ہے کہ خاندان کا کوئی فرد بھی متاثر ہوجائے۔

پھیپھڑوں کے سرطان کو دو اقسام میں منقسم کیا جاتا ہے۔ایک قسم اسمال سیلز کینسر اور دوسری نان اسمال سیلز کینسر کہلاتی ہے۔اسمال سیلز کینسر زیادہ ترتمباکونوشی کی وجہ سے ہوتا ہے اور نان اسمال سیلز کینسر کی نسبت اس کے پھیلاؤ کی شرح کم ہے۔

نان اسمال سیلز کینسر کی کئی ذیلی اقسام بھی ہیں۔ مثلاً Squamous Cell Cancer، Adenoma Cancer اورLarge Cell Carcinoma وغیرہ۔پھیپھڑوں کا سرطان ایک خاموشی سے بڑھنے والا عارضہ ہے، کیوں کہ جب یہ ابتدائی مراحل میں ہوتا ہے ،تو کچھ خاص علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔تاہم، بعد ازاں ظاہر ہونے والی عام علامات میں مسلسل کھانسی، کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج، آواز میں تبدیلی، سانس لینے میں دشواری یا خرخراہٹ محسوس ہونا، ہڈیوں، سینے اور سرمیں درداور وزن میں متواتر کمی وغیرہ شامل ہیں۔

پھیپھڑوں کے سرطان کی پیچیدگیوں میں سب سے عام سانس کی بڑی اور چھوٹی نالیوں میں رکاوٹ کے باعث سانس لینے میں سخت دشواری ہے۔ایک پیچیدگی میں پھیپھڑے پھولنے کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔ پھیپھڑوں کے اطراف میں ایک جھلّی پائی جاتی ہے، جسے Pleura کہا جاتا ہے۔بعض اوقات سرطان کے خلیےجھلّی اور پھیپھڑوں کے درمیان اس قدر رطوبت خارج کرتے ہیں کہ پھیپھڑے پھولنے کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔ ایک پیچیدگی"Metastasis"ہے، جس میں سرطان پھیپھڑوں سے نکل کر جسم کے دیگر حصّوں خاص طور پر دماغ اور ہڈیوں تک پھیل جاتا ہے۔بعض کیسز میں سرطان پھیپھڑوں کے اندر موجود خون کی نالیوں کو مضروب کردیتا ہے،جس کے نتیجے میں خون کا اخراج بہت شدّت سے ہوتا ہےاور یہ مُہلک ثابت ہوجاتا ہے۔

پھیپھڑوں کے سرطان کی تشخیص کے لیے ٹشوبائیوآپسی، ایکس رے، سی ٹی اسکین، بلغم کا ٹیسٹ، ایم آر آئی اور بون اسکیننگ وغیرہ تجویز کیے جاتے ہیں۔بائیوآپسی دو طریقے سے کی جاتی ہے۔ایک طریقہBronchoscopyکہلاتا ہے،جس میں سانس کی نالیوں میں ایک پتلی ٹیوب داخل کرکے کیمرے کے ذریعےمعائنہ کیا جاتا ہے ،جب کہ دوسرے طریقے میں متاثرہ حصّے سے ایک ٹکڑا لے کر لیبارٹری جانچ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔اس سے کینسر سیل کی ٹائپ بھی پتا چل جاتی ہے،جس کی بنیاد پر علاج کیا جاتا ہے۔ایم۔آر۔آئی اور بون اسکیننگ کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ آیا سرطان ہڈیوں اور دماغ میںکس حد تک پھیل چُکا ہے۔

یاد رکھیے، اگر معالج کے مشورے سے40 سال کی عُمر کے بعد سال میں ایک بار ایکس رے اور سی ٹی اسکین کروالیا جائے تو سرطان ابتدائی مراحل میں تشخیص ہوسکتا ہے۔ پھیپھڑوں کے سرطان کا علاج اس کی اسٹیج اور قسم کے مطابق کیا جاتا ہے۔اوران طریقۂ ہائے علاج میں سرجری، ریڈیو تھراپی اور کیموتھراپی شامل ہیں۔سرجری کی بھی کئی اقسام ہیں۔ اگر کینسر پھیپھڑوں کے بہت چھوٹے حصّے تک محدود ہو تو Wedge Resection سرجری کی جاتی ہے،جب کہSegmental Resectionمیں سرطان سے متاثرہ حصّہ نکال دیا جاتا ہےاورpneumonectomy سرجری میں پھیپھڑے کا پورا حصّہ ہی نکال دیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، علاج کے ضمن میں ایکوپنکچر، ہیپناٹزم، مساج تھراپی اور یوگا بھی معاون ثابت ہوتے ہیں ۔

بہرحال،پھیپھڑوں کا سرطان ایک خطرناک مرض ہے،جس سے محفوظ رہنے کے لیے نہ صرف تمباکو نوشی سے اجتناب برتا جائے، بلکہ خود کو سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ(پیسیو اسموکنگ) سے بھی بچانا ضروری ہےکہ اگر آپ خود اس علّت کا شکار بھی نہیں، تو بھی اس کے دھوئیں کی مسلسل زد میں رہنے کے سبب عام فرد کی نسبت پھیپھڑوں کے کینسر کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ 

نیز، اگر آپ کسی ایسے پیشے سے وابستہ ہیں، جو پھیپھڑوں کے سرطان کا باعث بن سکتا ہے، تو کام کے دوران ماسک لازماً استعمال کریں اور باقاعدگی سے اپنا طبّی معائنہ بھی کروایا جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیشہ متوازن غذا استعمال کریں اور ورزش کو معمول کا حصّہ بنالیں۔

(مضمون نگار، معروف ماہرِ امراضِ سینہ اور تپِ دق ہونے کے ساتھ سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر، اوجھا انسٹی ٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز ہیں)