دورِ جدید کے تعمیراتی رجحانات
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعمیراتی صنعت کو متحرک کرنے میں دیگر عوامل کے ساتھ اس شعبے کی جامع معلومات کا ہونااور ہنر مند افرادی قوت کی شمولیت مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والے لوگ اب معیار اور جمالیات کے علاوہ ماحول دوست تعمیرات پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس شعبے میں نوجوانوں کی آمد نے نئے خیالات و رجحانات کے ساتھ سائنسی انداز میں انتظامی معاملات کوپروان چڑھایا ہے، جس کی وجہ سے ملک میںرئیل اسٹیٹ کی صنعت میں ایک نیا رجحان دیکھنے کو ملاہے ۔ 

پاکستان کی بڑی تعمیراتی کمپنیوں میں انتظامی امور کے اعلیٰ عہدوں پر نوجوان نسل کی شمولیت نے اس شعبے میں آرکیٹیکچراور ڈیزائن کی نئی معلومات کے ساتھ اس صنعت کو جدید آلات سے لیس کرکے بین الاقوامی تعمیرات کے مقابل لاکھڑا کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، اس شعبے میں صنفی تفریق کے خاتمے کے لیے خواتین کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھیں مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔ ہنر مند، باصلاحیت اور سندیافتہ خواتین آرکیٹیکچرل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعداس کا عملی اطلاق تعمیراتی شعبے میں کررہی ہیں۔

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کی تیزرفتار ترقی نے ہر چیز بدل کر رکھ دی ہے۔ اس کی بدولت عمارتوں اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر، ڈیزائن اور کام کےطریقوں میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آرہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی عمارتوں اور انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے مراحل کو زیادہ آسان بناتے ہوئے کارکردگی کو بہتر اور نفیس بنا رہی ہے۔ 

موجودہ صدی میں تعمیراتی صنعت مثبت انداز میں ترقی و توسیع کے مراحل طے کر رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ تعمیراتی آلات اور کام کے انداز میں جدت آتی جارہی ہے۔ تعمیراتی صنعت میں ترقی و توسیع کا یہ رجحان پاکستان سمیت دنیا بھر میں پایا جاتا ہے۔ اس ترقی و توسیع میں ویسے تو کئی عوامل شامل ہیں، تاہم سب سے اہم کردار ٹیکنالوجی کا ہے۔ 

اس کا استعمال تعمیراتی صنعت کے کئی شعبوں میں کیا جارہا ہے۔ آرکیٹیکچرل ڈیزائن بنانے کے لیے نئے سافٹ ویئرز استعمال کیے جارہے ہیں، جو کام کی رفتار کو بڑھاتے اور غلطیوں کے امکانات کو کم سے کم کرتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے استعمال سےپروان چڑھنے والے نئے رجحانات ذیل میں درج ہیں۔

پروجیکٹ مینجمنٹ اینڈ کولیبریشن سافٹ ویئر

اس سافٹ ویئر کے استعمال سے تعمیراتی صنعت کو رئیل ٹائم کولیبریشن یعنی اصل وقت میں تعاون و اشتراک کے ضمن میںسہ جہتی فوائد حاصل ہوگئے ہیں۔ کسی بھی پروجیکٹ کی تشکیل میں فعالیت و موزونیت، شفافیت اور نگرانی و جائزہ جیسی تین اہم پیش رفتیں مل گئی ہیں،جس نے اس صنعت میں انقلاب برپا کردیا ہے۔ اس سافٹ ویئرکے استعمال سے اب پروجیکٹس کسی خامی کے بغیر بروقت مکمل ہوجاتے ہیں، جس سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوتی ہے۔ 

رئیل ٹائم پروجیکٹ مینجمنٹ اینڈ کولیبریشن سافٹ ویئر طویل مدتی حل ہے، جس سے سرمایہ کاری کی سات فیصد تک بچت ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں اس سافٹ ویئر کے اطلاق کے نتائج بہت مؤثر ہیں۔ اس کی وجہ سے تعمیراتی لاگت میں کمی اور پروجیکٹ کی زیادہ مؤثر نگرانی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ رئیل ٹائم فنانشل کنٹرول کیا جاسکتا ہے، جس سے پروجیکٹ کی شفافیت میں بہتری اورقابلِ اعتماد ٹاسک مینجمنٹ ممکن ہوپاتی ہے۔ اس سے پروجیکٹ ٹیم اور کنٹریکٹرز کے مابین بصیرت افروز تبادلہ خیال کی راہیں ہموار ہوتی ہیں کہ اس پروجیکٹ کے مالیاتی و ماحولیاتی فوائد کیا ہیں اور اس پر سرمایہ کاری کیوں کر منافع بخش ثابت ہوسکتی ہے۔

بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ کا مستقبل

بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ (BIM) سسٹم3D ماڈل پر مبنی عمل (Process)ہے جو آرکیٹیکچر، انجینئرنگ اینڈ کنسٹرشن(AEC) پروفیشنلز کے لیے عمارتوں اور انفرااسٹرکچر ز کو زیادہ فعال بنانے، منصوبہ سازی کرنے، ڈیزائن مرتب کرنے،تعمیر اور جملہ امور کو مربوط انداز میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کا ایک بہترین کمپیوٹنگ ٹول ہے۔ آجکل ڈیزائن انٹرایکٹو پروسیس کے تحت مختلف آپشنز پرغور اورتخمینہ سازی کرتے ہوئے دستیاب وسائل کے مطابق درپیش رکاوٹوں اور دشواریوں کا جائزہ اور اندازہ لگاتے ہوئے انہیں دور کرنے کی راہیں نکالی جاسکتی ہیں۔ 

اس طرح رئیل ٹائم میں کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس ماڈل کے ذریعے کام میں حائل رکاوٹوں کو نہ صرف دور کیا جاسکتاہے بلکہ تمام شراکت داروں کو پروجیکٹ کی تازہ ترین معلومات، پیش رفت اور دستاویزات معاملات کے بارے میں بھی مطلع کیا جاسکتاہے۔یوں آپ وقت اورپیسہ بچا کر اپنی کمپیوٹنگ طاقت، معلومات اور مہارت سے طبعی،کمرشل، رہائشی اور ماحولیاتی و سماجی لحاظ سے پیچیدہ منصوبوں کومؤثر اور پائیدار طریقے سے ڈیزائن کرکے تعمیرات کے معیار کو بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

روبوٹکس اورویئر ایبل ٹیکنالوجیز

ایک زمانہ تھا کہ روبوٹس کے تعمیراتی استعمال کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور نہ ہی کسی کے وہم و گمان میں تھا کہ ایسی ٹیکنالوجیز بھی سامنے آئیں گی۔ 

آج مزدوروں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھاری اینٹیں اور ساز و سامان اٹھانے کے لیے ایسی سپر جیکٹس اور گلاسز متعارف کروائے جاچکے ہیں کہ انہیں پہن کر مزدور کثیر المنزلہ عمارت تک اڑ کر اینٹیں پہنچا سکیں گے جبکہ گلاسز پہن کر نہ صرف اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوں گے بلکہ دوربین کی طرح دور دراز مقامات کا بھی جائزہ لے سکیں گے۔ ساتھ ہی تھری ڈی ماڈل کی صورت میںاپنے زیرِ تعمیر پروجیکٹ کو بھی کھلی آنکھوں سے جانچ سکیں گے کہ تعمیر کے بعد کیا صورت ابھرکر سامنےآئےگی۔ 

اسی طرح رئیل ٹائم ڈیش بورڈ کام کے دوران عملے کی حفاظت کا فریضہ انجام دے گا۔ آنے والے برسوں کے دوران تعمیرات میں ان کا استعمال دنیا بھر میں عام ہوگا جو تاحال صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود ہیں۔