آپ آف لائن ہیں
ہفتہ9؍جمادی الثانی 1442ھ 23؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سندھ کے خطرناک جنگلات ’’شاہ بیلو‘‘ میں پولیس کی بڑی کارروائی

سندھ میں کچے کے خطرناک جنگلات ’’شاہ بیلو‘‘ میں پولیس اور ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران کراچی کے رہائشی سمیت متعدد مغویوں کو بہ حفاظت بازیاب کرالیا گیا ۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے مغوی نوجوان کی رہائی کے لیے ڈاکوؤں نے مغوی کے ورثاء سے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا تھا۔ پولیس کی بہتر حکمت عملی اور بروقت کارروائی نے مغوی نوجوان کو بہ حفاظت بازیاب کراکر ڈاکوؤں کے منصوبے کو خاک میں ملادیا، جب کہ نسوانی آواز کے جھانسے میں لوگوں سے پیار و محبت کی باتیں کرکے انہیں بہلا پھسلا کر ملاقات کے بہانے کچے کے علاقوں میں بلاکر اغوا کرنے والے گروہ کےخلاف کشمور پولیس کی جانب سے مسلسل کارروائیاں جاری ہیں اور مختصر وقت میں پولیس نے بڑی کامیابیاں اپنے دامن میں سمیٹی ہیں۔ 

کشمور پولیس کی جانب سے کچے کے جنگلات میں نہ صرف ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری ہے، بلکہ اس طرح کی وارداتوں کو روکنے کے لیے آئی ٹی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے اور سادہ لباس پولیس اہلکاروں کا جال بھی ضلع بھر میں پھیلا دیا گیا ہے تاکہ مختلف علاقوں سے نسوانی آواز کے جادو کے اسیر بن کر اغواء ہونے کے لیے آنے والے افراد کو بروقت ریسکیو کیا جاسکے۔ اس حکمت عملی کے تحت کشمور پولیس نے ایک سے ڈیڑھ ماہ کے دوران31 افراد کو بازیاب یا اغواء ہونے سے بچایا ہے۔ ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ نے بتایا کہ کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی اعجاز احمد ولد اللہ ودھایو کو 6 اکتوبر کو اغواء کیا گیا تھا مغوی کے والد نے تھانے میں بیٹے کے اغواء کے حوالے سے رپورٹ درج کرائی۔ 

اغواء کے بعد ڈاکوؤں کی جانب سے مغوی کے والد کو بذریعہ فون کال اطلاع دی گئی کہ ہم نے آپ کے بیٹے کو اغواء کرلیا ہے اور اس کی رہائی کے لیے 50 لاکھ روپے تاوان طلب کیا گیا تھا۔ پولیس کے لیے مغوی کی بہ حفاظت بازیابی کسی چیلنج سے کم نہیں تھی۔ مغوی کی بازیابی کے لیے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس ایک جانب کچے کے جنگلات میں مغوی کی بحفاظت بازیابی کے لیے آپریشن میں مصروف تھی، تو دوسری جانب آئی ٹی ماہرین ڈاکوؤں کی نقل و حرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے تھے۔ اس آپریشن کی سربراہی ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ خود کررہے تھے۔ 

پولیس مغوی کی بازیابی کے لیے ڈاکوؤں کے گرد مسلسل گھیرا تنگ کررہی تھی۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ڈاکوؤں نے پولیس سے بچنے کے لیے مغوی کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا پروگرام بنایا، جس کی اطلاع پولیس کو مل گئی اور ایک خصوصی ٹیم جو جدید ہتھیاروں اور دوربینوں سمیت دیگر آلات سے لیس تھی۔ 

اس نے ڈاکوؤں کے اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کی اور بروقت کارروائی کے نتیجے پولیس نے مغوی کو با حفاظت بازیاب کرالیا۔کراچی شاہ لطیف ٹاون کے رہائشی مغوی کو ایک ماہ قبل گھوٹکی سے اغواء کیا گیا تھا، مغوی کی باحفاظت بازیابی پر آئی جی سندھ پولیس مشتاق مہر نے ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا کہ جنہوں نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض احسن انداز سے ادا کرتے ہوئے ڈاکوؤں کے خلاف موثر انداز میں کام یاب کارروائی کی اور مغوی کو بحفاظت بازیاب کرالیا۔

ان موبائل فون پر عشق کرنے والوں کو سمجھانے کے بعد ان کی مکمل نگرانی بھی کی گئی کہ کہیں یہ پولیس کی بات کو نظر انداز نہ کردیں اور ان کے سر پر جو عشق کا جنون سوار ہے، وہ انہیں کچے کے علاقے میں نہ لے آئے۔ تاہم اس حوالے سے پولیس کو کام یابی ملی اور 14 افراد کو قبل از وقت آگاہی دےکر اغواء ہونے سے بچایا گیا۔ اس طرح کی وارداتوں کے خاتمے اور ڈاکوؤں کے چنگل میں پھنسے سے بچانے کے لیے پولیس کی جانب سے ضلع میں آئی ٹی کے ماہرین پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور سادہ لباس پولیس اہلکاروں کو بس اسٹاپ، ویگن اسٹینڈ اور دیگر پبلک مقامات پر تعینات کیا گیا ہے، جو موبائل فون پر بات کرنے والوں پر نظر رکھتے ہیں تاکہ کوئی مشکوک انداز میں بات کررہا ہو تو اسے بروقت ریسکیو کیا جاسکے اور خاص طور پر کچے کے ان علاقوں کو فوکس کیا گیا، جہاں اس طرح کی وارداتیں انجام دی جاتی ہیں ۔ 

ایسے علاقوں کی خفیہ طور پر بھی نگرانی کی جارہی ہے۔ ایس ایس پی کشمور امجد احمد شیخ کا کہنا ہے کہ ماضی میں ڈاکو فزیکلی اغوا برائے تاوان کی وارداتیں انجام دیتے تھے اور یہ وارداتیں ڈاکوؤں کے لیے اتنا آسان نہیں ہوتیں تھیں۔ اس لیے گزشتہ کئی سالوں سے بڑی تعداد میں اغواء برائے تاوان کی وارداتیں نسوانی آواز میں دوستی کرکے لوگوں کو محبت کے جال میں پھسا کر انجام دی جارہی ہیں جو کہ ڈاکوؤں کے لیے بہت آسان ہوگیا ہے، کیوں کہ اب اغواء برائے تاوان کی وارداتیں انجام دینے کے لیے ڈاکوؤں کو کچے کے جنگلات سے باہر نہیں آنا پڑتا، بلکہ خواتین کی آواز میں دوستی کے بعد ملاقات کے لیے جانے والا شخص خود ڈاکوؤں کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ پولیس کی جانب سے اس طرح کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں، اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ 

پولیس کا کام عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا اور معاشرے سے جرائم کا خاتمہ ہے، جس کے لیے پولیس دن رات سرگرم عمل ہے، لیکن اس حوالے سے پولیس کو عوام کے تعاون کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر عوام مکمل تعاون کریں اور اس سلسلے میں ایک دوسرے کو آگاہی فراہم کی جائے تاکہ لوگ ہوشیار رہیں اور کسی بھی اس طرح کی کال کی فوری اطلاع پولیس کو دیں، تاکہ ان عناصر کے خلاف بروقت کارروائی ممکن بنائی جاسکے۔ پولیس کے ساتھ تجارتی، سماجی تنظیمیں، عوامی حلقے بہت تعاون کررہے ہیں اور عوام کے تعاون سے پولیس کا مورال بلند ہوا ہے۔ 

اس سلسلے میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پولیس اور عوام ملکر جرائم کے ساتھ معاشرتی برائیوں کا خاتمہ کرسکیں ۔ واضح رہے کہ سندھ میں کچے کے جنگلات خاص طور پر ’’شاہ بیلو‘‘ کا علاقہ انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے اور کئی دہائیوں سے شاہ بیلو میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کی محفوظ پناہ گاہیں بنی ہوئی ہیں اور شاہ بیلو کے کے جنگلات اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہیں کہ ان جنگلات کی سرحدیں پنجاب اور بلوچستان سے ملی ہوئی ہیں۔ 

شٍکشمور سے گھوٹکی، رحیم یار خان اور راجن پور ضلع جب کہ کشمور سے بلوچستان کی سرحد بھی اس شاہ بیلو سے منسلک ہے۔ اس لیے دریائی جزیرے پر مشتمل ان جنگلات میں پولیس پولیس کے لیے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن اتنا آسان نہیں ہوتا۔ یہ علاقہ تینوں صوبوں کے جرائم پیشہ عناصر کے لیے محفوظ پناہ بھی تصور کیے جاتا ہے۔ آئی جی سندھ نے سندھ تمام اضلاع کے پولیس افسران کو ہدایات دیں کہ وہ قیام امن کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید