• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

  پولیس کے جوانوں کی فرض شناسی دوران اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے باوجود شہر بھرمیں ڈاکو راج میں کمی کی بجائے، دن بہ دن اضافہ ہو تا جارہاہے،جو لمحہ فکریہ اور المیے سے کم نہیں ہے۔ ایک جانب غریب شہریوں کو ہوش ربا مہنگائی اور بے روز گاری نے جیتے جی مار دیا ہے، تو دوسری جانب ڈاکوؤں اور لٹیروں نےان کی زندگی اجیرن بنا کر انھیں خوف زدہ کردیاہے، جو پولیس کے اعلی حکام کی کارکردگی کابین ثبوت ہے۔

جرائم کی وارداتوں کے سد باب کے لیے پولیس کے اعلی سطحی اجلاس بھی ہو رہے ،لیکن اسٹریٹ کرائمز،بینک ڈکیتی ،اغوا، لوٹ مار کی وارداتیں بھی تواترسے جاری ہیں اور اس کے تدارک کے لیے سائنسی اور جنگی بنیادوں پرعمل کرنا ، ناگزیر ہوچکا ہے ۔اس میں بھی دو رائے نہیں کہ جہاں پولیس میں شامل چند کالی بھیڑوں پولیس کی بدنامی کا سبب بنتی ہیں ، وہیں پولیس کے بہادر ،ایمان دار اور فرض شناس جوان جان بھی قربان کر کے پولیس کا مورال بلند کر نے میں مثال بن جاتے ہیں۔ اور ایک ایسی ہی مثال عزیز آباد تھانے کے جری ہیڈ کانسٹیبل فیاض علی نے گزشتہ دونوں کریم آباد مینا بازار کے قریب شہری کو لوٹنے والے ڈاکوؤں سے مقابلہ کر کے ایک ڈاکو کو جہنم واصل کر کے جام شہادت نوش کر گئے۔ 

جو پولیس میں موجود بد عنوان اور کالی بھیڑوں کے منہ پر تماچہ ہے ۔ مرادان سے تعلق رکھنے والے 40سالہ ہیڈ کانسٹبل فیاض علی سادہ لباس میں ملبوس ڈیوٹی پر عزیز آباد تھانے جارہے تھے کہ کریم آبادمینا بازار کے قریب شہری ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹتادیکھ کر اپنے فرض کو مقدم جانتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ۔ اور بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے ایک ڈاکو کو جہنم واصل کر کے خود بھی شدید زخمی ہو گئے ۔انھیں فوری عباسی اسپتال بعد ازاں اسٹیڈیم روڈ پر واقع معروف نجی اسپتال منتقل کیا گیا،جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہو گئے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایک باپ کےتین بیٹے اور تینوں محکمہ پولیس سے منسلک ہوئے ۔ 

شہیدہیڈ کانسٹیبل فیاض کے بھائی ممتاز شاہ کو بھی 1997 میں گلبہار تھانے کی حدود میں شہید کیا گیا تھا ، بعدازاں شہید کوٹے میں 1999 میں فیاض علی پولیس میں بھرتی ہوا اور 8 نومبر 2020 میں فیاض نےبھی فرض کی راہ میں اپنی جان کانذرانہ دے کربیوہ اورتین چھوٹے بچوں کو سوگوار چھوڑگیا۔ 

 2009 میں ان کا تیسرا بھائی پرویز بھی پولیس میں بھرتی ہوا، جو ضلع ایسٹ ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہے، 2 بھائیوں نے پولیس کے محکمہ میں ہی جام شہادت نوش کیا۔ پولیس مقابلے کے حوالے سے لٹنے والے شہری اور عینی شاہد احسن حسین کا کہنا ہے کہ میں نارتھ کراچی کا رہائشی ہُوں اور دوستوں کے ساتھ حسین آباد فیڈرل بی ایریا آیا تھا، جب میں کریم آباد کے قریب واقع بینک کے اے ٹی ایم سے پیسے نکال کر باہر نکلا تو 2 مسلح ڈاکو آگئے اور لوٹ مار شروع کر دی، اسی دوران قریب سے گزرنے والے سادہ لباس پولیس اہلکار نے مجھےلٹتے دیکھا تو قریب آیا ،ڈاکووں نے فائرنگ کردی۔ پولیس اہلکار کی جوابی فائرنگ سے ایک ڈاکو ہلاک ہو گیا۔ 

جب کہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق ہو گیا ۔کراچی پولیس چیف نے شہید ہیڈ کانسٹیبل فیاض علی کو خراج عقیدت پیش کر تے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پولیس نے عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قیام امن کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔فرض کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس کے بہادر جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ کریم آباد مینابازار کے قریب شہریوں سےلوٹ مار میں مصروف ڈاکوؤں

سے فائرنگ کے تبادلے میں ہیڈ کانسٹیبل فیاض علی کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے، شہید نے بہادری سے لڑتے ہوئے ایک ڈاکو کو ہلاک کرکے جام شہادت نوش کیا۔ شہر میں امن کے قیام کے لیے کراچی پولیس ہمیشہ صف آراء رہی ہے،جرائم کے خاتمے اور عوام کے تحفظ کے لیے فورس کا ہر افسر اور سپاہی جاں ہتھیلی پر رکھے قانون کی عملداری اور فرض کی ادائیگی کے لیے ہر دم تیار ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید