آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بے شک غیب کا علم خدا ہی بہتر جانتا ہے ،علم الاعداد ایک علم ہے جو اشارے دیتا اور امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔اس علم کے ایک ادنی طالب علم کی حیثیت سے یہ نظر آ رہا ہے کہ آنے والا سال2021، کئی تبدیلیاں لا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ تبدیلیوں کا سال ہو گا۔ جن کی شروعات آئندہ ماہ دسمبر سے محسوس کی جائیں گی۔ ان تبدیلیوں کے اثرات نہ صرف پاکستان ،پڑوسی ممالک بلکہ پوری دنیا میں نظر آئیں گے۔

پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور نہ صرف اس خطے میں بلکہ پوری دنیا میں امن و خوشحالی کا خواہاں ہے۔ لیکن پڑوسی ملک بھارت کے عزائم امن دشمنی پر مبنی ہیں۔ وہ پاکستان سمیت پورے خطے میں جنگ کی آگ بھڑکاناچاہتا ہے۔ اس لئے آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے خلاف کوئی بھی احمقانہ حرکت کر سکتا ہے۔ پاکستان کے اندر تخریب کاری اور دہشت گردی کرانے کے لئے بھاری رقوم خرچ کر رہا ہےاور دہشت گردوں کی تربیت کر رہا ہے۔اس کےساتھ ساتھ بھارت پاکستان کےساتھ کسی بھی وقت جنگ کی کیفیت پیدا کرنے کی غلطی بھی کر سکتا ہے ۔مختصر یہ کہ بھارت ہر قیمت ا ور ہر سطح پر جنگ برپا کرنے اور علاقے میں امن کو برباد کرنے پر تلا ہوا ہے اس لئے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج بھارتی عزائم سے باخبر بھی ہیں اور تیار بھی لیکن ہماری سیاسی قیادتوں کو بھی اس طرف خصوصی توجہ دینے اور باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں آنے والی نئی حکومت کی پالیسیوں میں سابق صدر اوباما کی پالیسیوں کا عکس نظر آئے گا۔ نئی حکومت میں تقریباً وہی ٹیم ہو گی جو اوباما حکومت میں تھی۔ آنے والے منتخب امریکی صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ جنگوں پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ ایک مثبت اشارہ ہے لیکن علم الاعداد کے مطابق بظاہر تو یہی نظر آئے گا لیکن امریکہ پراکسی وار کی طرف جائے گا اور ڈرون حملوں کا سلسلہ پھر شروع ہو جائے گا۔ بائیڈن اگرچہ پاکستان کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں اور وہ پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔ لیکن چین کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ امریکہ کوشش کرے گا کہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرے۔ سی پیک کے با رے میں امریکی پالیسی یہی رہے گی اور اِس کو ناکام و سبو تاژ کرنے کیلئے وہ بھارت کو اشیر باد دے گا چونکہ پاکستان کسی بھی صورت اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ جب تک کہ وہ فلسطین کے غصب کردہ علاقے اور حقوق واپس نہیں کرتا۔ اس لئے اسرائیل ہر طرح سے بھارت کو پاکستان کے خلاف مدد حسب سابق نہ صرف فراہم کرتا رہے گا بلکہ اس میں مزید اضافہ کرے گا۔

اسرائیل کے عرب ممالک میں اثر ورسوخ میں مزید اضافہ نظر آ رہا ہے دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔ ایران کو کمزور کرنے کی اسرائیلی کوششیں عنقریب حملوں اور جنگ میں تبدیل ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہو جائے گی اور اس سے امن کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ نظر آ رہا ہے۔ روس کے ساتھ امریکی تعلقات مزید کشیدہ ہوسکتے ہیں۔ چین کی معیشت کو بوجوہ نقصان پہنچانے اور نقصان پہنچنے کے امکانات ہیں۔ برطانیہ کوئی اہم کردار ادا کرنے کیلئے اچانک سامنے آ سکتا ہے۔ برطانیہ اور روس کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ کو ایسے حالات میں نقصان ہو سکتا ہے۔ بائیڈن دور حکومت میں امریکہ ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جا سکتا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کیلئے پاکستان پر دبائو بڑھ سکتا ہے لیکن پاکستان ایسا نہیں کرے گا۔ مشرق وسطیٰ کےممالک سے وہاں مقیم پاکستانیوں کی بڑے پیمانے پر بیدخلی اور بعض ممالک کی طرف سےویزوں کے اجرا پر پابندی نظر آرہی ہے۔ بھارت اگرچہ پاکستان میں دہشت گردی کروانے کیلئے کوشاں ہے اور پاکستان پر کسی نئے مقام سے حملہ کرنے کی حماقت بھی کر سکتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں بھارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کے امکانات بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔

آنے والے سال میں معاشی طور پر بھارت کی تنزلی اور بربادی نظر آ رہی ہے۔بھارت کے اندرونی انتشار میں اضافے اور علیحدگی کی تحریکوں کی کامیابی کا بھی امکان ہے۔البتہ بھارتی مسلمانوں کی زندگیاں مزید اجیرن ہو سکتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر اور خالصتان میں آزادی کی تحریکیں کامیابی کے قریب نظر آ رہی ہیں۔اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس سے تعلقات استوار کرنے کا عرب ممالک کو کوئی فائدہ نہ ہو گا سوائے امریکی اشیر باد کے، البتہ ان ممالک کو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کو بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے سے کسی طرح کا فائدہ نہیں ہو گا البتہ نقصان ہو سکتا ہے۔ اس معاملہ میں مقبوضہ کشمیر کے مسئلہ کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ کورونا کی وبا ختم ہو جائے گی لیکن اس سے زیادہ مہلک اور خطرناک وبا یا کوئی آفت آنے کا امکان ہے۔

جہاں تک پاکستان کی اندرونی صورتحال کا تعلق ہے تو پاکستانی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔ اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاروں کی توجہ میں اضافہ کا رجحان بن رہا ہے۔ ٹیکسٹائل کے شعبہ میں جمود ختم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مہنگائی میں فی الحال کمی کا امکان نہیں بلکہ مزید اضافہ نظر آ رہا ہے۔ سیاسی طور پر بھی بعض اہم تبدیلیوں کا امکان ہے۔ نظام بھی تبدیل ہو سکتا ہے اس سے پہلے ملک میں سیاسی افراتفری میں اضافہ نظر آ رہا ہے۔دعا ہے کہ جو کچھ بھی ہو ملک و قوم کیلئے بہتر ہو۔

تازہ ترین